BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 11 February, 2008 - Published 11:16 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی آر آئی سروے: تیر کا پلہ بھاری

بینظیر بھٹو
ٹیرر فری ٹومورو کے سروے میں تقریباً سینتیس فیصد لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کی
امریکی ادارے انٹر نیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ نے اٹھارہ فروری کے انتخابات سے متعلق پاکستانی رائے عامہ پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی ابھی تک ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

پیر کے روز جاری ہونے والی آئی آر آئی کی یہ رپورٹ پاکستان کے چاروں صوبوں میں پچاس اضلاع میں ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ مردوں اور خواتین کے سروے پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل کیے گئے تقریباً پچاس فیصد لوگ پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے خواہاں تھے۔ بائیس فیصد لوگوں نے مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا عندیہ دیا جبکہ صرف چودہ فیصد مسلم لیگ ق کے حمایتی نظر آئے۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل نتائج سے قطع نظر، پاکستانیوں نے پہلے سے ہی ذہن بنا رکھا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کو نہیں جیتنا چاہیے۔

جب لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ ق انتخابات میں اکثریت حاصل کرلیتی ہے تو ان کا کیا ردِعمل ہوگا تو اناسی فیصد لوگوں کا جواب یہ تھا کہ وہ سمجھیں گے کہ ا نتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر الیکشن صاف اور شفاف منعقد کرائے جائیں تو کون سی جماعت اکثریت سے کامیابی حاصل کرےگی، اٹھاون فیصد نے پاکستان پیپلز پارٹی، بائیس فیصد نے پاکستان مسلم لیگ نواز جبکہ تیرہ فیصد نے پاکستان مسلم لیگ ق کے حق میں رائے دی۔

صدر مشرف
پچھہتر فیصد عوام کی رائے ہے کے اب صدر مشرف کو مستعفی ہو جانا چاہیے

آئی آر آئی کے سروے کے مطابق صدر مشرف کی شہرت کا گراف گزشتہ تمام جائزوں کے مقابلے میں سب سے کم سطح پر نظر آ رہا ہے اور پچھہتر فیصد عوام کی رائے یہ ہے کے اب صدر مشرف کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

ایک اور امریکی سروے گروپ ٹیرر فری ٹومارو نے بھی انہیں خطوط پر جنوری کے آخری دو ہفتوں میں پاکستانی عوام سے انتخابات کے حوالے سے رائے معلوم کی۔

اس سروے میں تقریباً سینتیس فیصد لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کی، پچیس فیصد نے پاکستان مسلم لیگ نواز جبکہ بارہ فیصد نے مسلم لیگ ق کی حمایت کی۔

اس سروے رپورٹ کے مطابق بھی صدر مشرف کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور ستّر فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ صدر مشرف کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر طالبان ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہوتے تو ایک فیصد پاکستانی اپنا ووٹ ان کو ڈالتے اور طالبان کو تین فیصد نمائندگی حاصل ہوتی۔

پاکستانی ماہانہ میگزین نیوزلائن نے بھی اپنے حالیہ شمارے میں ایک انتخابی سروے شائع کیا ہے جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی میں ایک سو گیارہ، پاکستان مسلم لیگ نواز کو چون، مسلم لیگ ق کو چالیس، ایم کیو ایم کو سولہ، عوامی نیشنل پارٹی کو گیارہ جبکہ متحدہ مجلسِ عمل کو آٹھ نشستیں حاصل ہوں گی۔

بینظیر بھٹوجانشینی کا تنازعہ
بینظیرکی وصیت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے
پی پی پی بینرکراچی کے الیکشن
’اپوزیشن کی مفاہمت نقشہ بدل سکتی ہے‘
جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف کی وضاحت
’شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری‘
بینظیر بھٹوکیا ہو رہا ہے
’منشور کا اعلان کم اور لمبے چوڑے وعدے زیادہ‘
زرداریزرداری میدان میں
ہم بھٹو کے فرزند ہیں، ڈرتے نہیں: آصف زرداری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد