BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 20 February, 2008 - Published 14:22 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ کو نظرانداز کرنا آسان نہیں

ایم کیو ایم
ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی انیس اور سندھ اسمبلی کی اڑتیس نشستیں جیتی ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی عام انتخابات میں سندھ اسمبلی کی اکثریتی نشستیں حاصل کرنے کے بعد اگرچہ اب تنہا ہی حکومت بنانے کی قوت رکھتی ہے لیکن شاید برسوں تک دیہی اور شہری تفریق کا شکار رہنے والےصوبے میں حکومت سازی کے عمل میں ایم کیو ایم کو نظرانداز کرنا اس کے لیے اتنا آسان نہ ہو۔

سندھ اسمبلی کی 130 عام نشستوں میں سے اب تک کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 65 اور ایم کیو ایم نے 38 نشستیں حاصل کی ہیں اور اس طرح پیپلز پارٹی صوبے کی سب سے بڑی اور ایم کیو ایم دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

عام انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت ایم کیو ایم سے اتحاد کرسکتی ہے تاہم گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مرکز اور صوبوں میں مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی تو بات کی لیکن ایم کیو ایم کا نام نہیں لیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے سیکرٹری اطلاعات تاج حیدر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے سلسلے میں جو حکمت عملی طے کی ہے اس کے تحت انہی جماعتوں سے اتحاد ہوسکتا ہے جو آمریت کے خلاف جدوجہد کرتی رہی ہیں اور ان کے بقول ایم کیو ایم ایسی جماعت نہیں ہے۔

 سندھ کے شہروں کی تو ایم کیو ایم نمائندگی نہیں کرتی یہ تو آپ نے ایک جھوٹا تصور بنا رکھا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سندھ کے شہر جو ہیں آمریت کے ساتھ ہیں ایسی بات نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’اب ہمارے عوام کا سیاسی شعور اس سطح پر ہے کہ جہاں وہ ہر قسم کی بلیک میلنگ کا مقابلہ کر سکتی ہے
تاج حیدر

ان کا کہنا ہے کہ’2002ء تک ایم کیو ایم کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ ایک اسٹیبلشمینٹ مخالف جماعت ہے لیکن اسکے بعد انہوں نے جس طرح سے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اقتدار میں رہ کر آمریت کا ساتھ دیا ہے تو اسکے بعد اسکا وہ تاثر باقی نہیں ہے‘۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے لئے حکومت میں شامل ہونا یا نہ ہونا ثانوی بات ہے اور بنیادی بات یہ ہے کہ جو حکومت بن رہی ہے اس کا پروگرام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا ہماری ترجیحات مثلاً امن و استحکام اور انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف صدر مشرف کی پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے کیا پروگرام ہے کیونکہ ہمیں صدر مشرف سے زیادہ ان کی پالیسیوں سے دلچسپی ہے‘۔

واضح رہے کہ سندھ کے گورنر کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی ہے۔ فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارے لیے حکومت میں شمولیت زندگی اور موت کا مسئلہ تو ہے نہیں۔اگر ان (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ) کا ملک کے ان مسائل پر مؤقف واضح نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اگر ہم حکومت میں نہیں جاتے تو اپوزیشن میں رہ کر حکومت میں شامل جماعتوں کو بے نقاب کریں گے‘۔

ایم کیو ایم نے کراچی اور اندرون سندھ کے دوسرے شہروں سے قومی اسمبلی کی انیس اور سندھ اسمبلی کی اڑتیس نشستیں حاصل کی ہیں اور اسے بلاشبہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کہا جا سکتا ہے۔

News image
 ہمارے لیے حکومت میں شمولیت زندگی اور موت کا مسئلہ تو ہے نہیں۔اگر ان (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ) کا ملک کے ان مسائل پر مؤقف واضح نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اگر ہم حکومت میں نہیں جاتے تو اپوزیشن میں رہ کر حکومت میں شامل جماعتوں کو بے نقاب کریں گے۔
فاروق ستار

سینئر صحافی غازی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے بغیر حکومت کرنے میں خود پیپلز پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔’ایم کیو ایم کے بغیر حکومت کرنے میں پی پی کو عملی مشکلات بہت ہوں گی کیونکہ کابینہ میں مختلف علاقوں کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہوتی ہے اور کراچی تو اتنا اہم شہر ہے تو میرے خیال میں حکومت کے ٹھیک سے چلنے کے لیے مفاہمت کی بہت ضرورت ہے ایسے ماحول میں خاص طور پر کیونکہ جو شہروں کے احتجاج کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے‘۔

تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر ان کی اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’سندھ کے شہروں کی تو ایم کیو ایم نمائندگی نہیں کرتی یہ تو آپ نے ایک جھوٹا تصور بنا رکھا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سندھ کے شہر جو ہیں آمریت کے ساتھ ہیں ایسی بات نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’اب ہمارے عوام کا سیاسی شعور اس سطح پر ہے کہ جہاں وہ ہر قسم کی بلیک میلنگ کا مقابلہ کر سکتی ہے‘۔

پیپلز پارٹی صوبہ سندھ میں حکومت سازی میں عوامی نیشنل پارٹی کو بھی شامل کر سکتی ہے جس نے سندھ اسمبلی میں پہلی بار دو نشستیں حاصل کی ہیں تاہم اگر ایم کیو ایم اقتدار میں شریک نہ ہوئی تو پچھلی حکومت میں اپنی حلیف جماعتوں مسلم لیگ قاف، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سندھ اسمبلی میں مضبوط حزب اختلاف تشکیل دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم صدر پرویز مشرف حامی وہ واحد جماعت ہے جس نے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں حالیہ انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔

منظور وٹوآزاد کتنے’ آزاد ‘؟
حکومت سازی، آزاد ارکان پر سب کی نظر
نواز شریف اور آصف زرداری’بات دو تہائی کی‘
ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
’ایک پرچی کی مار‘’ایک پرچی کی مار‘
عوام کو جاہل، ان پڑھ سمجھنے کی سزا؟
عوام کا جواب
نہ مشرف نہ مُلا اور نہ مسلم لیگ (ق)
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
اسی بارے میں
مشرف مخالف جماعتوں کی جیت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
نئی اسمبلی کے نئے چہرے
19 February, 2008 | الیکشن 2008
عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف
19 February, 2008 | الیکشن 2008
بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع
18 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد