انتخابات سر پر، ووٹر ڈرے ڈرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عام انتخابات کو پانچ روز رہ گئے ہیں لیکن ملک کے اکثر علاقوں کی طرح راولپنڈی میں بھی عام ووٹر ہی نہیں بلکہ امیدوار بھی امن عامہ کی صورت حال کے باعث پریشان ہیں۔ راولپنڈی شہر میں ماضی کے نسبت اس بار انتخابی سرگرمیاں محدود ہیں اور روایتی گہما گہمی کا فقدان ہے اور انتخابی اجتماعات میں بھی لوگوں کی کوئی زیادہ تعداد نہیں ہوتی۔ بعض لوگ خوف کے باعث انتخابی عمل میں حصہ لینے سے کترا رہے ہیں۔ راولپنڈی شہر کے ایک مکین ناصر محمود کا کہنا ہے کہ’ اس ملک میں سابق وزیر اعظم محفوظ نہیں ہیں اور ان کو قتل کیا جاتا ہے تو عام آدمی کو کون تحفظ فراہم کرے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ آئے روز خود کش دھماکے ہو رہے ہیں اور ہم اپنے آپکو محفوظ نہیں سمجھتے اور میں نہیں سمجھتا کہ پولنگ سٹیشن پر لوگوں کو کوئی سکیورٹی فراہم کی جائےگی۔‘ انہوں نے کہا کہ’ اسی صورت حال میں ہم اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے انتخابی عمل پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں گے اور اس لیئے ان کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنا ووٹ کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اسی شہر کے رہنے والے وجاہت حبیب کہتے ہیں کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب، کہاں اور کس وقت دھماکہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ’ اس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور ڈر کی وجہ سے گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ’ اس خوف اور بے یقینی کی صورتحال میں ہم ووٹ ڈالنے کے لیئےگھروں سے کیسے باہر نکلیں گے۔‘ اسی شہر کے ایک اور رہائشی محمد عامر کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال ٹھیک رہی تو ووٹ ڈالنے کے لیئے جائیں گے بصورت دیگر ہم اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ راولپنڈی میں ہی لیاقت باغ کے مقام پر گزشتہ سال ستائیں دسمبر کو بینظیر بھٹو ایک حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں جبکہ اسی روز راولپنڈی میں ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ حالیہ مہینوں نے راولپنڈی میں فوج پر کئی حملے ہوئے جس کے نتیجے میں درجنوں اہلکار ہوگئے۔ راولپنڈی کے رہنے والے زبیر احمد کا کہنا ہے کہ’ انتخابات میں فوج کی تعیناتی کے باعث خود کش حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیوں کہ فوج ہی حملوں کا ہدف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیئے میں ووٹ نہیں ڈالوں گا۔‘ امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث راولپنڈی میں جہاں عام لوگوں کی شرکت نیم دلانہ ہے وہاں امید وار بھی کہتے ہیں کہ ان کو انتخابی مہم میں مشکلات درپیش ہیں۔ راولپنڈی کے ایک حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار شوکت حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں بدامنی ہے، دھماکے ہو رہے ہیں اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں اور بہت کم لوگ گھروں سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’لوگوں یہ اعتماد بھی نہیں کہ انتخابات کرائیں جائیں گے یا نہیں۔‘ انہوں نے کہا ٹرن آوٹ کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے پنڈی شہر میں امیدوار شیخ رشید کے لیئے بھی حالات مختلف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ امن عامہ کی صورت حال کے باعث لوگوں میں خوف ہے اور وہ دھماکوں میں مر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا ان حالات میں لوگوں کوگھروں سے باہر نکالنے میں مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ ان کے خیال میں اس بار ٹرن آوٹ کم رہے گا۔‘ جہاں عام لوگ سکیورٹی کی صورت حال اور خود کش حملوں کے باعث پریشان ہیں وہاں بعض لوگوں کے خیال میں عمومی رویہ عدلیہ کی دگر گوں صورت حال کے پیش نظر عوام کی طرف سے انتخابی عمل پر ایک لحاظ سے عدم اعتماد کا اظہار بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں امیدوار کتنے ووٹر پولنگ سٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوں گے اس کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا مشکل ہے۔ | اسی بارے میں کراچی، امن و امان کے خدشات12 February, 2008 | الیکشن 2008 ’انتخابات شفاف نہیں ہونگے‘11 February, 2008 | الیکشن 2008 آئی آر آئی سروے میں تیر کا پلہ بھاری11 February, 2008 | الیکشن 2008 جنوبی پنجاب:ووٹر مہر کہاں لگائیں گے10 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان جرنیلوں کے لیے نہیں بنا:شریف10 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||