BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 January, 2008, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی

سکاٹ لینڈ یارڈ
برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان جانے والی ٹیم’تکنیکی ماہرین‘ پر مشتمل ہے۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں مدد کے لیے پاکستان آنے والی برطانوی تفتیشی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی ٹیم کو وزارتِ داخلہ میں بریفنگ دی گئی ہے۔

پاکستان کے نگران وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حامد نواز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بریفنگ کے دوران برطانوی ماہرین کو اب تک کی تفتیش سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی ٹیم اس وقت تک پاکستان میں رہے گی جب تک اس مقدمہ کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ماہرین کی یہ ٹیم اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پاکستانی ٹیم کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ جس جگہ پر یہ سانحہ رونما ہوا، اس کو راولپنڈی کی پولیس اور انتظامیہ نے فوری طور پر دھو دیا جس سے فورنزک شواہد ختم ہو گئے ہوں گے، وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس نے وہاں سے ضروری شواہد حاصل کر لیے تھے اور اس کے بعد اس جگہ کو دھونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ادھر بریفنگ کے بعد برطانوی ماہرین نے سول لائنز تھانے میں موجود بینظیر بھٹو کی گاڑی کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اس گاڑی کی مختلف زاویوں سے تصاویر لیں۔ اس موقع پر اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے ارکان بھی موجود تھے۔اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب چودھری عبدالمجید نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو ابھی تک اس مقدمے کی ہونے والی تفتیش کے بارے میں آگاہ کیا۔

پانچ تفتیشی ماہرین سمیت سات افراد پر مشتمل ٹیم جمعہ کی صبح پاکستان پہنچی تھی جہاں برطانوی ہائی کمیشن کے اہلکاروں نےاسلام آباد ائرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لیکر ہائی کمیشن چلے گئے۔ یہ ٹیم سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسدادِ دہشتگردی یونٹ کے ماہر سراغ رسانوں پر مشتمل ہے اور ان کی پاکستان آمد صدر پرویز مشرف کی جانب سے سانحۂ لیاقت باغ کی تحقیقات پر عدم اطمینان کے اظہار کےاگلے ہی دن ہوئی ہے۔

صدر پرویز مشرف نےجمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اس سانحے کی حالیہ تحقیقات سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین بھیجنے کی درخواست کی تھی۔

برطانوی ماہرین کو اب تک کی تفتیش کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی

تفتیش کے دوران سب سے حساس معاملہ یہ ہوگا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے اصل حقائق جاننے کے لیے ان کی قبرکشائی کی جائے اور ابھی تک بھٹو خاندان نے اس کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے حقائق تک پہنچنا ممکن نہی۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کی بجائے اس واقعہ کی تفتیشی ٹیم کی تکنیکی معاونت کرے۔

ستائیس دسمبر سنہ 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس واقعے کی تفتیش پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس واقعے کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے انکوائری کمیشن سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس قتل کی تحقیقات لبنان کے مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کی طرز پر چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس اس واقعے سے متعلق جو ثبوت موجود ہیں وہ صرف اقوامِ متحدہ کے انکوائری کمیشن کے حوالے ہی کیے جا سکتے ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کی آمد کے ضمن میں بھٹو حاندان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم بہت تاخیر سے آئی ہے اور انہیں اس وقت پاکستان بلانا چاہیے تھا جب اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے حملے میں ایک سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو محض الزامات کی بنیاد پر کسی فرد سے تفتیش کی اجازت نہیں ہو گی اور اگر تفتیش کے دوران کسی حکومتی اہلکار یا کسی شخص کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے آئے تو پھر ان سے پوچھ گچھ کی اجازت دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ غیر ملکی ماہرین کی آمد سے ان’ سازشی افواہوں‘ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جو بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے گردش میں ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے الزام تراشی کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کے تحقیقاتی عمل میں فریق بن کر اپنا موقف پیش کریں گے۔ جمعہ کو مسلم لیگ ہاؤس میں ملک بھر سے مسلم لیگ کے سینیٹرز کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) بے نظیر بھٹو کیس کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سے تعاون کرے گی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستانی حکام نے کسی سیاسی رہنما کے قتل کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لی ہواور اس سے قبل پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور پھر خود بےنظیر بھٹو کے بھائی مرتضٰی بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے بھی سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو طلب کیا گیا تھا۔تاہم دونوں مرتبہ تحقیقات کی تکمیل سے قبل ہی ٹیم کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔

کمشن صرف حکومتی درخواست پر

اقوام متحدہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن حکومت پاکستان کی درخواست پر ہی تشکیل دے سکتی ہے۔

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹوراولپنڈی میں ایک انتخابی ریلی کے بعد مبینہ دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بنیں
اسلام آباد سے ہمارے ساتھی رضا ہمدانی کے مطابق یہ بات بین الاقوامی قانون کے ماہر اور ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر تیمور ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب تک پاکستان حکومت اقوام متحدہ سے تحقیقاتی کمیشن کی درخواست نہ کرے یہ بہت مشکل ہے کہ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں یا اداروں کے مطالبے پر اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل نہیں دے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر سینیٹر آصف علی زرداری اور جماعت کے دیگر قائدین کا مطالبہ ہے کہ بینظیر کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اسی طرز پر پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی لیے بھی ایک تحقیقاتی ٹیم پاکستان بھیجیں۔

بیرسٹر تیمور نے کہا کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں جو اقوام متحدہ نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دی تھی اس کی نوعیت مختلف تھی۔

’رفیق حریری کے قتل میں تیسرے ملک کے کردار کے شواہد موجود تھے۔ اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ نے تحقیقاتی ٹیم بھیجی۔ جب کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں کسی اور ملک کے کردار کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ رفیق حریری کیس کو بینظیر کیس سے نہیں ملایا جا سکتا کیونکہ اقوام متحدہ نے رفیق حریری کیس میں قرارداد کے ذریعے کمیشن کو اتھارٹی دی تھی۔ دوسری طرف بینظیر کیس میں اقوام متحدہ نے پاکستان حکومت پر زور دیا ہے کہ اس قتل کی پوری طرح تحقیقات کریں اور دوسرے ممالک سے بھی کہا کہ پاکستان حکومت کی مدد کریں۔

سکاٹ لینڈ ٹیم وزیرستان میں؟

وزارت داخلہ کے ترجمان اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو قبائلی علاقے وزیرستان بھی لیجایا جاسکتا ہے۔

برطانوی تحقیقات کاروں کی وزارت داخلہ میں بریفنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے تاہم اس پیشکش کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری اور محترمہ کے سکیورٹی ایڈوائزر رحمن ملک کو شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے نام ای سی ایل میں بھی شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ تفتیش کاروں کو تمام اختیارات دیئے گئے ہیں اور وہ ہر کسی کو تحقیقات میں شامل کرسکتے ہیں۔

بات سے باتنسخہِ کیمیاء
بھٹو خاندان کو ختم کرنے کی ترکیب
بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
راولپنڈی سانحہ
تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں
بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر: ٹائم لائن
جلاوطنی، حکومت، جلاوطنی، قتل
مشرف’الیکشن، نو الیکشن‘
بے نظیر بھٹو کا قتل اور صدر مشرف کی مشکلات
قتل کے بعدسوگ، غم، غصہ
بےنظیر کے قتل پر پاکستان کا کیا حال ہے؟
فائل فوٹومشرف کا مشکل سال
وکلاء نے مشرف حکومت کو ہلا کر رکھ دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد