BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں انتخابات ملتوی

پاکستان میں سیکورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود صرف کرم ایجنسی میں انتخاب ملتوی کیے گئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کے مطابق گزشتہ روز ایک انتخابی امیدوار کے دفتر کے سامنے ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں سنتالیس افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں پیر کو ہونےوالے عام انتخاب ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آپر کرم ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ فدا محمد نے بی بی سی کو تصدیق کر کے بتایا کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے بعد قومی اسمبلی کا حلقہ این اے سینتیس 37 پارہ چنار میں الیکشن ملتوی کر دیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹفیکشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق پارہ چنار میں انتخاب امیدواروں کی طرف سے تحریری درخواستوں کے بعد ملتوی کردیا گیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کا دوسرا حلقہ این اے اڑتیئس پر انتخاب مقررہ شیڈول کے مطابق یعنی کل منعقد ہوگا۔

ادھر ہسپتال ذرائع کےمطابق گزشتہ روز دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے سات مزید افراد نے رات کو ایجنسی ہیڈکواٹرز ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے اس طرح واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب سنتالیس تک پہنچ گئی ہے۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کےمطابق دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے کوہاٹ اور پشاور منتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ پارہ چنار شہر میں کشیدگی کے باعث کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

اے پی اے نے بتایا کہ جائے وقوعہ سےحکام کو ایک سر بھی ملا ہے جو ان کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آوار کا ہو سکتا ہے۔

ادھر قومی اسمبلی کےحلقہ این اے 37 کے لیے ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے ان کے دفتر کے باہر ہونے والا مبینہ خودکش حملہ فرقہ واریت نہیں بلکہ ملک میں جاری تشدد کی واقعات کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد ان کے مطابق انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہیں لیکن امیدوار اپنے آپکو کسی سیاسی جماعت سے منسلک کر لیتے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ایک عینی شاہد اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز فاٹا کے جنرل سیکرٹری مرزا محمد جہادی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ کچھ علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پارہ چنار شہر میں پیپلز پارٹی کے ایک انتخابی دفتر کے سامنے کار بم خودکش حملے میں ابتدائی طور پر چالیس افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

کرم ایجنسی گزشتہ ڈیڑھ سال سےفرقہ ورانہ فسادات کی زد میں رہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک، زخمی اور بےگھر ہوچکے ہیں اور حال ہی میں یہاں پر سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد