BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن 08: کون جیتا، کون ہارا


پاکستان میں سوموار کے عام انتخابات کے غیر سرکاری نتائج موصول ہو رہے ہیں جن کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔صدر جنرل پرویز مشرف نے رات گئے سرکاری ٹی وی آکر پرامن انتخابات پر مسرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو نتائج کو قبول کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ نون نے لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور وہ پنجاب کے دیگر شہری علاقوں سے بھی بڑی کامیابی حاصل کر رہی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

بہت سے حلقوں میں اہم سیاسی شخصیات کو شکست کا سامنا ہے۔ ان میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین کو اپنے گڑھ گجرات اور سیالکوٹ، سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کو اپنے آبائی شہر راولپنڈی میں دونوں حلقوں میں شکست ہوئی ہے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین سیالکوٹ سے اور جمیعت علما اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ناکامی ہوئی ہے جبکہ بنوں میں انہیں کامیابی ملی ہے۔

چودھری پرویز الہی پنجاب سے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی کی دو نشستوں سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے اور انہیں بہاولپور اور چشتیاں سے ایک ایک نشت پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


صوبہ پنجاب



پنجاب سے موصول ہونے والے قومی اسمبلی کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اپنے آبائی شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری احمد مختار کے ہاتھوں شکست کھا گئے ہیں۔ اس حلقے سے احمد مختار نے 77072 جبکہ چودھری شجاعت حسین 63797 ووٹ حاصل کر سکے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ راولپنڈی سے پانچ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے شیخ رشید احمد حلقہ این اے پچپن اور چھپن سے شکست کھا گئے ہیں۔سیالکوٹ میں سپیکر قومی اسمبلی چودہری امیر حسین پیپلز پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان سے ہار گئے جبکہ این اے ایک سو دس میں مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف جیت گئے ہیں۔

میانوالی میں این اے بہتّر سے مسلم لیگ قاف کے سابق وزیر شیر افگن نیازی حمیر حیات روکھڑی سے شکست کھا گئے ہیں۔این اے ایک سو ستانوے رحیم یار خان سے مسلم لیگ ن کے سردار محمد ارشد خان لغاری نے مسلم لیگ قاف کے رئیس منیر احمد کو ہرایا ہے جبکہ این اے ایک سو چار گجرات ایک سے مسلم لیگ قاف کے چوہدری وجاہت حسین کامیاب ہوئے ہیں۔

لاہور کے این اے ایک سو اکیس سے مسلم لیگ نون کے میاں مرغوب احمد نے بہتر ہزار اٹھائیس اور پیپلز پارٹی کے اورنگزیب برکی نے ستائیس ہزار آٹھ سو پینیتس اور مسلم لیگ قاف کے میاں محمدآصف نے سات ہزار پانچ سو اکیس ووٹ حاصل کیے ہیں۔

این اے ایک سو ستائیس لاہور سے مسلم لیگ نون کے نصیر احمد بھٹہ ترپن ہزار چھ سو دو ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں۔یہ وہی حلقہ ہے جہاں پولنگ سے ایک رات قبل مسلم لیگ نون کے پنجاب اسمبلی کے امیدوار آصف اشرف سمیت پانچ افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ لاہور کے این اے ایک سو اکیس سے مسلم لیگ نون کے میاں مرغوب احمد نے بہتر ہزار اٹھائیس اور پیپلز پارٹی کے اورنگزیب برکی نے ستائیس ہزار آٹھ سو پینیتس ووٹ حاصل کیے ہیں۔این اے ایک سو تیس لاہور تیرہ سے ثمینہ خالد جیت گئی ہیں۔

غیر حتمی مکمل نتائج کےمطابق گوجرانوالہ کے ہی این اے اٹھانوے میں مسلم لیگ نون کے رانا نذیر احمد خان ساٹھ ہزار پانچ سو بیاسی ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر عبداللہ ورک انتالیس ہزار دو سو اٹھاسی ووٹ لے سکے ہیں۔

این اے ایک سو چودہ سیالکوٹ پانچ سے مسلم لیگ ن کے زاہد حامد 62351 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شاہ محمود قریشی ملتان سے کامیاب ہوئے ہیں،مسلم لیگ قاف کو چھوڑنے والے سابق وزیر اعلی چودھری منظور وٹو اوکاڑہ سے کامیاب ہوگئےہیں۔

گوجرانوالہ سے ہی این اے ایک سو میں مسلم لیگ قاف کے بلال اعجاز جیت گئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے انسٹھ اٹک تین سے پیپلز پارٹی کے سردار سلیم حیدر کامیاب ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ کا اہم ترین نتیجہ کےمطابق مسلم لیگ قاف کے حامد ناصر چٹھہ ہار گئے ہیں۔مسلم لیگ نون کے جسٹس ریٹائرڈ افتحار احمد چیمہ سے ترانوے ہزار ستانوے ووٹ حاصل کیےہیں جبکہ حامد ناصر چٹھ اڑسٹھ ہزار ستاسی ووٹ لے سکے ہیں۔ گوجرانوالہ کے این اے پچانوے میں مسلم لیگ نون کے امیدوار بیرسٹر عثمان ابراہیم نے پیپلز پارٹی کے ذیشان الیاس کو شکست دی ہے۔

این اے اٹھانوے میں پیپلز پارٹی کے امتیاز صفدر وڑائچ بیالیس ہزار نوسو چوبیس ووٹ حاصل کرچکے ہیں اور دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نون کے میاں آصف عقیل ہیں۔

این اے رحیم یار خان ایک 192 سے پیپلز پارٹی کے سید حامد سعید کاظمی نے 65227 ووٹ حاصل کر کے جیتے ہیں جبکہ مسلم قاف کے امیدوار مخدوم احمف عالم انور 45270 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 196 رحیم یار خان پانچ سے پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال وڑائچ 52079 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 197 رحیم یار خان چھ سے مسلم لیگ ن کے ارشد خان لغاری کامیاب ہوئے ہیں۔

لاہور میں این اے ایک سو چوبیس سے مسلم لیگ نون کے روحیل اصغر اکہتر ہزار ایک سو بہتر ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں۔اس سیٹ سے پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے۔یہاں سے پیپلز پارٹی کے ایاز عمران نے تئیس ہمار تین سو اکہتر ووٹ حاصل کیے ہیں۔سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ قاف کے امیدوار ہمایوں اختر خان نے دس ہزار آٹھ سو بہتر ووٹ حاصل کیے۔

قومی اسمبلی کے این اے ایک سو اٹھارہ سے مسلم لیگ قاف کے میاں اظہر تیسرے نمبر پرآئے ہیں انہوں نے گیارہ ہزار تہتر ووٹ لیے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے ملک ریاض پچپن ہزار نوسو ووٹ لیکر پہلے اور پیپلز پارٹی کے آصف ہاشمی چوبیس ہزار سات سو بارہ ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔


صوبہ سندھ

پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے غیرسرکاری نتائج کے مطابق اندرون سندھ کے زیادہ تر حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو مسلم لیگ قاف اور مسلم لیگ فنکشنل کے امیدواروں پر برتری حاصل ہے۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے اہم رہنما سید مظفر حسین شاہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر اپنے آبائی حلقے سے ہار گئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ قاف کے امیدوار لیاقت علی جتوئی اپنے آبائی حلقے این اے 232 دادو میں ہار گئے ہیں اور یہ نشست پیپلز پارٹی کے امیدوار رفیق احمد جمالی نے جیت لی ہے

این اے 221 حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سید امیر شاہ جاموٹ نے مسلم لیگ قاف کے سید شہاب الدین شاہ حسینی کو اور این اے 233 دادو سے پیپلز پارٹی کے طلعت اقبال مہیسر نے مسلم لیگ قاف کے مضبوط امیدوار احسان علی جتوئی کو ہرادیا ہے۔

این اے دو سو چار میں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی چئرپرسن غنوی بھٹو کو پیپلز پارٹی کے امیدوار شاہد حسین بھٹو نے شکست دی ہے جنہوں نے 87528 ووٹ حاصل کئے جبکہ غنوی بھٹو صرف 7835 ووٹ حاصل کر سکیں۔این اے 238 ٹھٹھہ میں مسلم لیگ قاف کے امیدوار سید ایاز شاہ شیرازی نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ارباب وزیر میمن کو شکست دیدی ہے۔

این اے 249 کراچی میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالحبیب میمن کو شکست دیدی ہے۔ یہ ایم کیو ایم کا روایتی حلقہ ہے تاہم پیپلز پارٹی کے امیدوار کے 61500 ووٹوں کے مقابلے میں ڈاکٹر فاروق ستار نے 73000 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 250 میں ایم کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت نے پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ کو ہرایا ہے۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ این اے 244 کراچی میں ایم کیو ایم کے امیدوار شیخ صلاح الدین جیت گئے ہیں۔ این اے 220 حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے امیدوار صلاح الدین نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ این اے 246 کراچی میں بھی ایم کیو ایم کے امیدوار سفیان یوسف کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ایم کیو ایم کی روایتی نشستیں ہیں۔

این اے 198 سکھرمیں پیپلز پارٹی کے امیدوار نعمان اسلام شیخ اور این اے 199 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید خورشید شاہ اور این اے 202 شکارپور سے غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 226 میرپورخاص میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار آفتاب حسین شاہ جیلانی نے ایم کیو ایم کے پروفیسر خورشید کو شکست دی ہے۔ آفتاب شاہ جیلانی پچھلےانتخابات میں بھی اسی نشست سے کامیاب ہوئے تھے۔

این اے 229 تھرپارکر میں مسلم لیگ قاف کے امیدوار ارباب ذکاء اللہ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار مہیش کمار ملہانی کو ہرادیا ہے۔ ارباب ذکاء اللہ سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کے بھانجے ہیں۔ این اے 236 سانگھڑ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار روشن جونیجو نے مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار جام معشوق علی کو شکست دی ہے۔جام معشوق علی سابق وزیر اعلی سندھ جام صادق کے بیٹے ہیں اور یہ مسلم لیگ فنکشنل کا مضبوط حلقہ رہا ہے۔

این اے 210 کشمور میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے امیدوار نصراللہ خان بجارانی نے پیپلز پارٹی کے شہریار خان مزاری کو شکست دیدی ہے جبکہ این اے 223 ٹنڈو الہ یار میں پیپلز پارٹی کی امیدوار شمشاد ستار بچانی نے مسلم لیگ قاف کی امیدوار ادیبہ گل مگسی کو ہرا دیا ہے۔

این اے 227 میرپورخاص عمرکوٹ میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور نے سید قربان علی شاہ کو شکست دی ہے۔این اے 248 کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نبیل احمد گبول نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ حلقہ لیاری اور اس کے اطراف کے علاقوں پر مشتمل ہے جو پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔

این اے 219 حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے امیدوار طیب حسین نے پیپلز پارٹی کے امیدوار علی محمد سہتو کو شکست دیدی ہے۔ این اے 201 گھوٹکی میں سابق وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار احمد خان کو ہرادیا ہے۔ پچھلے انتخابات میں بھی علی محمد مہر اسی حلقے سے آزاد حیثیت میں ہی منتخب ہوئے تھے لیکن پھر انہوں نے پرویز مشرف کی حامی سندھ کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

این اے 208 پیپلز پارٹی کے اعجاز حسین جکھرانی نے نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو کے بھانجے فہد ملک کو شکست دیدی ہے۔ فہد ملک مسلم لیگ قاف کے امیدوار تھے۔ اس نشست کے لئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر الہی بخش سومرو بھی امیدوار تھے لیکن وہ بھی نہیں جیت سکے۔ این اے 225 بدین ٹنڈو محمد خان میں پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مسلم لیگ قاف کی یاسمین شاہ کو ہرادیا ہے۔این اے 235 سانگھڑ میں مسلم لیگ فنکشنل کے غلام دستگیر راجڑ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور کالم نگار سرفراز راجڑ کو شکست دی ہے۔

این اے 253 کراچی میں ایم کیو ایم کے سید حیدر عباس رضوی کامیاب ہوگئے ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی کے سید فیصل رضا عابدی کو شکست دی ہے۔ یہ نشست پچھلے انتخابات میں ایم ایم اے کے پاس تھی۔ این اے 240 کراچی میں ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور پیپلز پارٹی کے عبداللہ بلوچ کو سخت مقابلے کے بعد شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔ این اے 245 کراچی میں ایم کیو ایم کے فرحت محمد خان کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی کے قاضی محمد بشیر کو ہرایا ہے۔اسی طرح این اے 252 میں عبدالرشید گوڈل اور این اے 254 میں ڈاکٹر محمد ایوب شیخ نے کامیابی حاصل کی ہے۔


صوبہ سرحد



ڈیرہ اسماعیل خان میں جہاں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی نے شکست دی ہے۔ این اے سات چارسدہ ایک سے عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی نے فتح حاصل کی ہے جبکہ این اے چار سے عوامی نیشنل پارٹی کے ہی ارباب ظاہر خان 30943 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقے این اے آٹھ میں سابق وزیرِ داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ نے تیس ہزار چھ سو ووٹ لے کر عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر خان کو شکست دی ہے۔ این اے پینتیس مالاکنڈ سے پیپلز پارٹی کے لال محمد خان نے 34446 ووٹ لے کر پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے نثار محمد (15000) کو ہرا دیا ہے۔

این اے چھتیس قبائلی علاقہ ایک سے آزاد امیدوار بلال رحمٰن پانچ ہزار دو سو ستر ووٹ لے کر جیت گئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر شہباز خان مہمند نے چار ہزار دو سو انتیس ووٹ حاصل کئے۔ این اے تینتالیس قبائلی علاقہ آٹھ میں آزاد امیدوار شوکت اللہ خان جیت گئے ہیں۔این اے پینتالیس قبائلی علاقہ دس میں آزاد امیدوار نور اللہ قادری جیت گئے ہیں۔


اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی دونوں نشتیں مسلم لیگ ن نے حاصل کیں۔ این اے اڑتالیس میں انجم عقیل خان 61480 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ این اے انچاس میں ڈاکٹر چوہدری طارق فضل 45482 ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے۔

ہارنے والے بڑے نام
سابق کابینہ کے راؤ سکندرحیات اوکاڑہ میں،شیر افگن خان نیازی اٹک میں،خورشید قصوری قصور میں،دانیال عزیز نارووال میں،ہمایوں اختر لاہور کےدو حلقوں میں،اسحاق خان خاکوانی وہاڑی میں شکست کے بعد اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ شیخ رشید احمد، اعجازالحق، سکندر بوسن،نصراللہ دریشک بھی ہار چکے ہیں۔

پولنگلمحہ بہ لمحہ روداد
بلوچستان میں انتہائی کم ٹرن آوٹ
وفاق کے لیے خطراتوفاق کے لیے خطرات
بینظیر بھٹو کے قتل سے سیاسی سمت بدل گئی ہے
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
چودھریوں کی مشکل
پی پی پی کے امیدواروں کے لیے ہمدردی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد