پولنگ ڈے: ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ سے این اے تینتالیس سے شوکت اللہ خان سات ہزار چار سو اٹھائیس ووٹوں سے کامیاب قرار دیِ گئے ہیں۔
پہلا غیرسرکاری نتیجہ صوبہ سرحد کے اپر دیر این اے تینتیس سے آیا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے نجم الدین تیرا ہزار چھ سو چھتیس ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس چھتیس لاڑکانہ قمبر شہدات کوٹ سے بھی پیپلز پارٹی کے منور عباسی پندرہ ہزار چھ سو آٹھ ووٹ کامیاب قرار دیا ہے۔
لا ہورکے علاقے گوجر پورہ میں گنتی کے دوران ہونے والے جھگڑے میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
بلوچستان بھر کے بیشتر علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان کے مطابق کاہان کے چار پولنگ سٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈلا۔ تربت سے نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ کچھ حلقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور جہاں حکمران جماعت مقبول تھی وہاں بھی ماضی کے مقابلے میں ستر فیصد تک کم ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ پشتنونخواہ ملی عوامی پارٹی کے لیڈر رضا محمد رضا کے مطابق پشتون اکثریتی علاقوں میں ووٹرز کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ کوئٹہ کے اکثر پولنگ سٹیشن ویران رہے۔ جبکہ ہزارہ اکثریت کے علمدار روڈ کے علاقے میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کافی بہتر رہا۔
پولنگ ختم ہونے سے چند منٹ پہلے خواتین کے زبیدہ کالج پولنگ سٹیشن کے باہر کچھ لوگوں نے باہر فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ یہ سندھی اکثریتی پی پی پی کے حمایتیوں کا علاقہ ہے۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ یہ فائرنگ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کی ہے۔ تاہم پولیس کی کال پر رینجرز کے فوری طور پر پہنچنے سے معاملہ قابو میں رہا۔
حلقہ این اے دو سو تیس مٹھی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مہیش میلانی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ انتخابات میں بری طرح دھاندلی کی گئی ہے اور ہم نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔
حلقہ ایک سو پانچ میں جہاں ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور پیپلز پارٹی کے احمد مختار کے درمیان مقابلہ ہے، گجرات یونیورسٹی کے پولنگ سٹیشن میں ق لیگ کے مسلح کارکن زبردستی داخل ہوئے۔ ان کے پاس پہلے سے کئی بیلٹ پیپرز موجود تھے اور انہوں نے پریزائڈنگ افسر سے مزید بیلٹ پیپرز چھین کر ان پر سرِ عام مہریں لگا کر ان بیلٹ پیپروں کو بیلٹ باکسوں میں ڈال دیا۔ اس دوران پولیس ایک طرف کھڑی رہی اور پریزائڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں۔ حلقہ ایک سو چار میں سرخ پور کے پولنگ سٹیشن پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک عورت کے مرنے اور چھ کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ گجرات شہر کے جی ٹی ایس اڈے قریب مین روڈ پولنگ سٹیشن پر فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور پولنگ ختم ہونے کے بعد اندرونِ شہر سے بھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
حلقہ چھپن کے پولنگ سٹیشن چھ سو ایک میں مدرسہ ضیاء العلوم کے تین طلباء نے اپنے شناختی کارڈ کی رنگین فوٹو کاپیوں پر ووٹ ڈالا ہے۔ میرے دریافت کرنے پر طلباء کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے پہلے علم نہیں تھا کہ ان کے شناختی کارڈز اصلی نہیں ہیں۔ جب میں نے پریزائڈنگ افسر کے سامنے یہ معاملہ رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں ووٹ بعد میں منسوخ کر دیئے جائیں گے۔ ان طلباء نے متحدہ مجلسِ عمل کے امیدوار محمد اکرم عباسی کو ووٹ ڈالا۔ اسی حلقے سے ق لیگ کے سابق وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ راولپنڈی شہر میں اب پولنگ کے آخری اوقات میں رینجرز اور پولیس کا گشت شروع ہو گیا ہے لیکن دوپہر ساڑھے تین بجے تک ان کے کوئی آثار نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے کارکن وقتاً فوقتاً گاڑیوں میں ایک قافلے کی شکل میں نعرہ بازی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں تاہم سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے کارکنوں کا ایسا کوئی ہجوم ابھی تک دکھائی نہیں دیا۔ یونین کونسل چونتیس میں تو ق لیگ کے شیخ رشید احمد کے پولنگ ایجنٹ بھی موجود نہیں تھے اور ان کے کیمپ میں صرف قناتوں کا مالک اپنی قناتوں کی حفاظت کے لیے بیٹھا تھا۔
لاہور میں حلقہ ایک سو باون میں یو سی ننانوے میں خاتین کے ایک پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کچھ دیر کے لئے رکی رہی چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کے مخالف پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدوار اشرف اعجازگل نے الزام لگایا کہ یہاں پر مسلم لیگ قاف کی خواتین ووٹروں میں پیسے بانٹ رہی ہیں جبکہ مسلم لیگ قاف کے کورڈینیٹر خاور علی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی شکست نظر آرہی ہے اسلئے وہ ہم پر اس قسم کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اس کے بعد پولنگ انتظامیہ کی جانب سے پولنگ کو دوبارہ شروع کروا دیا گیا۔
ضلع خیرپور میں کنگری کے علاقے پیرجوگوٹھ کے ایک گاؤں احمد پور کے شہبازی پولنگ اسٹیشن کے قریب مسلم لیگ فنکشنل اور پپلزپارٹی کے حامیوں میں مسلح تصادم ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ سندھ عارف احمد خان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور واقعہ جیکب آباد میں ہوا جہاں نامعلوم مقام سے ایک راکٹ فائر کیا گیا۔ اس واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
لاہورمیں پی پی ایک سو باون میں ریکارڈ تیزی کے ساتھ ووٹ بھگتائے گئے ہیں۔اس حلقے سے سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایف سی کالج میں قائم پولنگ سٹیشن کے پریذائڈنگ افسر نے بتایا کہ سہہ پہر تین بجے تک ساٹھ فی صد ووٹ بھگتائے جاچکے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے دوبجے اسی حلقہ کے خان کالونی کا دورہ کیا جہاں دو ہزار اکیس ووٹوں میں سے سولہ سو سینتالیس ڈالے جاچکے تھے۔ان پولنگ سٹیشنوں پر سب سے زیادہ ہجوم مسلم لیگ قاف یعنی مونس الہی کے پولنگ کیمپوں میں نظر آرہا تھا۔ایف سی کالج میں مسلم لیگ نون کے ایجنٹ فاروق لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی یونین کونسل کا نائب ناظم اندر آکر لوگوں کوسائیکل پرمہر لگانے کی ترووٹ ڈالنے کے لیے ترغیب دے رہا تھاان کے شور مچانے پر انتخابی عملے نے اسے باہر نکال دیا۔
پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے سہہ پہر تین بجے تک پنجاب کے اڑتیس ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے تیس پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں اور اب تک پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے سیالکوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ، نارووال، حافظ آباد اور گجرات میں ہونے والے ہنگاموں میں ہلا ک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق بڑی تعداد میں اسلحہ لیکر گھومنے والوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پی پی چھیاسی کے پولنگ سٹیش جے بی اللہ ہار میں مسلم لیگ قاف اور آزاد امیدوار کے حامیوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں مسلم لیگ قاف کے حامی یونین کونسل پچیس کے نائب ناظم آصف سعید ہلاک ہوگئے دونوں پارٹیوں کے چار افراد زخمی ہوئے ۔پولیس نے دونوں اطراف کے بیس افراد کو حراست میں لے لیاہے ۔اس پولنگ سٹشین پر پولنگ روک دی گئی۔ دوسری طرف این اے ننانوے کامونکی ضلعی گوجرانوالہ کے پولنگ سٹشین کوٹ رفیق میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ قاف کے کارکنوں میں فائرنگ کے تبادلے میں مسلم لیگ قاف کا ایک کارکن رفیق ٹیڈی ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔اس حقلے سے مسلم لیگ قاف کے رانا شمشاد اور پیپلز پارٹی کے عبداللہ ورک میں مقابلہ ہے۔ بہاولنگر کے پی پی دو سو اکیاسی کے علاقہ ایک سودو فتح چشتیاں کے پولنگ سٹشین پر فائرنگ سے پیپلز پارٹی کے کارکن رانا خاورسعید ہلاک ہو گئے۔پیپلز پارٹی کےکارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مخالف امیدوار کے حامیوں کو جعلی ووٹ ڈالنے کے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس تیس خیرپور سے پی پی پی کے امیدوار بچل شاہ نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مخالف امیدوار پیر صدرالدین کی ایما پر ان کے حامیوں پر حملہ کیا گیا اور بیس کارکنوں کو زخمی کر دیا گیا۔
وہاڑی کے حلقہ این اے ایک سو سڑسٹھ (بورے والا) میں ایک ضلعی نائب ناظم کی گاڑی کو توڑ دیا گیا اس پر لگی نیلی بتی اور سبز نمبر پیلٹیں اکھاڑ لی گئیں۔ وہاڑی کے پی پی دو سو چونتیس کے علاقےساہوکا میں پیپلز پارٹی اور آزاد امیدوار کے حامیوں نے ہوائی فائرنگ کی ہے۔
گوجرانوالہ این اے ننانوے میں جبوکی پولنگ سٹیشن پر پیپلز پارٹی کے انتخابی کیمپ پر مسلم لیگ قاف نے فائرنگ کی جس سے ایک عورت سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ این اے ایک سو ایک وزیر آباد میں مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں فائرنگ کا تبادلہ ایک شخص زخمی پولنگ ایک گھنٹے کے لیے بند رہی۔ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ قاف کے امیدوارکا بیٹا چودھری ناصر چیمہ کو ہنگامہ آرائی کےد وران حراست میں لے لیا گیا۔
پشاور میں پولنگ کے دوران جس طرح کے پرتشدد واقعات یا بم دھماکوں کے خدشات تھے ویسا کچھ نہیں ہوا اور پرامن طریقے سے پولنگ جاری ہے۔ این اے تین گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چُغل پورہ کے خواتین کے پولنگ سٹیشن پر ایک بجے ایک سو ووٹ ڈالے جا چکے تھے جبکہ یہاں پر ایک ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ این اے چار گورنمنٹ ہائی سکول ہزار خوانی میں بھی ڈیڑھ بجے کے قریب تقریباً ایک سو ووٹ ڈالے گئے تھے جبکہ یہاں بائیس سو رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ہزار خوانی میں امیدواروں نے متفقہ فیصلے کے بعد خواتین کو ووٹنگ میں شامل نہیں ہونے دیا۔ پشاور کینٹ کا علاقہ کافی حد تک ویران تھا اور کوئی گہما گہمی نہیں تھی۔
کراچی ضلع غربی این اے دو سو انتالیس کے پولنگ سٹیشن نمبر تیرہ میں تیس فیصد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ کل ووٹرز 1967 ہیں اور چھ سو بتیس ڈالے جا چکے ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ سکول کی جس عمارت میں پولنگ سٹیشن نمبر تیرہ ہے وہیں پر حلقے کے مزید چار پولنگ سٹیشنز بھی ہیں۔ یہاں پر موجود پی پی پی پی، ق لیگ اور ن لیگ کے پولنگ ایجنٹس نے شکایت کی ہے کہ ایک ہی عمارت میں پانچ پولنگ سٹیشنز ہونے کی وجہ سے ووٹرز کو بہت دشواری ہو رہی ہے اور کئی لوگ مایوں ہو کر ووٹ ڈالے بغیر واپس لوٹ رہے ہیں۔
سیالکوٹ کے حلقہ ایک سو گیارہ میں کچی امام پولنگ سٹیشن پر پیپلز پارٹی کے تین کارکن فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کی مخالف پیپلز پارٹی کی امیدوار نے فردوس عاشق اعوان نےکہا ہے کہ مختلف پولنگ سٹیشن پر ان کے بائیس افراد کو زخمی کیا جاچکا ہے۔ان کاکہناہے کہ جہاں بھی مسلم لیگ قاف کے امیدوار کو شکست ہوتی نظر آتی ہے وہاں یا پولنگ بند کرادی جاتی ہے یا انتہائی سست کردی جاتی ہے اور انتظامیہ ان کی بات نہیں سن رہی۔
این اے دو انتیس میں ڈونجھ پولنگ سٹیشن پر تصادم ہوا ہے جس میں پی پی پی پی کے پانچ ووٹرز زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں ڈونجھ یونین کونسل کے سابق ناظم بھی شامل ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اٹھاون میں گاؤں چونترہ کے پولنگ سٹیشن دو سو انتیس کے پولنگ عملے نے بتایا کہ بیلٹ بوکس میں کئی ایک نمبر کے دو ووٹ یا کوئی نمبر غائب بھی ملا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ شاید پرنٹنگ کی غلطی ہوسکتی ہے۔ اٹک کے دو حلقوں میں مسلم لیگ قاف یا ان کے حامی امیدواروں کو بیلٹ پیپر کے اوپر پایا۔ اس گاوں میں تقریبا گیارہ سو میں سے آدھے ووٹ دو پہر ایک بج تک ڈالے جا چکے تھے۔ گاوں کے لوگ بلکہ دوسری جماعتوں کا بھی ماننا تھا کہ ضلعی ناظم میجر (ر) طاہر صادق نے ترقیاتی کام بہت کیا ہے۔
کراچی کے حلقہ این اے دوسو تریپن کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ سندھی بوائز پرائمری اسکول جمعہ گوٹھ، بھٹائی آباد میں پولنگ ساڑھے پانچ گھنٹے تاخیر یعنی ڈیڑھ بجے شروع کی گئی ہے۔ پریذائڈنگ افسر کے مطابق انہیں گلستانِ جوہر پولیس نے الیکشن کے سامان سمیت متعلقہ پولنگ اسٹیشن کے بجائے پانچ کلومیٹر دور ایسے اسکول میں اتار دیا جہاں پولنگ اسٹیشن ہی نہیں تھا۔ ان کے بقول انہیں بغیر سیکیورٹی کے پولنگ اسٹاف اور انتخابی سامان کو متعلقہ پولنگ تک منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوا جس کے باعث پولنگ شروع ہونے میں تاخیر ہوگئی۔ اس پولنگ اسٹیشن میں اکیس ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن کی ایک بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن پر جمع ہونے کے بعد پولنگ اسٹاف کے خلاف تاخیر سے پہنچنے پر نعرے بازی کررہی ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر سندھی بولنے والوں پر مشتمل ہے اور پپلز پارٹی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
تھرپارکر کے حلقے پی ایس تریسٹھ سے پی پی پی کے امیدوار دوست محمد میمن نے بھی مشرف کے حامی امیدوار پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے آزاد امیدوار عبدالرحمٰن رحیموں بھی الیکشن کا بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ پی ایس باسٹھ کے بعد یہ دوسرا صوبائی حلقہ ہے جہاں سے پی پی پی کے امیدوار بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔
کراچی کے ضلع جنوبی میں حلقہ این دو سو پچاس اور ضلع غربی کے حلقہ دو سو انتالیس میں دوپہر کے بعد پولنگ سٹیشنز میں ووٹروں کے آمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حلقہ دو سو پچاس میں پولنگ سٹیشن نمبر چھ کے عملے کے مطابق سوا دو بجے تک دو ہزار پانچ سو رجسٹرڈ ووٹوں میں سے پانچ سو اکیس کاسٹ ہوئے تھے۔ اس طرح وہاں کی شرح اب تک بیس فیصد ہے۔ اسی حلقے میں ریلوے کالونی کے ایک پولنگ سٹیشن میں اٹھائیس سو میں سے آٹھ سو بیس یعنی بیس فیصد ووٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔
کھاریاں اور اس سے ملحقہ حلقے این اے ایک سو سات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ مسعود نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مدمقابل ق لیگ کے امیدوار چودھری رحمان نصیر کے مسلح کارکنوں نے یونین کونسل دلاور پور میں زبردستی بوگس ووٹ ڈالے ہیں اور پولنگ کے عملے کو یرغمال بنایا ہے۔ ادھر ڈھل کتہ اور بلیانا نامی علاقوں سے ایک جھگڑے کی اطلاع ملی ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر چودھری اعجاز کا سر پھٹ گیا ہے۔
صوبائی حلقہ پی ایس ایک سو انیس کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں پپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد یہاں ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بوگس ووٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہاں پولنگ بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔ صفورا گوٹھ اور پہلوان گوٹھ کے علاقوں میں پٹھان آبادی زیادہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے ان علاقوں میں پپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ دونوں کے حامی پشتو بولنے والے ہیں۔
تھرپارکر کے صوبائی حلقے پی ایس 62 سے پی پی پی کے امیدوار شرجیل انعام میمن نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخاب سے بائیکاٹ کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے حامی سابق تحصیل ناظم عبدالغنی کھوسو کو گرفتارکر لیا گیا ہے جبکہ ان کے کئی ایجنٹوں کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ تھرپارکر کے حلقے پی ایس تریسٹھ سے آزاد امیدوار عبدالرحمٰن رحیموں نے بھی مشرف کے حامی امیدوار پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
خیر پور کے علاقے نور بزدار میں پی پی پی نے الزام لگایا ہے کہ پیر صاحب پگارا کی حُر فورس نے حملہ کر کے اس کے چار کارکنوں سلیم ملاح، نعیم ملاح، احسان ملاح اور ڈاکٹر غلام قادر کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ ایک اور واقعہ میں پی پی پی کے ایک کارکن منظور حسین بودی کو گولی سے زخمی کر کے اغواء کر لیا گیا ہے۔ علاقے سے پی پی پی کے امیدوار نواب وسان نے الزام عائد کیا ہے کہ منظور حسین کو فنکشنل لیگ کی ایما پر اغوا کیا گیا ہے۔
حلقہ این اے ایک سو چار جلال پور جٹاں میں ایک سو چالیس نمبر پولنگ سٹیشن پر رش کی وجہ سے پولنگ کچھ دیر تک بند رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ پولنگ سٹیشن خواتین کے لیے ہے۔ پریزائڈنگ آفیسر کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بیلٹ بُک نامکمل حالت میں ملی ہے جس میں سے اکیس بیلٹ پیپر غائب ہیں۔
چارسدہ میں حلقہ این اے آٹھ میں گورنمنٹ ہائی سکول شیرپاؤ پولنگ سٹیشن پر سابق وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے حامی اپنی مرضی سے تین تین چار چار کی ٹولیوں میں پولنگ سٹیشن میں جاتے ہیں اور ہر شخص کئی بیلٹ پیپرز پر مہر لگا کر بیلٹ باکس میں پھینک رہا ہے۔ جب میں نے پریزائڈنگ آفیسر کے سامنے سوال اٹھایا تو پہلے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ کارروائی غیر قانونی ہے لیکن اسی دوران آفتاب شیرپاؤ کے کارکنوں نے پریزائڈنگ آفیسر کو دھمکیاں دی تو انہوں نے اپنا بیان بدلتے ہوئے اسے محض افراتفری قرار دیا۔ اس پولنگ سٹیشن کی چھت پر سابق وزیرِ داخلہ کے کارکن اسلحہ اٹھائے کھڑے ہیں۔
حلقہ این اے ایک سو چار جلال پور جٹاں کے پولنگ سٹیشن پر پولیس نے مجھے داخل ہونے سے روکا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کارڈ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی پریزائڈنگ آفیسر سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ کافی دیر کی بحث و تکرار کے بعد مجھے پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ اس حلقے میں ق لیگ کی جانب سے چودھری شجاعت کے بھائی چودھری وجاہت اور پی پی پی کے غضنفر گل کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔
گجرات کے حلقہ این اے ایک سو چھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار قمر الزماں کائرہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مخالف مسلم لیگ ق کے امیدوار نورالحسن شاہ کے مسلح افراد نے شوکر کلاں کے علاقے میں پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی اور پولنگ کے عملے کو زدوکوب کرکے جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رینجرز اور پیپلز پارٹی کے لوگوں کے موقع پر پہنچنے پر مسلح افراد بھاگ گئے۔
حلقہ این اے چھپن کے پولنگ سٹیشن نمبر چھ سو ایک میں مدرسہ ضیاء العلوم کے ایک سو پچیس کے قریب ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ اس مدرسے کے دیگر حلقوں میں بھی ووٹ رجسٹرڈ ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت مدارس، دکانوں یا اداروں کے ووٹ رجسٹر نہیں ہو سکتے۔ اس حلقے سے قاف لیگ کے شیخ رشید احمد، مسلم لیگ نواز کے حنیف عباسی اور پی پی پی کے سردار شوکت حیات انتخاب لڑ رہے ہیں
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں کے علاقے بکا خیل سے الیکشن عملے کے نو اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔ الیکشن عملے کے چار پولیس اور ایف سی کے پانچ اہلکار شامل ہیں۔ پولیس نے تلاشی کا عمل شروع کیا ہے لیکن تاحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ بنوں پولیس کے سربراہ دارعلی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر سے بیس کلومیٹر جنوب کی جانب گاؤں بکا خیل میں پولنگ سٹیشن نرمی خیل سے عملے کے نو افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جس میں چار الیکشن عملے کے اہلکار پانچ پولیس اور ایف سی کے اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پولیس نے تلاشی کا عمل شروع کیا ہے لیکن تاحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے الیکشن عملے کے اہلکار پولیس اور ایف سی والوں کا تعلق مقامی قبائل سے ہیں۔اس لیے ان کو یقین ہے کہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔انہوں نے پولینگ سٹیشن پر ووٹ متاثر نہیں ہونگے اور قریبی پولینگ سٹیشن میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔
کوہلو میں بارودی سرنگ کے دو دھماکوں میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پہلا دھماکہ پولنگ سٹیشن سے پانچ کلومیٹر دور ہوا اور اطلاعات کے مطابق بارودی سرنگ سے ٹکرانے والے پانچ افراد ووٹ ڈالنے کے لیے پیدل آ رہے تھے۔ دوسرے دھماکے میں ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے چھتر میں ایک پولنگ سٹیشن پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ کاہان میں پانچ راکٹ داغے گئے ہیں۔ ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ راکٹ کن مقامات پر گرے ہیں۔ کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم کے نزدیک بم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تربت کے علاقے تنپ میں بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے انتخابات کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
صوبائی حلقہ پی ایس 128 کراچی، داؤد چورنگی پر لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کرکے ٹریفک کو معطل کردیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے یہ حامی اس وقت مشتعل ہوئے جب انہیں اطلاع ملی کے اس حلقہ سے اے این پی کے امیدوار امان اللہ محسود کی گاڑی پر مخالف گروپ یعنی متحدہ قومی مومنٹ کے علاقے میں فائرنگ کی گئی ہے۔ رینجرز اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور اس نے مشتعل افراد پر لاٹھی چارج کردیا۔ اس دوران قریبی پولنگ اسٹیشن میں تقریباً آدھے گھنٹے تک پولنگ روک دی گئی تھی جو بعدازاں دوبارہ شروع کردی گئی۔
این اے دو سو انتیس چیلہار کے پولنگ سٹیشن نمبر دو بند کر دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے ایجنٹوں کو داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔
سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس دس سے پی پی پی کے امیدوار کامران مہر نے انتخاب سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے ہے ان کے مخالف ق لیگ کے امیدوار اور ضلع ناظم کے بھائی شہر یار مہر نے ترانوے پولنگ سٹیشنوں سے ان کے پولنگ ایجنٹوں کو اغواء کر لیا ہے۔ شکار پور کے ضلع ناظم عارف مہر سابق وفاقی وزیر سردار غوث بخش مہر کے صاحبزادے ہیں۔ دوسری طرف پی ایس بارہ سے پی پی کے امیدوار آغا ارسلان پٹھان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سولہ پولنگ ایجنٹوں کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے خانپور پولنگ سٹیشن پر چار سو مہر لگے ہوئے جعلی بیلٹ پیپر پکڑے تھے لیکن اسلحہ کے زور پر ان کے مخالف حکومتی امیدوار عابد جتوئی نے واپس لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے اہلکار موقع پر موجود ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوج کو فون کر رہے ہیں لیکن وہ بھی ان کی مدد کو نہیں آ رہی۔
جلال جوتڑ پولنگ سٹیشن پر گیارہ سو رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ گیارہ پینتالیس تک صرف پینسٹھ ووٹ ڈالے گئے جس پر پی پی پی کے ایجنٹس نے احتجاج کیا۔ جس کے بعد پریزائڈنگ آفیسرز اور پی پی پی کے ایجنٹس میں بحث و تکرار ہوئی اور پولنگ سٹیشن کو بند کر دیا گیا۔ اس پولنگ سٹیشن پر پریزائڈنگ آفیسرز نے بیلٹ باکسز اپنے سامنے رکھے ہوئے تھے اور ووٹر کو ان کے سامنے مہر لگا کر اپنا ووٹ ڈالنا پڑ رہا تھا۔
ڈسکہ کے حلقہ ایک سو بارہ میں آڈا کے مقام پر مسلم لیگ قاف کے پولنگ ایجنٹ نے فائرنگ کر کے مسلم لیگ نواز کے پولنگ ایجنٹ کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد نواحی گاؤں اڈامیں ملز م کے گھر کو مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے آگ لگا دی ہے۔ گوجرانوالہ کے حلقہ این اے ایک سو میں ایک پولنگ سٹیشن پر فائرنگ سے آدھے گھنٹہ کے لیے پولنگ رکی رہی ہے اور اسی حلقہ میں آزاد امیدوار مدثر قیوم نارہ کے ورکروں پر مسلم لیگ قاف کے کارکنوں کی فائرنگ سے دو کارکن زخمی ہو گے ہیں۔ اسی حلقہ کے علاقہ چھبیس ورکاں اور میناں ورکاں میں بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ کانوال میں پریزائڈنگ افسر سے مسلم لیگ قاف کے کارکنوں نے پیلٹ پیپر چھین لیے ہیں آخری اطلاعات تک پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔
کراچی کے حلقے این اے 250 ڈیفنس اور این اے 239 کیماڑی میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم ہے اور اب تک تین سے چار فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ان دونوں حلقوں کے بیشتر پولنگ اسٹیشنوں میں پولنگ آدھے سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ پولنگ کا عملہ تاخیر کی وجہ پولنگ ایجنٹ کے دیر سے آمد کو قرار دیتے ہیں جبکہ پولنگ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ انہیں پولنگ اسٹیشن تلاش کرنے میں تاخیر ہوئی۔
لاہور کینٹ میں والٹن روڈ کے ایک پولنگ سٹیشن پر پاکستان مسلم لیگ ق کے چند کارکنوں نے مبینہ طور پر جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جس پر نواز لیگ کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور پولنگ چند منٹوں تک رکی رہی۔ بعد میں پولیس ق لیگ کے ان کارکنوں کو گرفتار کر کے لے گئی۔ لیکن جب مقامی پولیس سے رابطہ کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا۔
صوبائی حلقہ پی سی تریسٹھ تحصیل چھچھرو کے نکاریو پولنگ سٹیشن سے ایک کلو میٹر دور چار سو کے قریب ووٹرز جمع ہیں اور وہ اس لیے ووٹ نہیں ڈال پا رہے کہ ایک قریبی ٹیلے پر آتشیں اسلحہ سے مسلح چند نامعلوم لوگ بیٹھے ہیں جو پولنگ سٹیشن کی طرف بڑھنے والے ہر شخص پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ پولنگ سٹیشن کے اندر کی صورتحال کا پتہ نہیں چل سکا تاہم ایک پریزائڈنگ آفیسر بھی ووٹرز کے ساتھ موجود ہیں جنہوں نے سٹیشن کی جانب جانے کی کوشش کی تو ان پر بھی فائرنگ کی گئی۔
پشاور کی چار قومی اور گیارہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پولنگ پر امن طور پر جاری ہے شہر میں تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ این اے دو میں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آ رہے ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک بہت کم ہے۔ شہر میں پچیس پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے آج صبع پولنگ شروع ہونے سے پہلے ان تمام پولنگ سٹیشن کو بم ڈسپوزل کے عملے نے چیک کیا ہے جبکہ ان کے اردگرد تین سے چار سو میڑ کے علاقہ کو خار دار تاریں لگا کر ٹریف کے لیے بند کیا گیا ہے اور صرف پیدل جانے کی اجازت ہے۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے پچپن اور چھپن سے مسلم لیگ ق کے امیدوار شیخ رشید احمد نے ضیاالعلوم ہائی سکول راولپنڈی کے پولنگ بوتھ میں اپنا ووٹ ڈالا۔ پریزائڈنگ آفیسر کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سات سو سے زائد ہے جبکہ گیارہ بجکر پینتالیس منٹ تک ایک سو اکاون ووٹ پول ہوچکے ہیں۔
این اے 254 کراچی میں گڈاپ کے علاقے آنسو گوٹھ میں واقع پولنگ اسٹیشنوں کے باہر جشن کا سماں ہے جہاں لوگ انتخابی گانوں پر رقص کررہے ہیں۔ یہ علاقہ پپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پولنگ اسٹیشن میں دیگر جماعتوں نے دلچسپی ظاہر بھی نہیں کی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹ کے علاوہ دیگر جماعتوں نے اپنے پولنگ ایجنٹ بھی نہیں بھیجے ہیں۔ ووٹروں میں خواتین کی بھی بری تعداد موجود ہے جن میں سے بعض نے شکایت کی ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے نام گزشتہ انتخابی فہرست میں موجود تھے لیکن اس سال نہیں ہیں جس کی بناء پر انہیں ووٹ ڈالنے سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہاں ووٹروں کا رش بہت زیادہ ہے اور انہوں نے شکایت کی ہے کہ عملہ کی کمی کی وجہ سے انہیں کافی دیر تک لائنوں میں کھڑا ہونا پڑرہا ہے۔
لاڑکانہ کے حلقہ این اے دو سو چار کے پولنگ سٹیشن نمبر پینتیس حسین آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔ اس سٹیشن پر اب تک اڑھائی سو کے قریب ووٹ ڈالے گئے ہیں اور اس وقت لگ بھگ پندرہ ووٹرز اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
پاکستان کے سات قبائلی ایجنسیوں اور نیم قبائلی علاقوں یعنی فرنٹیئر ریجن میں پیر کے صبح آٹھ بجے سے پولینگ سٹیشنوں پر لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ تاحال کسی بھی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق سب سے زیادہ جوش خروش جنوبی وزیرستان کے ھیڈکوارٹر وانا میں نظر آرہا ہے۔جہاں پیر کے صبح چھ بجے سے لوگوں نے قطاریں بنائی ہیں اور ووٹ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پولنگ سٹیشنوں پر جوش خروش کی بڑی وجہ گزشتہ سال وانا سے غیر ملکیوں ازبکوں کو علاقے سے نکالنے کا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر میں جوش خروش بہت کم ہے لیکن شہری علاقوں میں پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کا جوش خروش زیادہ نظر آرہا تھا۔ووٹ ڈالتے وقت مولانا نے کہا کہ وہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان دونوں نشتوں سے جیتنے کی امید رکھتے ہیں اور کسی بھی علاقے سے دھندلی کی شکایت کی توقع نہیں ہے۔
کوئٹہ کے حلقہ این اے دو سو انسٹھ میں گوالمنڈی کے علاقے میں کواری روڈ پولنگ سٹیشن پر ابھی تک صرف پچیس ووٹ ڈالے ہیں۔ یہ خواتین کا پولنگ سٹیشن ہے۔ پریزائڈنگ آفیسر کا کہنا ہے کہ صبح دس بجے تک کوئی ووٹ نہیں ڈلا تھا۔ کوئٹہ کے مضافات میں کچھی بیگ کے ایک سکول پولنگ سٹیشن پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لاہور میں حلقہ این اے ایک سو پچیس میں قاف لیگ کے ہمایوں اختر، نون لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی پی پی کے نوید چودھری کے درمیان مقابلہ ہے۔ والٹن علاقے کے قربان ہائی سکول میں ٹرن آؤٹ بہت کم نظر آیا ہے۔ پی پی پی کے پولنگ ایجنٹ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن نے حلقے میں چند ایسے ہنگامی پولنگ سٹیشنز بنائے ہیں جن کا پتہ نہیں چل رہا۔
گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے خودکش بم حملے کی وجہ سے ووٹروں میں خوف و ہراس تو ہے لیکن پھر میں ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد پولنگ سٹشن میں موجود ہے۔ پولنگ سٹاف کے مطابق سولہ سو میں سے چار سو ووٹروں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
این اے 257 کراچی کے علاقے کورنگی میں مرتضیٰ چورنگی کے قریب ایک پولنگ سٹیشن میں ووٹروں کی بڑی تعداد جمع تھی لیکن عملہ نہ پہنچنے کے باعث وہ مشتعل ہوگئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ وہاں تعینات رینجرز نے ووٹروں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کردیا جس سے چند افراد معمولی زخمی ہوگئے۔
گجرات کے حلقہ ایک سو چار کے میسم پولنگ سٹیشن میں مبینہ طور پر مسلم لیگ قاف کے کارکن کی فائرنگ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا ایک ایک کارکن زخمی ہو گیا ہے۔ گجرات کے عزیز بھٹی ڈسٹرکٹ ہسپتال کے شعبہ حادثات کے ڈاکڑ علی خان کے مطابق پیپلز پارٹی کے زخمی ہونے والے بیس سالہ کارکن شیعب کی حالت نازک ہے۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے پچپن کے جنگلات روڈ محلہ بنی پولنگ سٹیشن پر چالیس فیصد لوگوں کے ووٹر فہرستوں میں نام موجود نہیں ہیں جبکہ ان لوگوں کے پاس شناختی کارڈز بھی موجود ہیں اور کئی نے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ ریکارڈ بھی اٹھا رکھا ہے۔ ان لوگوں کا نام ویب سائٹ کی ووٹر فہرستوں میں موجود ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ فہرستوں میں بہت سے لوگوں کی ولدیت مختلف لکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالنے نہیں دیا جا رہا۔ ایسے ووٹرز کی زیادہ تر تعداد پی پی پی اور نواز لیگ کی حامی دکھائی دے رہی ہے۔ چند ووٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے کئی سال قبل مرنے والے لوگوں کے نام بھی ووٹر فہرستوں میں موجود ہیں۔
میجر مختار کی سربراہی میں آنے والے رینجرز کے ایک دستے نے غنویٰ بھٹو اور نثار کھوڑو کا پولنگ سٹیشن کے باہر نکال دیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان زبردست نعرہ بازی ہو رہی ہے۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے پچپن میں مسلم لیگ قاف کے شیخ رشید، پاکستان پیپلز پارٹی کے عامر فدا پراچہ اور پاکستان مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی کے درمیان مقابلہ ہے۔ شہر کے ڈی اے وی کالج روڈ پولنگ سٹیشن پر درجن بھر ووٹرز موجود ہیں اور ماحول پر امن دے رہا ہے۔ ووٹرز کو تلاشی لے کر پولنگ سٹیشن میں جانے دیا جا رہا ہے۔ ووٹرز کو شکایت ہے کہ پولنگ سٹیشن کے اندر ووٹ ڈالنے کے عمل میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔
محمودآباد کے علاقے میں دو گروہوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے بعد دو پولنگ اسٹیشن پر پولنگ آدھے گھنٹے تک روک دی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کے بعد پولنگ دوبارہ شروع کرادی۔
صدر کے علاقے میں کئی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عملہ یا پولنگ ایجنٹ تاخیر سے پہنچے جس کی وجہ سے پولنگ کچھ تاخیر سے شروع ہوئی۔ البتہ ووٹ ڈالنے والوں کی شرح صبح دس بجے تک نہایت کم رہی۔
حلقہ این اے 153گلستانِ جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد نظر آرہی ہے جہاں متحدہ قومی مومنٹ اور پپلزپارٹی کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ووٹروں میں جوش و خروش ہے۔
حلقہ این اے ایک سو چار میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے امیدوار چودھری وجاہت حسین مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غضنفر گل نے الزام لگایا ہے کہ چودھری وجاہت کے مسلح کارکنوں نے محسم پولنگ سٹیشن پر زبردستی پولنگ بند کروانے کے بعد بیلٹ پیپرز پر خود مہریں لگا کر بیلٹ باکس بھرنے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے فوج کو اطلاع دی تو فوج کے پہنچنے سے پہلے ہی چودھری وجاہت کے مسلح کارکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ غضنفر گل نے سوبکیاں پولنگ سٹیشن پر بھی چودھری وجاہت کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جانے کا الزام لگایا ہے۔
حلقہ این اے دو سو چار کے پولنگ سٹیشن نمبر بارہ میں اس وقت سخت کشیدگی پیدا ہو گئی جب پی پی پی شہید بھٹو کے کارکنوں نے پی پی پی کے رہنما نثار کھوڑو کو تھپڑ مارا اور ان کا گریبان پھاڑ دیا۔ غنویٰ بھٹو اور نثار کھوڑو ابھی تک پولنگ سٹیشن میں موجود ہیں جہاں پولنگ کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔ صبح سے اس پولنگ سٹیشن پر صرف تین ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔ غنویٰ کا کہنا ہے کہ جو تین ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں ان کے شناختی کارڈ نمبر غلط ہیں۔ نثار کھوڑو نے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی ہے۔ مبینہ تینوں ووٹرز کے نام اور ولدیت ٹھیک ہیں لیکن نمبر غلط ہیں۔ غنوی بھٹو اور پریزائڈنگ آفیسر خاتون میں اس معاملے پر شدید بحث ہوئی ہے۔
کراچی کے علاقے بنارس کالونی میں ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے موجود ہے۔ اس کے برعکس ایم کیو ایم کی اکثریت والے علاقے میں ووٹروں کی بہت کم تعداد نظر آ رہی ہے اور کسی پولنگ سٹیشن پر بھی بیس پچیس سے زائد ووٹ نہیں ڈالے گئے۔
غنویٰ بھٹو نے الزام لگایا ہے ریٹرننگ آفیسر پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت میں دھاندلی کر رہے ہیں۔ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے شیخ زید سکول پولنگ سٹیشن پر پہنچ گئی ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک ووٹ نہیں ڈالا۔ اب تک صرف اس سٹیشن پر سب سے زیادہ افراد دیکھنے کو ملے ہیں لیکن ان کی تعداد ایک درجن سے زیادہ نہیں ہے۔
ضلع بدین سے اطلاع ہے کہ ماتلی تعلقہ میں چار پولنگ سٹیشنوں کے عملے کو نامعلوم افراد نے پولنگ کے سامان سمیت اغواء کر لیا ہے۔ ضلع شکارپور میں بھی چھ سو بیلٹ پیپروں کے غائب ہونے کی وجہ سے پولنگ بروقت شروع نہیں ہو سکی۔
شاہین کالج کامرہ میں ووٹروں کی بھیڑ لگنا شروع ہوئی ہے۔ کئی ووٹر اپنے ووٹر لسٹ سے اپنے ووٹ غائب ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔ پولنگ سٹیشن پر موجود کتبہ گاؤں کے عبدالستار کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا لیکن اس دفعہ باقی کئی ووٹروں کی طرح ان کا ووٹ بھی لسٹ سے غائب ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ اور حلقہ این اے دو سو چار سے امیدوار غنویٰ بھٹو نے لاڑکانہ کے لاہوری محلہ میں قائم پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا۔ شہر کے پولنگ سٹیشنوں پر ابھی تک بہت کم ووٹر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
حسن ابدال کے ایک پولنگ سٹیشن کے باہر انتخابی کیمپ پر ایک دلچسپ نعرہ دیکھنے میں آیا۔ ایک پوسٹر پر لکھا ہوا تھا ’اٹک وال، اٹک وال ابھی پگڑی آپ سنبھال‘۔ اس حلقے سے ضلع ناظم کے داماد وسیم گلزار الیکشن لڑ رہے ہیں جن کا تعلق اٹک سے نہیں بلکہ ضلع منڈی بہاءالدین سے ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے گاؤں عبدالخیل کے ہائی سکول میں قائم پولنگ سٹیشن میں اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ پولنگ سٹیشن پر ابھی تک بہت کم ووٹر موجود ہیں۔
مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور ان کے مدمقابل امیدوار چودھری احمد مختار گجرات کے اس اہم حلقےمیں ووٹ کاسٹ کر لیے ہیں جبکہ ق لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے ابھی ابھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور سے گجرات پہنچے ہیں۔
اٹک ضلع سے گزرنے والی بڑی شاہراہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک بہت کم ہے۔ صرف چند گاڑیاں نظر آ رہی ہیں جب پر امیدواروں کے پوسٹر اور انتخابی نشان آویزاں ہیں۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||