احمدرضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | چار حلقوں کے نتائج کی مصدقہ نقول فراہم نہیں کی گئیں تھیں |
سندھ ہائی کورٹ کراچی نے سنیچر کو الیکشن کمیشن کو آئندہ تین دنوں تک قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں کے نتائج کا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے روک دیا ہے جہاں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ عدالت نے یہ حکم قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 اور سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 89، 90، 93 اور 128 کے لئے جاری کیا ہے۔ یہ چاروں حلقے کراچی میں واقع ہیں اور الیکشن کمیشن کے جاری کردہ غیرسرکاری نتائج کے مطابق ان میں این اے 239، پی ایس 89 اور 90 سے پیپلز پارٹی اور پی ایس 93 اور 128 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں نے ایم کیو ایم کے امیدواروں کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی تھی۔ ان حلقوں سے شکست کھانے والے ایم کیو ایم کے امیدواروں نے سینئر وکیل ابرار حسن کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں درخواستیں داخل کی تھیں جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’انتخابات کے دن ان حلقوں میں دھاندلی کی گئی اور ووٹوں کی گنتی کے بعد متعدد پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائڈنگ افسران نے نتائج کی مصدقہ نقول ایم کیو ایم کے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو فراہم نہیں کئیں حالانکہ این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت وہ اس بات کے پابند تھے۔‘ درخواستوں میں اپیل کی گئی ہے کہ ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرائی جائے۔ عدالت نے ان حلقوں میں نتائج کے اجراء کے خلاف عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو درخواستوں کی آئندہ سماعت تک ان حلقوں کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا ہے اور سماعت چھبیس فروری تک ملتوی کردی ہے۔ |