BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 15:02 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی نشستوں پر انتخابی جنگ

انتخا بات
حلقہ این اے 253 میں دیہی آبادی کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے زیر اثر علاقوں میں آباد ہے
کراچی شہر میں قومی اسمبلی کی بیس اور صوبائی اسمبلی کی بیالیس نشستیں ہیں اور پچھلے پانچ انتخابات میں ایم کیو ایم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی آرہی ہے لیکن اس مرتبہ بعض حلقوں میں ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ہاتھوں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

مثال کے طور پر این اے دو سو انتالیس کو ہی لے لیجیے، یہ نشست پچھلے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سے صرف سات سو ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی۔

کل تک اس نشست پر بنیادی طور پر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان مقابلے کا امکان تھا لیکن اتوار کو جے یو آئی (ف) نے ایم کیو ایم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے اپنا امیدوار بٹھادیا ہے، جس کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ اب اس نشست پر بنیادی مقابلہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مابین ہے۔

پیپلز پارٹی نے قادر پٹیل کو اور ایم کیو ایم نے سابق صوبائی وزیر بلدیات ایس مجاہد بلوچ کو اس حلقے سے امیدوار نامزد کیا ہے۔ تاہم جے یو آئی کے امیدوار کی دستبرداری کے بعد اب اس نشست پر پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے کیونکہ اس حلقے میں آباد جے یو آئی سے ہمددری رکھنے والی برادریاں روایتی طور پر کبھی ایم کیو ایم کی ووٹر نہیں رہی ہیں۔

اسی طرح حلقہ این اے دو سو انچاس کو بھی ایک دلچسپ مقابلے کے اکھاڑے کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں ایم کیو ایم کے کلیدی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار میدان میں ہیں جبکہ ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے عبدالحبیب میمن ہیں۔

ایم کیو ایم
پچھلے پانچ انتخابات میں ایم کیو ایم کراچی سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی آرہی ہے
پچھلے انتخابات میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ساڑھے تیس ہزار ووٹ حاصل کرکے یہ نشست جیتی تھی جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کے امیدواروں نے تئیس تئیس ہزار کے قریب ووٹ لئے تھے۔ ایم ایم اے کو جانے والے ووٹوں کا بڑا حصہ علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علما پاکستان کے ووٹروں کا تھا جس نے کچھ دن پہلے ہی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جبکہ سنی تحریک بھی اس علاقے میں اپنا اثر رکھتی ہے اوراس نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی جے یو پی کے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے یہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اٹھاسی کے انتخابات سے پہلے تک یہ حلقہ جے یو پی کا مضبوط گڑھ تھا۔

حلقہ این اے 250 میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔ یہ نشست پچھلے الیکشن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایم ایم اے کے امیدوار عبدالستار افغانی نے جیتی تھی اور کچھ عرصے بعد ان کی وفات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم نے جیت لی تھی۔

اس بار ایم کیو ایم نے اس نشست کے لئے خوش بخت شجاعت کو نامزد کیا ہے جو پی ٹی وی کی معروف کمپیئر رہی ہیں اور ان کے شوہر نگراں صوبائی حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ ان کے مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ ہیں جو مشہور پاپ سنگر نازیہ حسن کے جیٹھ ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے لئے اس نشست کو جیتنا شاید اتنا آسان نہ ہو کیونکہ اس حلقے میں مسلم لیگ نواز، سنی تحریک اور اے این پی نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایک اور انتخابی دنگل حلقہ این اے 253 میں متوقع ہے جہاں پیپلز پارٹی نے سید فیصل رضا عابدی اور ایم کیو ایم نے سید حیدر عباس رضوی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

پچھلے الیکشن میں ایم ایم اے کے امیدوار نے اس حلقے سے فتح حاصل کی تھی لیکن جماعت اسلامی کی بائیکاٹ کے بعد اس بار یہاں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں پینسٹھ فیصد دیہی اور پینتیس فیصد شہری آبادی ہے اور شہری آبادی کا بڑا حصہ گلشن اقبال اور اسکے اطراف کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ دیہی آبادی کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے زیر اثر علاقوں میں آباد ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان نشستوں پر مقابلے کا بڑا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے ووٹروں کو کس حد تک پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں کامیاب ہوپاتی ہے۔

بے نظیر بھٹو ’بھٹو کا وارث بھٹو‘
بے نظیر بھٹو کے بعد نوڈیرو کے انتخابات
سکیورٹی اہلکاربلوچستان الیکشن
684 امیدوار اور ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار
اشتہارکروڑوں کے اشتہار
انتخابی خرچ اعلان کردہ آمدن سے کہیں زیادہ
مولانا فضل الرحمٰناب ووٹ نہیں دیں گے
وزیر، محسود قبائل کے مولانا سےگلے شکوے
احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
بینظیر بھٹو’بینظیر قتل کے بعد‘
قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی میں قربت کب تک؟
اسی بارے میں
بلوچستان کا انتخابی منظر
17 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد