امریکہ پرانی عدلیہ کی بحالی پرزوردے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ اور برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں قید وکلاء، ججوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رہائی، تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی اور آئین کی حکمرانی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ تنظیم نے پاکستان کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف رسمی بیانوں کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں نمائندے علی دایان حسن نے کہا کہ خارجہ پالیسی جو پاکستان کی فوج کو جہموریت کی قیمت پر خوش کرنے کی بنیاد پر چلائی جائے وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ انہوں نےکہا کہ اگر امریکہ اور برطانیہ پاکستان کے سیاسی مستقبل اور استحکام کے خواہاں ہیں تو انہیں پاکستان میں تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی طرف سے نافذ کیئے گیے ہنگامی حالات کے اٹھائے جانے کے باوجود اب بھی درجنوں وکلاء، جج اور حکومت کے مخالفین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی پاکستان کی صورت حال کےبارے میں چوارسی صفحات پر مشتمل تازہ ترین رپورٹ ’عدلیہ کی تباہی: پاکستان میں وکلاء اور ججوں پر جبر‘ کے عنوان سے شائع کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں تین نومبر کے بعد وکلاء پر پولیس تشدد، گرفتاریوں اور گرفتار شدہ وکلاء کے ساتھ زیادتیوں کے عینی شاہدوں کے بیانات پر قلمبند کیئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں ملک کی مختلف اضلاع اور چاروں ہائی کورٹس کے احاطوں کے اندر آئین کی معطلی اور ہنگامی حالات کے نفاذ کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے وکلاء پر پولیس کے بہیمانہ تشدد اور لاٹھی چارج کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ اس بات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے کہ کسی طرح صدر مشرف نے اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے کے نام پر ہنگامی حالات نافذ کرکے ملک کی عدلیہ کو بے اختیار کیا اور وکلاء اور دیگر طبقعوں سے اپنے مخالفین اپنے غیر قانونی اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں نمائندے علی دایان نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں سیاسی جماعتوں نے ملک میں فوجی آمریت کے لیے اتنی قربانیاں اور جدوجہد نہیں کی ہے جتنی گزشتہ آٹھ ماہ میں وکلاء برادری کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق نو مارچ سن دو ہزار سات کے بعد وکلاء کی طرف سے جانے والی جدوجہد اور عدلیہ کی طرف سے اپنے اختیارات کے استعمال کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری نظام کی بحالی کی طرف سے ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے واضح کیا ہے کہ صدر مشرف کی طرف سے آئین میں کی گئی ترامیم کی وجہ حکومت کو مزید اختیارات حاصل ہو گئے ہیں جن کے تحت کسی بھی وکیل کو وکالت سے باہر کیا جا سکتا ہے اور فوج کو کسی بھی شہری پر ایسے الزامات کی بنیاد پر مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے جو کہ اس سے پہلے ملک کی عدالت کو حاصل تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کے برطرف کیئے جانے والے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے گھر والے اب بھی نظر بند ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے دیگر جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور وکلاء کے نمائندے جن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، ریٹائرڈ جسٹس طارق محمود اور بار کے سابق نائب صدر علی احمد کرد شامل ہیں گھروں یا جیلوں میں بند ہیں۔ ملک کے ذرائع ابلاغ پر بھی پابندیاں عائد ہیں اور وہ انتخابی مہم کو بھی آزادانہ طور پر اپنے سامعین تک پہنچانے سے قاصر ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس ماحول میں ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا تصو ر نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلیوں کی طویل تاریخ کے پیش نظر آزادانہ عدلیہ ہی آزادنہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی واحد امید تھی۔ فوج کی پشت پناہی رکھنے والے صدر کی موجودگی میں جس نے آزاد عدلیہ سے جان چھڑانے کے لیے ملک کے آئین کو معطل کر دیا ایسے انتخابات نہیں کروا سکتا جس میں اس کے مخالفین حکومت میں آ جائیں۔ علی دایان نے کہا کہ ملک میں آزادانہ انتخابی مہم ممکن ہی نہیں جب ذرائع ابلاغ پر پابندی ہو سول سوسائٹی کے سرکردہ لوگ جیلوں میں ہوں اور ملک کی عدلیہ کو ختم کرکے اپنے پسند کے جج مقرر کر لیے گئے ہوں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||