BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 14 February, 2008 - Published 09:35 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی: سندھی قوم پرستوں کی امید

پیپلز پارٹی
بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سندھی قومپرست دانشوروں کی سوچ بدل گئی
پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سندھی قوم پرست حلقوں اور پیپلز پارٹی میں ہمدردانہ قربت اور روابط میں اضافہ ہوا ہے۔

ماضی میں پیپلز پارٹی سے شدید اختلافات اور فاصلے رکھنے والے بائیں بازو کے قوم پرست دانشوروں نے بھی پیپلزپارٹی سے اپنی امیدیں وابستہ کر دی ہیں، جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو آئندہ انتخابات میں سندھ کے اندر ایک طرح کی اخلاقی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

سندھی دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ارکان پر مشتمل ایک وفد حیدر آباد سے چند روز قبل سکھر پہنچا۔انہوں نے قریبی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے پروفیسروں، چند صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کا ایک غیر رسمی اجلاس طلب کیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں بینظیر بھٹو کے بعد سندھ کو درپیش خطرات اور حکمت عملی کے موضوع پر غیر رسمی گفتگو شروع ہوگئی۔ سندھی قوم پرستی اور دانشوری کے مرکز حیدرآباد سے آئے ہوئے دانشوروں نے ستائیس دسمبر کے بعد ہونے والے احتجاج کو سندھی عوام کا تاریخی احتجاج قرار دیا اور ان کا اصرار تھا کہ انہیں مشورہ دیا جائے کہ عوام کے اس غصے کو سندھ کےمفادات کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور سندھی دانشوروں کے درمیان اس سے قبل حیدرآباد اور کراچی میں بھی اس طرح کے اجلاس ہوچکے تھے۔جبکہ حیدرآباد میں ہر دوسرے روز محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد میں ریفرنس یا کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے، جس میں بحث بینظیر کو سندھی بیٹی ہونے کے ناطے قتل کرنے سے شروع ہو کر اور اسی نکتے پر ختم ہوتی ہے۔

سندھی قوم پرست دانشوروں کے ان اجلاسوں میں چند شرکاء نے پاکستان کی ممکنہ تقسیم کے بعد سندھ کے حالات بیان کرنا شروع کردیے۔ان اجلاسوں میں سے ایک اجلاس میں موجود پی پی پی کی رہنما نفیسہ شاہ نے زور دیکر کہا کہ ہم لوگ یہاں پاکستان توڑنے کی باتیں اور پاکستان ٹوٹ جانے کے امکانات پر بحث کرنے کےلیے اکٹھا نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے سندھی دانشوروں کو معذرت کے ساتھ کہا کہ وہ بینظیر بھٹو جیسی بڑی رہنما کو صرف سندھی بنانے اور محدود کرنے کوشش مت کریں کیونکہ پاکستان کی سرحدوں میں ہر جگہ بینظیر بھٹو سے اتنی محبت کی جاتی ہے جتنی سندھ میں ان سے لوگوں کی محبت ہے۔

پیپلز پارٹی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود بینظیر بھٹو کو سندھی میڈیا اور دانشوروں نے اپنی مخصوص زبان میں ’سندھی ملکہ‘ اور ’سندھ کی شہید بیٹی‘ کہنا اور لکھنا شروع کر دیا ہے، جس کی وجہ سے سندھی قوم پرستی کا کمبل آہستہ آہستہ پیپلزپارٹی کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

پیپلز پارٹی اور سندھی دانشوروں کے درمیاں روابط سندھ ڈیموکریٹک فورم (ایس ڈی ایف) نامی تنظیم کے توسط سےہو رہے ہیں۔ کیا بینظیر بھٹو واقعی سندھ کےمفادات کا خیال رکھنے والی تھیں؟ میرے اس سوال کے جواب میں ایس ڈی ایف کے رہنماء ذوالفقار ہالیپوتہ نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے بینظیر بھٹو کو سندھ ایجنڈا کے نام سے ایک دستاویز تیار کر کے دی تھی تا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اس پر عملدرآمد کر سکیں۔

ذوالفقار کے مطابق بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کے بعد بدلی ہوئی سیاستدان تھیں۔ہالیپوتہ کے مطابق ان کے پاس بینظیر بھٹو کی ایسی تقاریر اور ای میلز محفوظ ہیں جن میں انہوں نے جئے بھٹو، جئے عوام کےساتھ ساتھ جئے سندھ کا نعرہ بھی لگایا ہے۔

سندھ کے اندر ساٹھ کی دہائی میں قوم پرست لہروں کا اس قدر ابھار تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی حیدرآباد میں ون یونٹ کے خلاف قوم پرستوں کے جلسے سے خطاب کیا تھا۔ مگر اقتدار میں میں آنے اور تہتر کا آئین بنانے کے بعد سندھی دانشوروں اور پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو کے درمیاں فاصلے بڑھنے لگے۔

ستر کے عشرے میں کئی سندھی کتابوں پر پابندی عائد ہوگئی اور اس وقت کے ایک مقبول رسالے سوہنی کے ایڈیٹر طارق اشرف کو بھٹو مخالف ایڈیٹوریل لکھنے پر جیل جانا پڑا۔

سندھی قوم پرستوں کی کثیر تعداد پاکستان سے سندھ کی علیحدگی کا پرچار کرنے والے سیاستدان جی ایم سید کے زیراثر رہی۔انہوں نے وفاق پرست سیاست کو برا سمجھا اور قوم پرست جماعتوں اور سیاسی اتحادوں کے تجربات کرتے رہے۔ وہ پیپلز پارٹی کو مضبوط مرکز کی نمائندہ جماعت سجھ کر ان سے ناامید ہوچکے تھے۔

نومبر میں بینظیر بھٹو نے حیدرآباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد سندھی دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے اپنی ملاقات ملتوی کردی تھی۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ انہوں نےبزرگ دانشور محمد ابراھیم جویو کی جانب سے اخبارات میں اسی دن لکھے گئے ایک مضمون پر ناراضگی کےاظہار کے لیے ایسا کیا تھا۔ مضمون میں پیپلزپارٹی پر سندھ کے مفادات کو اقتدار کےدنوں میں نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سندھی قوم پرست دانشوروں کی سوچ بدل گئی ہے۔ وہ بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کو ایک امید کی کرن سمجھ رہے ہیں۔مگر کراچی سے سندھی میگزین ’افیئر‘ کے ایڈیٹر علی احمد رند اس ہمداردانہ لہر کو دانشوروں کی عارضی خوش فہمی سجھتے ہیں۔

علی رند کا کہنا ہے کہ وفاق پرست جماعت ہونےکے ناطے پیپلزپارٹی سندھ کے سیاسی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھی دانشوروں کی خوش فہمی ہے جو پیپلزپارٹی کے اقتدار کےدنوں میں خود بحود ختم ہوجائیگی۔

پیپلزپارٹی اور سندھی دانشور مستقل ساتھ کتنا چل سکتے ہیں یہ تو اقتدار کے بعد ہی دونوں فریقین کی قربت سے پتہ چل جائے گا۔ مگر دانشوروں کی سرگرمیوں سےلگ ایسا رہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے سوئم پر گڑھی خدابخش میں لگائے گئے نعرے ’نہ کھپے نہ کھپے پاکستان نہ کھپے‘ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

چارسدہانتخابات سے پہلے
مشرف مخالف ہی بم حملوں کا نشانہ کیوں؟
پرویز الہیٰگھرگھر چیک تقسیم
’پری پول رگنگ‘ پر نون لیگ کا حقائق نامہ جاری
متحدہ تخت لاہور پر نظر
پنجاب میں متحدہ کی انتخابی سرگرمیاں
جاوید ہاشمیسہ رخی انتخابی جنگ
شاہ محمود، ہاشمی اور رائے کے درمیان معرکہ
مشترکہ یا جداگانہ
اقلیتی ووٹروں کے لیے کونسا نظام بہتر؟
الیکشن کمیشن پنجاب کشیدگی
انتخابی کدورتیں کشت و خوں کا باعث بنتی ہیں
شیخ رشید احمدسہمے سہمے ووٹر
راولپنڈی کے ووٹر گھروں سے نکلنے سےانکاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد