BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں بھی وزیرِاعظم بن سکتا ہوں‘

آصف زرداری
میرے علاوہ کوئی ایسی شخصیت نہیں جس پر اتفاقِ رائے ہو: زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمی کے امیدوار ہوں۔

امریکی جریدے نیوز ویک کےصحافی مائکل ہرش کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میں ان کے علاوہ ایک بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جسے کوئی جانتا بھی ہو یا جس پر اتفاقِ رائے ہو۔

تاہم آصف زرداری نے خود ہی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم بننے کے لیے آپ کو پارلیمنٹ کا رکن بننا پڑتا ہے۔’میں فی الوقت پارلیمانی امیدوار نہیں ہوں اور وزیرِ اعظم کے امیدوار کا حتمی فیصلہ پارٹی کرے گی لیکن میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں خواہش مند ہوں یا خواہش مند نہیں ہوں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارٹی میں میری طرح کوئی اور نہیں ہے جس نے گیارہ برس جیل کاٹی ہو‘۔

میرے عزیز ہم وطنو
 میری خواہش ہے کہ میرے شوہر آصف علی زرداری عبوری دور میں آپ کی قیادت کریں۔تاوقتیکہ آپ اور وہ مل کر فیصلہ کرلیں کہ بہترین راستہ کیا ہے۔
بینظیر بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نےستائیس دسمبر کو پارٹی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کے تین روز بعد نوڈیرو میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی وصیت کی روشنی میں بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے سربراہ ،میں شریک چیئرمین اور وزارتِ عظمی کے امیدوار مخدوم امین فہیم ہوں گے۔

نیوز ویک نےمحترمہ بینظیر بھٹو کی وصیت کا سیاسی حصہ بھی شائع کیا ہے۔یہ وصیت جو بینظیر بھٹو نے گذشتہ برس سولہ اکتوبر کو اپنے ہاتھ سے لکھی تھی اسے بینظیر بھٹو کے دوست مارک سیگل نے اصلی قرار دیا ہے۔اس وصیت کے سیاسی حصے کے مندرجات درجِ ذیل ہیں۔

’پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیداران و کارکنان

مجھے آپ کی قیادت کا اعزاز ملا۔آپ نے ایک وفاقی ، جمہوری اور مساوات پر مبنی پاکستان کے لیے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی خاطر جس بے لوثی محنت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اس پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔میں آپ کی جرات و حرمت کو سلام کرتی ہوں۔دو فوجی آمریتوں کے دوران آپ جس طرح اپنی بہن کے شانہ بشانہ رہے میں اس پر بھی سلام پیش کرتی ہوں۔

میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں۔آپ انتہاپسندی، آمریت، غربت اور جہالت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیئے۔

امریکی تفتیش
امریکی حکام کو تشویش ہے کہ آصف علی زرداری کے ساتھ جو داستانیں منسوب ہیں ان کے سبب وہ آگے چل کر پارٹی کے لیئے ایک اثاثے کے بجائے بوجھ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
نیوز ویک

میری خواہش ہے کہ میرے شوہر آصف علی زرداری اس عبوری دور میں آپ کی قیادت کریں۔تاوقتیکہ آپ اور وہ مل کر فیصلہ کرلیں کہ بہترین راستہ کیا ہے۔یہ میں اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ وہ ایک جرات مند اور خود دار شخص ہیں۔انہوں نے بغیر جھکےساڑھے گیارہ سال قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ان کا سیاسی مقام ایسا ہے کہ وہ پارٹی کو متحد رکھ سکیں۔

میں غریب ، پسماندہ اور کچلے ہوئے عوام کی خدمت کے لیے پارٹی منشور کی تکمیل کی راہ میں آپ کی کامیابی کی دعا کرتی ہوں۔آپ عوام کو غربت اور پسماندگی سے نجات دلانے کے لیئے خود کو ماضی کی طرح وقف کر دیجیے۔

بینظیر بھٹو
سولہ اکتوبر دو ہزار سات‘

جریدہ نیوزویک کے مطابق آصف علی زرداری نے اپنی اہلیہ کی وصیت اس لیے عام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بھٹو خاندان کے حقیقی وارث ہونے کے بارے میں جو چہ میگوئیاں جاری ہیں ان کا تدارک ہوسکے۔

بابر اعوان کی تجویز
پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمی کا امیدوار آصف علی زرداری کو ہونا چاہئیے

جب آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ وہ ایک جدید سیاسی جماعت کو وراثت کے جاگیردارانہ طریقے سے چلانے کو کس طرح حق بجانب قرار دیں گے۔آصف نے کہا کہ وہ محض اپنی اہلیہ کی پیروی کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے والد کے قتل کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ پارٹی کی شریک چیئرمین کے طور پر اپنا کیرئیر شروع کیا۔

تاہم نیوزویک کے مطابق امریکی حکام کو تشویش ہے کہ آصف علی زرداری کے ساتھ جو داستانیں منسوب ہیں ان کے سبب وہ آگے چل کر پارٹی کے لیے ایک اثاثے کے بجائے بوجھ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیوزویک کے انٹرویو سے قبل پارٹی کی مرکزی کونسل کے ایک رکن سینیٹر بابر اعوان کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمی کا امیدوار آصف علی زرداری کو ہونا چاہئیے۔

بیان کی کوئی حیثیت نہیں
بابر اعوان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کرے گی
مخدوم امین فہیم

تاہم پارٹی کے سینئر وائس چیرمین مخدوم امین فہیم نے چار روز قبل میرپور خاص میں ایک بیان میں کہا کہ سینیٹر بابر اعوان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کرے گی۔

آصف علی زرداری کی جانب سے وزارتِ عظمی کا خواہش مند ہونے کی بات مخدوم امین فہیم کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔جس سے پارٹی کےاندر کے درجہ حرارت کا کچھ کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
نوڈیرو کے بدلتے مناظر
21 January, 2008 | پاکستان
آصف علی زرداری کا سفر
31 December, 2007 | پاکستان
بینظیر مقدمہ، سماعت ملتوی
25 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد