’انتخابات:مداخلت پر کارروائی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے ناظمین کو خاص طور پر متنبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے یا مداخلت کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں ورنہ اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی جو اُن کی نااہلیت پر مُنتج ہوسکتی ہے۔ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے قاضی فاروق نے کہا کہ انتخابی کمیشن نے منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے اور انتخابی نتائج کے تقدس کو ہر مرحلے پر قائم رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کرلیے ہیں جن میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’پولنگ سٹیشنز پر نہ صرف پولیس اورنیم فوجی دستے موجود ہوں گے بلکہ حساس علاقوں میں فوج بھی سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے موجود ہوگی۔ انشاء اللہ کل قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات پُرامن اور سازگار ماحول میں منعقد ہوں گے اور دھاندلی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی‘۔ انہوں نے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ایک دوسرے کا احترام کریں۔ ’مجھے امید ہے کہ کل کے انتخابات میں ان اقدار کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن بھی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوشاں ہے کہ انتخابی عمل شفاف ہو اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔’ریٹرننگ افسر صاحبان کی تقرری زیادہ تر عدلیہ کے افسران پر مبنی ہے ماسوائے چند ایک انتخابی حلقوں میں، جہاں عدلیہ کے افسران دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے حلقوں میں اچھی شہرت کے حامل انتظامیہ کے افسران کو مقرر کیا گیا ہے‘۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ’انتخابات کے غیر جانبدارنہ انعقاد کو پرکھنے کیلئے غیر ملکی مبصرین کا مشاہدہ بین الاقوامی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ ہمارے انتخابی عمل کا مشاہدہ کرنے کے لیے کثیر تعداد میں بیرون ملک سے نمائندے بطور مبصر تشریف لا چکے ہیں۔ ہم ان تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہیں پولنگ کے مقامات پر آنے جانے کی مکمل آزادی ہوگی جس کے لیے الیکشن کمیشن نے انہیں ضروری دستاویزات فراہم کردی ہیں‘۔ انہوں نے تمام ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ پیر کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بلاخوف و خطر اپنے گھروں سے نکلیں اور پولنگ سٹیشنز جائیں۔’میں خاص طور پر خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انتخابی عمل میں بھر پور حصہ لیں اور ملک کی ترقی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اِس ضمن میں، میں یہ انتباہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی امیدوار نے خواتین کو اُن کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی تو اُس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اگر کسی نے انتخابات کی غیر جانبداری کو متاثر کرنے کی کوشش کی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ’پولنگ کے روز امن و امان اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنا اور ووٹرز کو تحفظ فراہم کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کریں گے‘۔ انہوں نے دعا کی کہ انتخابات کے منصفانہ انعقاد کے بعدمکمل جمہوریت بحال ہو جو ان کی حقیقی اور اصل منزل ہے۔’میں آپ کوپھر یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات مکمل امن و امان کی فضاء میں منعقد ہوں گے اور انشاء اللہ ہر حوالے سے ایماندارانہ، غیر جانبدارانہ، منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق ہوں گے اور اِسی بنا پر میں تمام امیدواران اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انتخابات کے نتائج کو خندہ پیشانی اور خوشدلی سے تسلیم کریں‘۔ |
اسی بارے میں ’شفاف انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری‘07 February, 2008 | پاکستان انتخابات تو ڈھونگ ہیں: اپوزیشن 06 February, 2008 | پاکستان انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد01 February, 2008 | پاکستان انتخابات کے خلاف پمفلٹ تقسیم14 February, 2008 | پاکستان انتخابات لڑنے پر رکنیت منسوخ07 February, 2008 | پاکستان ’انتخابات منصفانہ اور پُرامن ہونگے‘24 January, 2008 | پاکستان انتخابات، جماعتیں اور منشور17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||