BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئین میں فوج حکومت کی تابع‘

اعتزاز احسن
’پندرہ نومبر کے بعد جنرل مشرف صدر کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے‘
ایڈووکیٹ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوجی مداخلت کی وجہ سے تین مرتبہ آئین بنائے گئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی بھی آرمی افسر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ ریمارکس انہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور صدر کی طرف سے وردی میں آئندہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر بطور عدالتی معاون کے کہی۔

فوجی کا حلف
 آئین کے مطابق ایک فوجی جب کمیشن حاصل کرتا ہے تو وہ حلف اُٹھاتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لےگا۔پرویز مشرف کا صدر منتخب ہونے کی صورت میں آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا وعدہ ایسا ہی ہے جیسے ایک مسلم شخص عہدہ صدارت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ مسلمان ہوجائیں گے۔
اعتزاز احسن

انہوں نے کہا کہ فوج کو بیرکوں اور سرحدوں پر رہنا چاہیے اور انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق آرمی چیف وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرتا ہے لیکن پاکستان میں تو ایک آرمی چیف وفاقی حکومت کو کنٹرول کر رہا ہے۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ آرمی چیف ملک کے صدر بھی ہیں اور فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر چونکہ وفاق کی علامت ہوتا ہے اس لیے اُس کو فوج کا سپریم کمانڈر قرار دیا جاتا ہے جس طرح برطانیہ میں ملکہ برطانیہ فوج کی سپریم کمانڈر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر وردی میں رہ کر آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایک آرمی چیف کو الیکشن لڑنے کے لیے آئین کی دفعہ دو سو تنتالیس اور دو سو چوالیس کے تحت جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنا ہوگا اور اس ضمن میں آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

اعتزاز احسن نےکہا کہ آئین کے مطابق ایک فوجی جب کمیشن حاصل کرتا ہے تو وہ حلف اُٹھاتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لےگا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف وردی میں اس لیے الیکشن لڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ چیف آف دی آرمی سٹاف نہ رہے تو وہ الیکشن ہار جائیں گے۔ انہوں نے شریف الدین پیرزادہ کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف صدارتی انتخاب میں کامیابی کی صورت میں آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بیان ایک ایسی مثال کی طرح ہے کہ ایک غیر مسلم شخص عہدہ صدارت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں عہدہ صدارت کے لیے امیدوار کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا اس طرح جج صاحبان بھی اپنا عہدہ رکھتے ہوئے صدر کا الیکشن لڑسکتے ہیں جس پر رانا بھگوان داس نے کہا کہ انہیں صدر کا الیکشن لڑنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔

حق پارلیمنٹ نے ہی دیا
 صدر کا عہدہ مستثنی ہوتا ہے اور ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔ جنرل مشرف کے الیکشن میں حصہ لینے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی ان پر نااہلی کے بارے میں آئین کی دفعہ تریسٹھ ون ڈی کا اطلاق ہوتا ہے۔ صدر کے دو عہدے رکھنے اور سترہویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے۔
عبدالحفیظ پیرزادہ
اعتزاز احسن نے کہا کہ کوئی فوجی اہلکار سیاست میں حصہ لیتا ہے تو وہ اپنے حلف سے غداری کرتا ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی فوجی کو سیاست میں ملوث کرتا ہے تو وہ بھی سزا کا مرتکب ہوتا ہے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ ایک سو اکتیس کے تحت اس کی سزا دس سال ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف آئین کی دفعہ تریسٹھ کلاز ون کی سب کلاز او کے تحت صدر منتخب نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ ون ڈی جنرل مشرف پر بھی پوری طرح لاگو ہے اور ان کے بطور صدر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے چاہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پندرہ نومبر کے بعد جنرل مشرف صدر کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ جنہیں عدالت نے ان درخواستوں میں معاون کے طور پر بلایا تھا نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کا عہدہ مستثنی ہوتا ہے اور ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے الیکشن میں حصہ لینے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی ان پر نااہلی کے بارے میں آئین کی دفعہ تریسٹھ ون ڈی کا اطلاق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صدر کا مواخذہ کرسکتی ہے اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں جو نکات اُٹھائے گئے ہیں ان پر فیصلے قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی درخواستوں میں آچکے ہیں۔ جس پر جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ عدالت ان نکات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ فیصلوں کا جائزہ تو لیا جا سکتا ہے لیکن ان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے اور سترہویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے۔ ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعہ کے روز تک ملتوی کردی۔ ان درخواستوں پر فیصلہ جمعہ کے روز متوقع ہے۔

اسی بارے میں
سراسیمگی نہ پھیلائیں: عدالت
27 September, 2007 | پاکستان
’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘
26 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد