BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 January, 2008, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘

پیپلزپارٹی اقوام متحدہ سے تفتیش کرائے گی
پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملتوی کیےگئےانتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔اگر حکمرانوں نے دھاندلی کی کوشش کی تو انہیں بھر پور شکست نصیب ہوگی۔

بینظیر بھٹو کے آبائی گھر نوڈیرو ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کے مشترکہ اجلاس کے بعد وہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔پیپلز پارٹی کا اجلاس تین گھنٹے جاری رہا جس کی صدارات آصف علی زرداری نے کی۔

صدر پرویز مشرف کی جانب سے سانحہ راولپنڈی کی تفتیش کے لیےسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی مدد حاصل کرنے کےاعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ آج حکمرانوں کو سکاٹ لینڈ یارڈ کیسے یاد آ گئی۔جب بینظیر بھٹو نےسانحہ اٹھارہ اکتوبر کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی مدد لینے کا مطالبہ کیا تھا تو حکمرانوں نےان کی بات کیوں نہیں مانی۔

سکاٹ لینڈ کیسے یاد آئی
آج حکمرانوں کو سکاٹ لینڈ یارڈ کیسے یاد آ گئی۔جب بینظیر بھٹو نےسانحہ اٹھارہ اکتوبر کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی مدد لینے کا مطالبہ کیا تھا تو حکمرانوں نےان کی بات کیوں نہ مانی۔
آصف زرداری

آصف علی زرادری نےکہا کہ سانحہ راولپنڈی کی تفتیش کے لیے ان کی جماعت اقوام متحدہ سے مدد حاصل کرے گی۔عالمی سطح کے وکلاء کو پاکستان طلب کیا گیا ہے جن کی پارٹی کی چھ رکنی کمیٹی مدد کر رہی ہے۔اس کمیٹی میں ڈپٹی رہنما لطیف کھوسہ، شیری رحمٰن، رحمٰن ملک اور دیگر شامل ہوں گے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے پارٹی کے وفود مختلف ممالک کے سربراہوں کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زرداری کے مطابق پیپلز پارٹی کے یہ وفود عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرکے انہیں حقائق سے آگاہ کریں گے کہ پاکستان میں حکمرانی اصل عوامی نمائندوں کے پاس نہیں ہے اور ملک میں انتخابات کے شفاف ہونے کے امکانات بہت کم ہیں اور عالمی رہنماؤں کو انتخابات کی نگرانی کے لیے اپنے وفود بھیجنے کی اپیل کریں گے۔

آصف علی زرداری نےخبردار کیا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، انہوں نے آدھا ملک پہلے ہی اپنی غلطیوں کی وجہ سے کھو دیا ہے اور باقی ملک کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں مگر ان کی جماعت حکمرانوں کو ایسا کرنے نہیں دے گی۔

آصف علی زرداری نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ گورباچوف بننے کی کوشش نہ کریں، ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں، ملک کی جان چھوڑ دیں اور اقتدار قومی نگران حکومت کے حوالے کر دیں۔

آصف علی زرادری نے کہا کہ ملک میں جاری ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے کارکنان ملوث نہیں ہیں اور چند شرپسند عناصر وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری املاک کو نذر آتش کر رہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کےمشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا کو دی گئی بریفنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء مخدوم امین فہیم موجود نہیں تھے۔ اس بارے میں آصف زرداری سے جب سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم ان کی اجازت سے چلے گئے ہیں، انہیں کسی جگہ پر جلدی پہنچنا تھا۔

آصف زرداری کےساتھ یوسف رضا گیلانی، مخدوم شاہ محمود قریشی، جہانگیر بدر، بابر اعوان اور دیگر پارٹی رہنما موجود تھے۔

نوڈیرو ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران آصف علی زرداری کا لہجہ بہت سخت تھا۔انہوں نے سکاٹ لینڈ یارڈ کمیٹی کا خود ہی ذکر کیا اور مشرف کے ایسے اعلان پر شدید غصے میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

بینظیر بھٹو کا چہلم
 بینظیر بھٹو کا چہلم سات فروری کو منعقد کیا جائےگا۔ پارٹی کے ضلعی دفاتر میں سوگ منایا جائے گا۔آصف زرداری نے کہا کہ دوستوں اور دشمنوں کو دعوت ہے کہ ہمارے غم میں شریک ہوں۔
آصف زرداری

آصف علی زرداری نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کا چہلم سات فروری کو منعقد کیا جائے گا۔ پارٹی کے ضلعی دفاتر میں سوگ منایا جائے گا۔ آصف زرداری نے کہا کہ دوستوں اور دشمنوں کو دعوت ہے کہ ہمارے غم میں شریک ہوں۔

نوڈیرو ہاؤس میں آصف علی زرداری کی بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد یہ دوسری پریس کانفرنس تھی۔ اپنی پہلی پریس کانفرنس کی طرح آصف علی زرداری نے بدھ کی شام کی گئی پریس کانفرنس کے دوران بھی صدر مشرف کا نام لینے سے گریز کیا۔ زرداری نے بظاہر تمام تنقید صدر مشرف کے فیصلوں پر کی مگر انہوں نے براہ راست مشرف کا نام لینے سے گریز کیا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کی جماعت مشرف کے ساتھ مل کر کام کرے گی تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایسا وقت آنے پر کیا جائے گا مگر انتخابات کا ہم بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پھانسی کی کال کوٹھڑی سے بھی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نےاپنے کارکنان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات کے حوالے سے کہا کہ حکومت وہ مقدمات ختم کر دے اور گرفتار کارکنان کو رہا کر دے ورنہ احتجاج کیا جائےگا۔

بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
جواب کےمنتظر
وہ سوال جن کا ابھی تک کوئی جواب نہیں
بینظیر بھٹو کا سوئم
دعائیں، غائبانہ جنازہ، اجلاس و جانشینی
 بینظیر’ادھورا انٹرویو‘
نعیمہ مہجور کو انتظار بینظیر کے ٹیکسٹ کا
بینظیر، سوگ، احتجاج جاریچوتھا دن
بینظیر، سوگ، احتجاج جاری
بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
راولپنڈی سانحہ
تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد