مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے انتخابات میں سب جماعتوں سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا ’ہم ہی نہیں پوری قوم صدر مشرف کو یہ یاد دلا رہی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ یہ تو مینڈیٹ کہہ رہا ہے، صرف میں نہیں کہہ رہا اور فیصلہ آ چکا ہے کہ (مسلم لیگ) کیو ہار چکی ہے۔ اب ہم اس کو (استعفے کے مطالبے کو) آگے لے کر پارلیمنٹ میں پہنچیں گے اور دیکھیں گے کون کون ہمارا ساتھ دیتا ہے، کونسی پولیٹکل فورسز ہمارا ساتھ دیتی ہیں۔‘ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں تاحال ستاسی نشستیں جیتنے والی پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں آصف زرداری نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کو سیاسی جماعت نہیں مانتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن)، اے این پی، ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ سمیت تمام جماعتوں سے بات کریں گے۔
’میں تو پہاڑ پر چڑھے ہوئے ( صوبائی حقوق کے لیے حکومت سے لڑنے والے مری اور بگٹی قبائل) بلوچوں سے بات کرنا چاہتا ہوں، ہم نظام بدلنا چاہتے ہیں، صوبوں کو خودمختاری دینا چاہتے ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ’میں ان تمام جماعتوں سے اتحاد کروں گا جو ہماری شہید قائد بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے مطالبے کی حمایت کریں۔‘ صدر مشرف سے رابطے یا ملاقات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی نے انہیں اس کی اجازت دی تو وہ اس بارے میں سوچیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے تاحال وزیراعظم کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا اور اس بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا کہ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کی پہلی اور آخری بات ججوں کی بحالی ہے اور اس کے بناء کسی سے تعاون نہیں کریں گے تو آصف علی زرداری نے کہا کہ ’میں اس کو کوزے میں بند نہیں کرنا چاہتا ججوں کے معاملے کو، میں اس میں چاہتا ہوں کہ پارلیمنٹ پاور فل ہو جائے اور ہم یہ طے کر دیں کہ کون جج ہے، کس طرح کا جج ہے اور کس طرح جج بنتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم پہلے بھگت چکے ہیں اس بات میں کہ جی یہ شریف آدمی ہے اسے جج بنا دیا جائے، اس نے فلاں فیصلہ اچھا کیا تھا اس لیے اس کو جج بنا دیا جائے۔ ہم نے ایک صاحب کو جج بنایا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت کے زمانے میں اور ان کا ریکارڈ بھی بڑا اچھا تھا اور بھی بڑی باتیں اچھی تھیں اور وہ بھی بڑی باتیں کرتے تھے تو جب وقت آیا تو پھر وہ بھول گئے کہ اصول کیا ہیں اور باتیں کیا ہیں اور اس زمانے کے ایک سیاستدان کے ساتھ مل کر انہوں نے ہماری حکومت برطرف کر دی۔ نتیجے میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں مارشل لاء لگا، ملک میں ہزاروں آدمیوں نے اپنی جان دی اور ہماری بی بی بھی شہید ہو گئیں۔‘
ان سے جب پوچھا کہ اطلاعات کے مطابق صدر پرویز مشرف کے بعض نمائندوں نے حالیہ دنوں میں ان کی جماعت سے رابطے کیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’پارٹی کا ہر حکومت سے ہمیشہ ڈائیلاگ رہا ہے، ہمارے لوگ جیلوں میں تھے، ہمارے لاکھوں لوگوں پر ایف آئی آر تھیں تو ضرور قائم علی شاہ نے ان سے رابطہ قائم کیا، دوسرے دوستوں نے رابطہ قائم کیا۔ یہ رابطہ تو حکومتوں سے ہوتا ہے، جب دو فوجیں بھی لڑتی ہیں تو جنرلوں کا آپس میں کوئی نہ کوئی رابطہ تو ہوتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||