BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 January, 2008, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پی پی خود یواین سے رابطہ کرے گی‘

بے نظیر بھٹو
ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں لیاقت باغ میں جلسے کے بعد بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نےمنگل کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے۔

برطانوی تفتیشی ادارے نیو سکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں سے کراچی میں ملاقات کے بعد آصف زرداری نے بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

آصف زرداری نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات لبنانی وزیر اعظم رفیق ہریری کےقتل کی تحقیقات کی طرز پر اقوام متحدہ سےاس لیے نہیں کرائی جاسکتیں کہ اس میں کوئی دوسرا ملک ملوث نہیں ہے۔

آصف زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت خود کہہ چکی ہے کہ واقعے میں القاعدہ ملوث ہے اور القاعدہ ایک بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم ہے اس طرح وہ خود ہی اپنے بیان کی نفی کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات سے جتنا بھاگیں گے لوگوں کا ان پر شک اتنا ہی بڑھےگا۔

انہوں نے بتایا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ان سے ملاقات کرنا نوڈیرو آنا چاہتی تھی لیکن حکومت نے ان کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں دی جس کے باعث وہ خود کراچی آئے۔

آصف زرداری نے ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا تاہم اتنا ضرور بتایا کہ انہوں نے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو کچھ شواہد فراہم کئے ہیں اور ٹیم نے بھی کچھ سوالات اٹھائے ہیں جن پر انہیں مزید شواہد دیئے جائیں گے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کےمطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد اب پیپلز پارٹی اقوام متحدہ سے براہ راست رابطہ کرے گی۔’پیپلز پارٹی نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہم خود اقوام متحدہ سے رابطہ کریں گے۔‘

انہوں نے کہا انہوں میں نے اقوام متحدہ کی مندوب عاصمہ جہانگیر اور سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے بھی بات کی ہے جو بی بی صاحبہ کو جانتے تھے ان سب کا خیال ہے کہ ہمیں اقوام متحدہ کا دروازے کھٹکھٹانا چاہیے۔‘

آصف زرداری نےصدر پرویز مشرف سے اقتدار چھوڑنے مطالبے کےحوالے سے پوچھےگئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا’ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم الیکشن میں جارہے ہیں اور یہی بی بی صاحبہ کا فیصلہ تھا اور جو جمہوری طریقے ہوتے ہیں حکومت بدلنے کے وہ ہم سب اپنائیں گے۔‘

آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کے اس بیان کو بھی رد کردیا کہ بینظیر بھٹو فوج میں مقبول نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی جو کہ فوج کا دل ہے وہاں سے پچھلے انتخابات میں جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کے بجائے پیپلز پارٹی کے امیدوار زمرد خان نے کامیابی حاصل کی تھی اور اسی طرح ملک کی دیگر چھاؤنیوں میں بھی ان کی جماعت کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد