BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 January, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوڈیرو کے بدلتے مناظر

آصف زرداری
ماضی میں نوڈیرو آصف زرداری کے لیے اتنا اہم نہیں رہا جتنا آج بن گیا ہے

پاکستان کی سیاست میں نوڈیرو کسی نئے شہر یا قصبے کا نام نہیں مگر نوڈیرو کے لیے آصف علی زرداری نئے ضرور ہیں۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بھٹوز کے سیاسی گڑھ اور آبائی شہر نوڈیرو کا انتظام زرداری اور ان کے آدمیوں نے سنبھال لیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ آصف علی زرداری نے بھٹو سٹیٹ کے کسانوں کو پچاس لاکھ کے قرضے معاف کر دیے ہیں۔

مقامی لوگ انہیں ایک ایسے اجنبی کی طرح دیکھ رہے ہیں جو اچانک دوست بن چکا ہو۔ اعتماد کرنے اور نہ کرنے کے درمیاں اپنے خیالات رکھنے والے نوڈیرو کےمکین اور پیپلز پارٹی کےکارکن زرداری کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے لگے ہیں۔

نوڈیرو کا بھٹو ہاؤس ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیوی شیریں امیر بیگم کی رہائش گاہ تھی جو انہوں نے بینظیر۔مرتضی اختلافات کے بعد بینظیر بھٹو کو فروخت کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے آخری دور اقتدار میں نوڈیرو ہاؤس کو وزیراعظم ہاؤس بھی بنایا گیا تھا۔

نوڈیرو ہاؤس کے اندرونی حصے میں ملاقاتوں کے چار چھوٹے کمرے ہیں۔ان تمام کمروں کے دروازے ایک ہال میں کھلتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے اہم رہنماء ہال میں رکھے ہوئے صوفوں پر بیٹھتے ہیں اور آصف سے ملاقات کے لیے اپنی باری یا ان کی نظر پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔ آصف زرداری کا استحقاق ہے کہ وہ جسے چاہیں ہال ہی میں ملاقات کرلیں اور جسے چاہیں کمرے کےاندر ملاقات کی دعوت دیدیں۔

اندرونی حصے کا دستور ہے کہ جب آصف زرداری کمرے یا ہال میں داخل ہو تو تمام مہمان احتراماً اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوں۔ وہ دن میں کئی مرتبہ ہال سے گزرتے ہیں اور تمام خواتین وحضرات اٹھتے بیٹھتے رہتے ہیں۔

 بھائی جان ہم تو بی بی کے آدمی ہیں۔ تمام وفود سے ملاقاتوں کے بعد ہمیں ڈنر پر مدعو کرتی تھیں۔نوڈیرو ہاؤس میں اب ہماری کون سنے گا۔کون ڈنر پر مدعو کرے گا۔ہمارا قصہ تو ختم سمجھو
ایاز سومرو، صدر پی پی پی لاڑکانہ

ایک دن ہال میں پیپلز پارٹی لاڑکانہ کے ضلعی صدرایاز سومرو بھی میرے قریب کھڑے تھے۔انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں انہیں نوڈیرو ہاؤس میں ملاقات کے لیے وقت مانگنا پڑا نہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔ بینظیر بھٹو سے ملاقات کے لیے وہ خود وفود کا انتخاب کرتے تھے مگر اب ان کے لیے حالات بدل گئے ہیں۔

ایاز سومرو نے بھرآئی ہوئی آواز میں کہا ’بھائی جان ہم تو بی بی کے آدمی ہیں۔ تمام وفود سے ملاقاتوں کے بعد ہمیں ڈنر پر مدعو کرتی تھیں۔نوڈیرو ہاؤس میں اب ہماری کون سنے گا۔کون ڈنر پر مدعو کرے گا۔ہمارا قصہ تو ختم سمجھو‘۔

پیپلز پارٹی کی اندرونی لغت میں بینظیر بھٹو کے وفادار بی بی کے آدمی اور آصف کے وفادار زرداری کے آدمی سمجھے جاتے ہیں۔

بینظیر بھٹو اپنے ساتھ رالپنڈی کی ناہید خان اور ان کے شوہر لاڑکانہ کے ڈاکٹر صفدر عباسی کو قریب رکھتی تھیں۔ بینظیر بھٹو سے ملاقاتوں اور جلسوں کا وقت باقی پارٹی رہنماؤں کے لیے دونوں میاں بیوی کی معرفت طے ہوا کرتا تھا مگر میں نے دونوں رہنماؤں کو نوڈیرو ہاوس میں سوئم کے بعد ایک ہفتے تک عام کارکن کی طرح نوڈیرو ہاؤس کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں گھومتے پھرتے دیکھا۔

صفدر عباسی کا کہنا تھا کہ ہماری خدمات محترمہ بینظیر کے لیے ہر وقت حاضر رہیں گی مگر یہ آصف صاحب کو فیصلہ کرنا ہے کہ کس پارٹی رہنماء کو کون سی ذمہ داری سونپی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ آصف صاحب ہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں آصف علی زرداری اور ان کے قریبی دوست ماضی میں ہدف تنقید رہے ہیں مگر بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت زرداری کے ہاتھوں میں آنے سے وہ نقاد بظاہر خاموش ہوگئے ہیں۔

 نوڈیرو کے لوگوں کو وہ دن بھی یاد ہے جب آصف زرداری جیل سے رہا ہونے کے بعد گڑھی خدابخش پہنچے تھے مگر انہوں نے رات کو قیام نوڈیرو میں نہیں شکارپور میں اپنے دوست آغا سراج درانی کے پاس کیا تھا۔دوسرے دن بینظیر بھٹو نے انہیں سکھر سے واپس نوڈیرو روانہ کیا تھا تا کہ وہ نوڈیرو کے شہریوں سے ملاقات کرسکیں۔

نوڈیرو ہاؤس کا تمام انتظام زرداری کے قریبی دوستوں اور پارٹی رہنماؤں آغا سراج درانی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ڈاکٹر شفقت سومرو نے سنبھالا ہوا ہے۔ آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو ان پر اعتماد تھا اور زرداری صاحب کو بھی اعتماد ہے۔ ان کے مطابق آصف کی رہنمائی میں ان کی جماعت ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکے گی۔

نوڈیرو کےلوگوں نے بھٹو ہاؤس کے سخت حفاظتی انتظامات پہلی مرتبہ دیکھے ہیں۔ سو کے قریب ذاتی محافظوں کے سوا حکومت کی جانب سے ایک سو چھبیس اہلکار آصف زرداری کی حفاظت کے لیے تعنیات کیے گئے ہیں۔ ان پولیس اہلکاروں کا انچارج پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کےمشورے سے ایس پی پیر فرید جان سرہندی کو بنایا گیا ہے۔

نوڈیرو ہاؤس کے تمام اطراف میں آٹھ پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں۔

ماضی میں نوڈیرو شہر کی آصف زرداری کے لیے اتنی اہمیت نہیں رہی جتنی آج بن گئی ہے۔ نوڈیرو کے لوگوں کو وہ دن بھی یاد ہے جب آصف زرداری جیل سے رہا ہونے کے بعد گڑھی خدابخش پہنچے تھے مگر انہوں نے رات کو قیام نوڈیرو میں نہیں شکارپور میں اپنے دوست آغا سراج درانی کے پاس کیا تھا۔دوسرے دن بینظیر بھٹو نے انہیں سکھر سے واپس نوڈیرو روانہ کیا تھا تا کہ وہ نوڈیرو کے شہریوں سے ملاقات کرسکیں۔

نوڈیرو کے لوگوں سے آصف زرداری کی تفصیلی ملاقات چند دن پہلے ہوئی ہے۔ انہوں نے نوڈیرو کو ماڈل سٹی بنانے کے لیے شہریوں سے مشورے طلب کیے ہیں۔ شہریوں کی ملاقات کےبارے میں نوڈیرو کے پی پی کارکن رحمت موریو کا کہنا تھا کہ زرداری نے نوڈیرو کے لوگوں کو بتایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی وصیت میں ان لوگوں کا خصوصی ذکر کیا ہے اور وہ ان لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

سوال یہ ہے کہ نوڈیرو ہاؤس کی دیواروں پر آویزاں سر شاہنواز خان بھٹو،ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی بڑی تصاویر کے درمیاں بیٹھا ہوا زرداری کیا ان جیسا پاپولر رہنماء بن سکے گا۔ کیا نوڈیرو کے لوگ ان سے بینظیر اور ذوالفقار بھٹو جیسی اپنائیت سے مل سکیں گے؟

آصف علی زرداری نے مقامی لوگوں میں اپنا مثبت اثر بنانے کے لیے نوڈیرو میں نئی صنعتی یونٹس کے قیام کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے گڑھی خدابخش بھٹو کے قبرستان میں ذوالفقارعلی بھٹو کی مزار کا رکا ہوا کام دوبارہ شروع کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

آصف علی زرداری کو نوڈیرو میں اپنی سیاسی اور خاندانی وراثت سنبھالنے میں بینظیر بھٹو کے چہلم اور انتخابات کے بعد مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے سامنے ذوالفقار علی بھٹو کے کزن سردار ممتاز علی بھٹو خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے ہونگے جنہوں نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ جب سے زرداری بھٹو بننے لگے ہیں وہ ذات بدل کر شیخ بننے کا سوچ رہے ہیں جبکہ مرتضی بھٹو کی بیوہ غنوی بھٹو اور فاطمہ بھٹو کا بھی ان کو سامنا کرنا پڑے گا جن کا ماننا ہے کہ مرتضی بھٹو کے قتل میں آصف زرداری کا ہاتھ ہے۔

نوڈیرو ہاؤس کے سخت حفاظتی پہرے میں آصف علی زرداری اپنی زندگی کے کڑے اور کٹھن امتحان سے گزر رہے ہیں۔ پی پی رہنماء اور نوڈیرو کےمقامی لوگ ان کی تمام باتوں اور سرگرمیوں کو باریک بینی سے جانچنے لگے ہیں۔

نوڈیرو ہاؤس کی دیواروں پر آویزاں سر شاہنواز خان بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی بڑی تصاویر کے درمیاں بیٹھا ہوا زرداری کیا ان جیسا پاپولر رہنماء بن سکے گا؟ کیا نوڈیرو کے لوگ ان سے بینظیر اور ذوالفقار بھٹو جیسی اپنائیت سے مل سکیں گے؟

نوڈیرو کے لوگوں اور پیپلز پارٹی کے خاموش کارکنوں کے ذہنوں کو ان سوالات نے گھیر لیا ہے۔جن کے جوابات آصف علی زرداری کے اقدامات سے جڑے ہوئے ہیں۔

آصف زرداری کا سفرآصف زرداری کا سفر
پیپلز پارٹی کی سٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے
بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
منفرد شخصیت
بی بی دو دہائیوں تک سیاست پر چھائی رہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد