کراچی نشستوں پر انتخابی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی شہر میں قومی اسمبلی کی بیس اور صوبائی اسمبلی کی بیالیس نشستیں ہیں اور پچھلے پانچ انتخابات میں ایم کیو ایم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی آرہی ہے لیکن اس مرتبہ بعض حلقوں میں ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ہاتھوں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر این اے دو سو انتالیس کو ہی لے لیجیے، یہ نشست پچھلے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سے صرف سات سو ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی۔ کل تک اس نشست پر بنیادی طور پر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان مقابلے کا امکان تھا لیکن اتوار کو جے یو آئی (ف) نے ایم کیو ایم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے اپنا امیدوار بٹھادیا ہے، جس کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ اب اس نشست پر بنیادی مقابلہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مابین ہے۔ پیپلز پارٹی نے قادر پٹیل کو اور ایم کیو ایم نے سابق صوبائی وزیر بلدیات ایس مجاہد بلوچ کو اس حلقے سے امیدوار نامزد کیا ہے۔ تاہم جے یو آئی کے امیدوار کی دستبرداری کے بعد اب اس نشست پر پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے کیونکہ اس حلقے میں آباد جے یو آئی سے ہمددری رکھنے والی برادریاں روایتی طور پر کبھی ایم کیو ایم کی ووٹر نہیں رہی ہیں۔ اسی طرح حلقہ این اے دو سو انچاس کو بھی ایک دلچسپ مقابلے کے اکھاڑے کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں ایم کیو ایم کے کلیدی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار میدان میں ہیں جبکہ ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے عبدالحبیب میمن ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی جے یو پی کے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے یہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اٹھاسی کے انتخابات سے پہلے تک یہ حلقہ جے یو پی کا مضبوط گڑھ تھا۔ حلقہ این اے 250 میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔ یہ نشست پچھلے الیکشن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایم ایم اے کے امیدوار عبدالستار افغانی نے جیتی تھی اور کچھ عرصے بعد ان کی وفات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم نے جیت لی تھی۔ اس بار ایم کیو ایم نے اس نشست کے لئے خوش بخت شجاعت کو نامزد کیا ہے جو پی ٹی وی کی معروف کمپیئر رہی ہیں اور ان کے شوہر نگراں صوبائی حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ ان کے مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ ہیں جو مشہور پاپ سنگر نازیہ حسن کے جیٹھ ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے لئے اس نشست کو جیتنا شاید اتنا آسان نہ ہو کیونکہ اس حلقے میں مسلم لیگ نواز، سنی تحریک اور اے این پی نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایک اور انتخابی دنگل حلقہ این اے 253 میں متوقع ہے جہاں پیپلز پارٹی نے سید فیصل رضا عابدی اور ایم کیو ایم نے سید حیدر عباس رضوی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ پچھلے الیکشن میں ایم ایم اے کے امیدوار نے اس حلقے سے فتح حاصل کی تھی لیکن جماعت اسلامی کی بائیکاٹ کے بعد اس بار یہاں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں پینسٹھ فیصد دیہی اور پینتیس فیصد شہری آبادی ہے اور شہری آبادی کا بڑا حصہ گلشن اقبال اور اسکے اطراف کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ دیہی آبادی کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے زیر اثر علاقوں میں آباد ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان نشستوں پر مقابلے کا بڑا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے ووٹروں کو کس حد تک پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں کامیاب ہوپاتی ہے۔ |
اسی بارے میں صوبائی خودمختاری کے لیے کام کریں گے17 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ: دھاندلی اور تصادم کے خدشات17 February, 2008 | الیکشن 2008 ڈیرہ اسماعیل خان کے انتخابی معرکے17 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان کا انتخابی منظر17 February, 2008 | الیکشن 2008 ’جتنے زیادہ ووٹر دھاندلی اتنی کم‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابات: ملک بھر میں 7335 امیدوار16 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||