کراچی، امن و امان کے خدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں میں الیکشن کے روز امن امان کے حوالے سے خدشات اظہار کیے جارہے ہیں۔ ان حلقوں میں نسلی رنگ زیادہ جھلکتا ہے، جس وجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے۔ ان علاقوں میں گلستان جوہر، ملیر، کیماڑی، لیاری، لانڈھی، قائد آباد، سائیٹ ایریا اور سہراب گوٹھ کے علاقے شامل ہیں۔ کراچی میں 2002 کے عام انتخابات کے بعد سے لیکر اب تک بلدیاتی انتخابات ہوں، یا ضمنی انتخابات یا پھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اسمبلی کے الیکشن، متحدہ قومی موومنٹ نے ہی کامیابی حاصل کی ہے۔ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کوشکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہر میں دو ہزار دو کے بعد ہونے والے تقریبا تمام ہی ضمنی انتخابات پرتشدد رہے ہیں، جن کے دوران الیکشن سے ایک روز قبل تو کبھی انتخابات کے روز ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ شھر میں دوہزار تین کو این اے دو سو پچپن پر پہلے ضمنی انتخاب ہوئے۔ ایم کیو ایم حقیقی کے امیدوار کے انتقال کی وجہ سے یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی اور ضمنی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار کامیاب ہوئے۔ اس سے قبل ہنگامہ آرائی میں دو افراد کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اگلے سال یعنی بارہ مئی دو ہزار چار کو قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا، جو اس وقت تک ہونے والے تمام ہی انتخابات میں خونی الیکشن قرار دیا جاتا ہے، جس کے دوران نو افراد ہلاک ہوگئے ۔ یہ انتخابات این اے دو سو چالیس، دو سو تینتالیس اور این اے دو سو چھالیس پر منعقد کیے گئے ، جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کامیاب قرار پائے۔ دو ہزار سات میں این اے دو سو پچاس میں ضمنی انتخابات میں بھی مارپیٹ اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ اس نشست پر ایم کیو ایم کے کیپٹن اخلاق حسین کامیاب قرار دیئے گئے۔ موجودہ انتخابات میں بھی ان ہی حلقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے ان حلقوں میں کچھ امیدوار اسلحہ سمیت انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر عرفان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ اگر دھاندلی کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر خون خرابہ ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے اسلحہ لیکر چلنے پر مجبور ہیں اگر کسی نے ماردیا تو پھر کیا کریں گے۔’ اپنے دفاع کے لیے اسلحہ رکھنا پڑ رہا تھا اور الیکشن کمیشن مکمل طور پر بے اختیار ہے‘۔ گزشتہ سال بارہ مئی کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقعے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد شہر میں نسلی کشیدگی میں ایک نیا ابھار دیکھنے میں آیا اور انتخابات قریب آنے تک ان میں کمی نہیں آسکی۔ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر مطحہ شیخ کا کہنا ہے کہ کراچی کی سیاست گزشتہ دو دہایوں سے قوم پرست سیاست کی لپیٹ میں ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے اور انتخابات میں تصادم کا خدشہ موجود ہے۔ گزشتہ انتخابات میں کراچی وسطی میں کانٹے کے مقابلے دیکھنے میں آئے مگر جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد اب وسطی میں تو کوئی خاص مقابلے نہیں ہیں جبکہ مرکزی شہر کے مضافات اکھاڑہ بن چکے ہیں۔ کراچی کے 3472 پولنگ سٹشینوں میں سے سے نصف کو حساس قرار دیا جارہا ہے جبکہ بلدیاتی انتخابات میں نوے فیصد پولنگ سٹیشن حساس قرار دیے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں انتخابی دھاندلی، مبصرین سےشکایت08 January, 2008 | پاکستان مشرف تمام مسائل کی جڑ ہیں: نواز07 January, 2008 | پاکستان پرامن انتخابات کی امید ہے:یورپی مبصر04 January, 2008 | پاکستان نئی تاریخ پر ق لیگ خوش، باقی نالاں03 January, 2008 | پاکستان ’التوا انتہائی افسوسناک اقدام‘02 January, 2008 | پاکستان ’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘26 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||