بینظیربھٹو کی جانشینی کا تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آصف زرداری کی طرف سے بالاخر بینظیر بھٹو کی تحریری وصیت منظرِ عام پر لانے سے ان کی جانشینی سے متعلق تنازعہ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ مثلاً آصف زرداری پہلے کیوں اپنے سینئر پارٹی رہنماؤں سمیت کسی کو ہاتھ سے لکھی گئی یہ وصیت دکھانے سے انکاری رہے؟ کوئی پانچ ہفتوں بعد وہ وصیت کو منظر عام پہ لانے پر کیوں مجبور ہوئے؟ یہ وصیت کس تناظر اور کن حالات میں لکھی گئی؟ یا پھر یہ کہ وصیت میں بینظیر بھٹو نے آصف زرداری کو اپنا عارضی جانشین مقرر کیا تو پھر انہوں نے وصیت سے ہٹتے ہوئے یہ ذمہ داری اُنیس سالہ بلاول کے گلے میں کیوں ڈال دی؟ حقیقت یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب آصف زرداری کی طرف سے اچانک یہ دعویٰ سامنے آیا کہ بی بی اپنی سیاسی وصیت چھوڑ گئی ہیں تو پارٹی کے سینئر لوگوں اور بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں کے لیے بھی یہ اعلان حیران کن تھا۔ مخدوم امین فہیم نے بینظیر بھٹو کی کسی سیاسی وصیت کے وجود سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ نوڈیرو ہاؤس میں فرحت اللہ بابر کا خود مجھ سے اصرار رہا کہ وصیت کے حوالے سے خبروں میں صداقت نہیں اور یہ بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔ دوسرے روز تیس دسمبر کی شام پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی تحریری وصیت میں آصف زرداری کو اپنا جانشین مقرر کیا لیکن انہوں نے پارٹی کی تائید سے بلاول زرداری کو نیا چیئرمین نامزد کرکے خود شریک چیئرمین کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ اس اخباری کانفرنس میں آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی تحریری وصیت پریس میں جاری کرنے سے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کیا کہ وہ بلاول زرداری کی نجی ملکیت ہے۔ نوڈیرو میں موجود پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پارٹی اجلاس میں انہیں اپنی قائد کی تحریری وصیت دکھائی نہیں گئی بلکہ بلاول زرداری سے انہیں یہ وصیت پڑھواکر سنائی گئی۔ یوں آصف زرداری کی طرف سے پہلے بینظیر بھٹو کی تحریری سیاسی وصیت کا انکشاف اور پھر اُسے خفیہ رکھنے کی کوشش نے ہی پیپلز پارٹی کے اندر اور باہر اُن کی جانشینی پر سوالیہ نشان لگا دیئے۔ پیپلز پارٹی کے وہ لوگ جنہیں پہلے سے بینظیر بھٹو کی کسی سیاسی وصیت کے وجود پر شک تھا اُنہیں یہ تحریری وصیت بھی شاید آصف زرداری کے حق میں قائل نہ کر سکے۔ جبکہ پارٹی کے وہ لوگ جو آصف زرداری کو اپنا نیا لیڈر تسلیم کر چکے ہیں اُنہیں توقع ہے کہ تحریری وصیت جاری کرنے سے اب آصف زرداری کے مخالفین کے مُنہ بند ہو جائیں گے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وصیت تھی بھی یا نہیں، جو ہے وہ اصلی ہے یا نہیں، سیاست میں زمینی حقائق وہی وضع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے۔ آصف زرداری نے جس وصیت کو بنیاد بنا کر پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی ہے فی الحال پیپلز پارٹی میں اُسے وسیع بے چینی کے باوجود، کسی نے کھل کر چیلنج نہیں کیا، اور نہ ہی کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی نظریں اب اٹھارہ فروری کے انتخابات پر ہیں جن میں وہ پیپلز پارٹی کے حق میں موجود ہمدردی کی لہر کا فائدہ اٹھا کر پارلیمان میں پہنچنا چاہتے ہے۔ آصف زرداری کو اپنی قیادت کے خلاف اگر کھلی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو ایسا الیکشن کے بعد وزارتِ عظمیٰ یا حکومت سازی کے مرحلے کے دوران ہی ممکن ہوگا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو بینظیر بھٹو کی مبینہ وصیت اور آصف زرداری کی جانشینی سے متعلق سوالات بھی پھر سے اُٹھیں گے۔ | اسی بارے میں ’میں بھی وزیرِاعظم بن سکتا ہوں‘05 February, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو کی وصیت05 February, 2008 | پاکستان بائیکاٹ کااعلان مشرف کی مدد: بینظیر02 December, 2007 | پاکستان وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری31 December, 2007 | پاکستان ’بابر اعوان کا بیان ذاتی تھا‘05 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||