BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 December, 2007, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کا مشکل ترین سال

صدر مشرف
سن دو ہزار سات میں جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنا پڑا
حکومت پاکستان نے سال دو ہزار سات کو سیاحت کے اعتبار سے ’وزٹ پاکستان‘ کا نام دیا لیکن سیاح تو کم آئے سیاسی و عدالتی بحران ایک کے بعد دوسرا آیا۔

ملکی تاریخ یوں تو ایسے بحرانوں سے بھری پڑی ہے لیکن سال دو ہزار سات باآسانی مشکل ترین قرار دیا جا سکتا ہے۔عوام تو ان بحرانوں سے قیام پاکستان کے بعد سے گزر رہے ہیں لیکن دو طاقتور ترین عہدے رکھنے والے پرویز مشرف اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں کبھی اتنے کمزور نہیں دکھائی دیئے جتنے اس سال۔

نو مارچ دو ہزار سات ملکی تاریخ کا ایک اہم دن ثابت ہوا جب اس وقت کے صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نےآرمی ہاؤس راولپنڈی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ایک ملاقات میں ان سے مستعفیٰ ہونے کا تقاضہ کیا۔

اس اقدام کی وجہ حکومت کا ان کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کےغلط استعمال جیسے الزامات پر مبنی ایک ریفرنس تھا۔ انکار پر انہیں ’غیرفعال‘ بناتے ہوئے صدر نے ان کے خلاف ریفرنس کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا۔

وکلاء کی جانب سے اس اقدام پر ایسا ردعمل سامنے آیا کہ خود حکومت کو بھی اس کا اندازہ نہیں تھا۔

نومارچ کا دن
 نو مارچ دو ہزار سات ملکی تاریخ کا ایک اہم دن ثابت ہوا جب اس وقت کے صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نےآرمی ہاؤس راولپنڈی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ایک ملاقات میں ان سے مستعفیٰ ہونے کا تقاضہ کیا۔

وکلاء رہنماؤں کے مطابق ریفرنس کی وجہ بدعنوانی نہیں بلکہ سٹیل ملز اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کے فیصلوں سےحکومت کو ہونے والی ندامت تھی۔

چیف جسٹس نے وکلاء سے مل کر ایک ایسی غیرمعمولی احتجاجی تحریک کی قیادت کی کہ حکومت گھبرا گئی۔سپریم کورٹ کے فل بنچ نے جب جب سماعت کی، عدالت کے باہر وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے احتجاجی میلوں کا باقاعدہ انعقاد کیا۔

اس احتجاجی تحریک نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کا ایک واضح ثبوت نجی ٹی وی چینلز پر احتجاجی جلوس کی براہ راست کوریح اور بحث مباحثے کے چند پروگراموں پر پابندی سے ہوا لیکن تین نومبر کو ہنگامی حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض لوگوں کے خیال میں صدر نے سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز کا فرق بظاہر ختم کر دیا۔

صحافتی تنظیموں کے رہنما سی آر شمسی اس سال کو میڈیا کے لیے بھی بدترین قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ایوب اور ضیاالحق بھی پابندیاں عائد کرتے رہے لیکن موجود حکمرانوں کے ان اقدامات پر افسوس اس لیئے بھی ہوتا ہے کہ وہ تو آزادی صحافت و اظہار کی بات کرتے ہیں۔

میڈیا کے لیے بدترین سال
 سال دو ہزار سات میڈیا کے لیے بدترین رہا۔ سابق فوجی حکمران جنرل ایوب اور جنرل ضیاالحق نے صحافت بھی پابندیاں کیں لیکن موجود حکمرانوں کے ان اقدامات پر افسوس اس لیئے بھی ہوتا ہے کہ وہ تو آزادی صحافت و اظہار کی بات کرتے ہیں۔
صحافتی تنظیموں کے رہنما سی آر شمی

’دو آرڈیننس ابھی موجود ہیں۔ چوبیس ساتھی ہلاک ہوچکے ہیں گزشتہ کئی برسوں میں لیکن ایک کے مقدمے میں بھی کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ اس بار بدقسمتی سے صحافت کو مسخ کیا گیا اور سیلف سینسرشپ کو پروان چڑھایا گیا۔‘

ادھر کئی ہفتوں کی سماعت کے بعد بالآخر بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس مسترد کرتے ہوئے انہیں بحال کر دیا۔

حکومت نے اس فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن وکلاء کا ردعمل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس وقت کے صدر منیر اے ملک نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ سپریم کورٹ اب ملک میں دور رس اقدامات کرے گا۔

چیف جسٹس نے واپسی پر پھر سے دو چار ایسے فیصلے دیئے کہ حکومت کا بھنا جانا قدرتی تھا۔ان میں مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی کی رہائی، اسلام آباد میں صحافیوں اور وکلاء کی پٹائی کے مقدمے میں اعلٰی اہلکاروں کی معطلی اور لاپتہ افراد کے مقدمے میں حکومت کی سرزنش۔

سی آر شمسی
سن دو ہزار سال صحافیوں کےبدترین رہا

سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت حکومت کے لیے سیاسی بھونچال ثابت ہوا۔ نواز شریف دس ستمبر کو آئے لیکن اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے ہی لوٹا دیئے گئے۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر گرفتاری کے ڈرامے میں نواز شریف کو ایک دوسرے طیارے میں ڈال کر واپس سعودی عرب روانہ کر دیا گا۔ تاہم چند ماہ بعد صدر مشرف اچانک سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوئے۔سرکاری سطح پر تو اس دورے کی تفصیل نہیں بتائی گئی لیکن سعودی حکمرانوں سے ملاقاتوں کے چند ہفتوں بعد نواز شریف بھی وطن واپس لوٹ آئے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو بھی اپنی خودساختہ جلاوطنی کے دوران ہر سال بلاناغہ وطن واپس آنے کے عزم تو کرتی رہیں لیکن صدر سے پس منظر میں جاری مذاکرات میں بظاہر پیش رفت، مصالحتی آرڈیننس کے آنے اور حکومت پر بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں وہ بھی اٹھارہ اکتوبر کو لوٹ ہی آئیں۔ ان کی واپسی سے ناراض عناصر نے ان کے کراچی میں استقبالیہ جلوس پر خودکش حملے میں ایک سو چالیس افراد کی جان لے لی۔

جنرل مشرف، جسٹس افتخار ملاقات
سن دو ہزار سات میں نو مارچ سب سے اہم دن رہا جب صدر مشرف نے چیف جسٹس سے استعفیٰ اور چیف جسٹس نے انکار کیا

حزب اختلاف کی جماعتیں عام انتخابات کے بائیکاٹ پر تقسیم دکھائی دیں اور اس کا سب سے زیادہ سیاسی نقصان دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کو اٹھانا پڑا۔ بقول اتحادی جماعتوں کے یہ اتحاد ٹوٹا نہیں لیکن غیرمؤثر ضرور ہو گیا ہے۔

اس کولڈ سٹوریج میں پڑے اتحاد کی افادیت جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہبی ہم آہنگی کے لیئے یہ انتہائی ضروری ہے۔ ’اس کی سیاسی افادیت ضرور کم ہوئی ہے لیکن مسلکی نہیں۔ اس کی مستقبل میں آج سے زیادہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘

ملک میں عام انتخابات تو ضروری تھے ہی لیکن صدر کے لیے سب سے پہلا اور مشکل مرحلہ اس سے قبل اپنا دوبارہ انتخاب یقینی بنانا تھا۔ وکلاء کی احتجاجی تحریک سڑکوں تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے نہ صرف اپنا امیدوار کھڑا کیا بلکہ اس کی بنیاد پر صدر کے دوبارہ انتخاب کو عدالتوں میں بھی گھسیٹا۔

اگرچہ سپریم کورٹ ابھی ان کے مقدمے کی سماعت جاری رکھے ہوئے تھی کہ وکلاء رہنماؤں کو مارشل لاء کے خدشات پیدا ہوئے جو بعد میں ثابت ہوا کہ غلط نہیں تھے۔

جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ، سپریم کورٹ کے ججوں کی معزولی اور میڈیا پر پابندیوں سے دے دیا۔قوم سے رات گئے خطاب میں انہوں نے اس غیرآئینی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے عدلیہ کو دیگر دو حکومتی ستونوں سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

صدر کی وردی کا معمہ بھی تمام سال ملکی سیاست پر چھایا رہا۔ ہنگامی حالت کے دوران نئے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب کو درپیش آئینی چیلنج مسترد کر دیا۔اسمبلیوں سے ستاون فیصد ووٹ تو پہلے ہی صدر کی جیب میں تھے۔جنرل پرویز مشرف نے بطور سویلین صدر اٹھائیس نومبر کو حلف اٹھانے سے ایک روز قبل آرمی چیف کا عہدہ بھی بالآخر چھوڑ دیا۔

فوجی عہدہ تو وہ چھوڑنے کو تیار ہوگئے لیکن ابھی صدارت کو خیر باد کہنے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا۔آئینی و سیاسی مسائل کی بھرمار جو اس سال دیکھی گئی وہ عام انتخابات اور اس کے نتیجے میں نئی پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کے بعد آئندہ برس بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

صدر پاکستان کا سرکاری نشانصدارت کی کہانی
پاکستان کے بااختیار اور بے اختیار صدور
مولانا فضل الرحمانہر طرف سے مشکل
سرحد میں بھی شدید اندرونی چپقلش کا سامنا
لاپتہ افرادامید سپریم کورٹ سے
لاپتہ رہنماؤں کے عزیز عدالت سے پرامید ہیں
نثار سولنگی کی ہلاکت پر سکھر میں صحافیوں کا احتجاجدو صحافی ہلاک
سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
سندھ ہائی کورٹ12 مئی فسادات
’وفاقی و صوبائی حکومتیں جواب دیں‘
اسی بارے میں
چیف جسٹس آف پاکستان معطل
09 March, 2007 | پاکستان
’جھکنے سے انکار پر فارغ‘
11 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد