BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 January, 2008, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں‘

بینظیر بھٹوکے قتل کے بعد(فائل فوٹو)
’بےنظیر بھٹو کو عوامی اجتماعات میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا تھا تاہم انہوں نے خطرے کو نظر انداز کیا‘

پاکستان کے صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی حالیہ تحقیقات سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور اسی لیے سکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔

صدر مشرف نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کے قتل میں وہ خود یا کوئی انٹیلی جنس ایجنسی یا سرکاری ادارہ ملوث نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو اپنے ہفتہ وار پروگرام ’ایوان صدر سے‘ میں خصوصی طور پر بلائے گئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ بےنظیر کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے سکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون کیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کاروں کو ان لوگوں سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں ہوگی جن کے خلاف بینظیر بھٹو یا کسی نے بھی محض الزام لگائے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر بینظیر کے قتل میں ان کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ’ یہ سوال میرے شان کے مطابق نہیں۔میں کوئی جاگیردار یا قبائلی نہیں ہوں، میں ایک پڑھے لکھے اور مہذب خاندان میں پلا بڑھا اور اس خاندان کے کچھ اقدار ہیں جو ایک کردار میں یقین رکھتا ہے، میرا خاندان قتل میں یقین نہیں رکھتا اور اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا‘۔

 بینظیر بھٹو کے قتل کی اصل وجہ سامنے نہیں آئی کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے حتمی بیان جاری کرنا درست نہیں تھا
صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حفاظتی اقدامات میں حکومت نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ان کے مطابق مقتول سابق وزیراعظم کو اپنی پسند کا چیف سکیورٹی افسر فراہم کیا گیا۔

صدر مشرف نے کہا کہ جائے وقوعہ کو دھماکے کے چند گھنٹوں بعد دھو دینا متعلقہ حکام کی نااہلی ہے تاہم اس واقعہ کو کسی طے شدہ منصوبے کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاحال بینظیر بھٹو کے قتل کی اصل وجہ سامنے نہیں آئی کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے حتمی بیان جاری کرنا درست نہیں تھا۔

 مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کی حقیقی صورتحال سے واقف نہیں۔میں آپ کی لکھی ہوئی کسی بات کا یقین نہیں کرتا۔اس حوالے سے لکھے جانے والے زیادہ تر بلکہ بیشتر مضامین حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔
صدر مشرف

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر تفتیش کے دوران کسی حکومتی اہلکار یا کسی شخص کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے آئے تو پھر ان سے پوچھ گچھ کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو اس بات سے مطلع کر دیا گیا تھا کہ وہ وہ پاکستان نہیں جسے وہ آٹھ برس قبل چھوڑ کر گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کو عوامی اجتماعات میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا تھا تاہم انہوں نے خطرے کو نظر انداز کیا۔

صدر نے کہا کہ گاڑی سے نکلنا بے نظیر بھٹو کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ دھماکے کے باوجود گاڑی میں موجود ان کے ساتھی محفوظ رہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور اس قتل نے مقامی طور پر ملک کو افرا تفری میں دھکیلا ہے۔ اس لیے ان کے بقول اس قتل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے لائے جائیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود ملوث ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس بارے میں انٹیلی جنس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے اس کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اتنا کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں انیس خود کش حملے بیت اللہ محسود نے کروائے ہیں۔

 میں کوئی جاگیردار یا قبائلی نہیں ہوں، میں ایک پڑھے لکھے اور مہذب خاندان میں پلا بڑھا اور اس خاندان کے کچھ اقدار ہیں جو ایک کردار میں یقین رکھتا ہے، میرا خاندان قتل میں یقین نہیں رکھتا
صدر مشرف

انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کی حقیقی صورتحال سے واقف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں آپ کی لکھی ہوئی کسی بات کا یقین نہیں کرتا‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ اس حوالے سے لکھے جانے والے زیادہ تر بلکہ بیشتر مضامین حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔

اس سوال پر کہ وہ خود کو کس قدر محفوظ تصور کرتے ہیں صدر مشرف نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تاہم وہ خود بھی اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کا زور اس بات پر تھا کہ انتخابات کو آٹھ جنوری کے بجائے اٹھارہ فروری کو کرانے کا فیصلہ ضروری تھا۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ میں زور دے کر کہا کہ انتخابات شفاف اور پرامن ہوں گے۔

صدر نے کہا کہ انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے فوج اور فرنٹیئر کور کے دستے بھی تعینات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے جتنے الیکشن آبزرور آنا چاہیں آسکتے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا اٹھارہ فروری کو انتخابات ہوں گے، یہ تاریخ ان کی بیگم اور بیٹی کے جنم دن کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انتخابات ان کی بیگم اور بیٹی کے جنم دن کا قوم کے لیے تحفہ ہو۔

وفاق بمقابلہ اقتدار
اٹھارہ فروری کو کون کیا سوچ کر ووٹ ڈالےگا
تحقیقات کون کرے
بینظیر کے قتل کی تحقیقات کے لیے دباؤ
راولپنڈی سانحہ
تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں
آپریشن تھیٹرایک عجیب اتفاق
بیٹے نے بی بی کا والد نے لیاقت علی خان کامعائنہ
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد