BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 February, 2008, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارہ چنار دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ

پارہ چنار دھماکہ
دھماکے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں سنیچر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سنتالیس ہو گئی ہے جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

ادھر دھماکے سے شدید خوف و ہراس اور کشیدگی پھیلنے کے بعد حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

ہسپتال ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے مزید سات افراد دم توڑ گئے ہیں جبکہ متعدد کی حالت نازک ہے۔ شدید زخمی افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل کرم ایجنسی کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ فدا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دھماکہ میں چالیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیٹکل ایجنٹ نے بتایا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کو انتخابی دفتر کے سامنے کھڑی فلائنگ کوچ سے ٹکرا دیا۔

قبائلی علاقے میں سیاسی جماعتوں کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے لیکن آزاد امیدوار اپنے آپ کو مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک کر کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام کو پارہ چنار بازار میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے سینتالیس کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کےامیدوار ریاض حسین شاہ کے دفتر کے سامنے ان کےحامی کھڑے تھے کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے پانچ منٹ بعد جب میں اٹھا تو اتنی بڑی تعداد میں لاشیں اور زخمی پڑے ہوئےتھے کہ باہر نکلنے کے لیے پیر رکھنے کی جگہ تک نہیں تھی لہذا میں مجبوراً ان کے اوپر پیر رکھ کر باہر نکل آیا‘۔
عینی شاہد مبشر حسین

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں بیس سے زائد افراد ہلاک جبکہ ستانوے کے قریب زخمی ہوئے تھے۔واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک عینی شاہد مبشر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابی جلوس کے اختتام پر جب شرکاء دفتر کے سامنے کھانا کھانے میں مصروف تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد انہیں کچھ بھی پتہ نہیں چلا ہے۔

ان کے مطابق’ دھماکے کے پانچ منٹ بعد جب میں اٹھا تو اتنی بڑی تعداد میں لاشیں اور زخمی پڑے ہوئےتھے کہ باہر نکلنے کے لیے پیر رکھنے کی جگہ تک نہیں تھی لہذا میں مجبوراً ان کے اوپر پیر رکھ کر باہر نکل آیا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قریب موجود کئی دکانیں اور گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ان کے مطابق ’اس وقت میں ہسپتال سے باہر ہوں کیونکہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونےکی وجہ سے ہسپتال کے اندر جگہ نہیں ہے لہذا میں اپنے ایک زخمی چچا زاد بھائی کے ہمراہ ہسپتال کے سامنے واقع ایک میڈیکل سٹور پراپنی مرہم پٹی کرا رہا ہوں‘۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں پہلی مرتبہ ایک ایسے وقت میں انتخابی اجتماع کو حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے جب اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم ختم ہونے والی ہے۔

کرم ایجنسی گزشتہ ڈیڑھ سال سے فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں رہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ، زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں اور حال ہی میں یہاں پر سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد