BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 February, 2008, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خود کش نہیں ٹارگٹ کلنگ تھی‘

 نمازِ جنازہ
اتوار کو متعدد افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کر دی گئی
صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں سنیچر کو عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی میں ہونے والے دھماکے میں اے این پی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکومت نے اب تک تئیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اے این پی نے دھماکے کو ’ ٹارگٹ کلنگ ’ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما اور چارسدہ سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار سید معصوم شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ اتوار کو متعدد افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کر دی گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’ٹارگٹ کلنگ ’ کا نتیجہ ہے جس کا مقصد ان کے مطابق اے این پی کی اعلٰی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے حکومت کے اس دعوے کی بھی سختی سے تردید کی جس میں حملے کو خودکش قرار دیا گیا ہے۔ سید معصوم شاہ کے مطابق ’حکومت جان چھڑانے کے لیے اسے خودکش حملہ قرار دے رہی ہے۔ دھماکے کے پانچ منٹ بعد حکومت نے بغیر کسی تحقیق کے کہنا شروع کر دیا کہ یہ خودکش حملہ تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ پر چار پانچ فٹ کا گہرا گڑھا پڑ گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بم حملہ تھا اور جس کا نشانہ اے این پی کی صوبائی کی قیادت تھی۔ ایک سوال کے جواب میں اے این پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت تو اس قسم کے حملوں میں اکثر اوقات القاعدہ اور طالبان کو ملوث قرار دیتی ہے لیکن یہ ان کا کام نہیں ہوسکتا۔

ان کے بقول ’ہمارا طالبان یا القاعدہ سے کیا جھگڑا ہے، نہ تو کبھی ہماری مرکزی سطح پر حکومت رہی ہے اور نہ کبھی ہماری پارٹی کی حکومت میں ان کے خلاف کوئی آپریشن ہوا ہے۔ وہ ہمیں کیونکر نشانہ بنائیں گے؟‘

اے این پی نے اتوار کو احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

ادھر صوبائی وزیر اطلاعات سید امتیاز گیلانی کے مطابق دھماکے میں اب تک تئیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ اکسٹھ افراد زخمی ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے مختصر بات چیت کے دوران بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم آئی جی انوسٹیگیشن کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر کے بقول دھماکے کے بعد ایک مشتبہ سر ملنے پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا تاہم اس سلسلے میں حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قائم کی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ ضلع چارسدہ میں گزشتہ دس ماہ کے دوران تین دھماکے ہوئے ہیں جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں دو خودکش حملے تھے جس کا نشانہ پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ تھے جبکہ حالیہ حملہ بم دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان: ایک ہلاک تین زخمی
29 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد