BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 December, 2007, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں بھی شدید اندرونی چپقلش کا سامنا

مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علما اسلام کو پاکستان کے کئی دیگر علاقوں میں شدید اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔
گذشتہ پانچ سال تک صوبہ سرحد میں حکومت میں رہنے کے بعد متحدہ مجلسِ عمل کی سب سے اہم جماعت جمیعت علما اسلام کو صوبے کے کئی علاقوں میں اندرونی انتشار کا سامنا ہے۔

متحدہ مجلسِ عمل کی دوسری بڑی جماعت جماعتِ اسلامی کے آئندہ عام انتخابات سے بائیکاٹ سے جہاں جمیعت علما اسلام (فضل الرحمان) کے امیدواروں پر منفی اثر پڑنے کے امکانات کو مبصرین رد نہیں کر رہے وہیں اس جماعت کو کئی اضلاع میں درپیش تنظیمی اختلافات اور پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہونے والے رہنماؤں کی بغاوت کا بھی سامنا ہے۔ ان حالات میں جے یو آئی کی آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے امکانات کو ایک بڑے سوالیہ نشان کا سامنا ہے۔

جے یو آئی کے ضلع صوابی سے سابق رُکنِ قومی اسمبلی مولانا خلیل احمد مخلص نے ، جوکہ پچھلے انتخابات میں این اے تیرہ سے کامیاب ہوئے تھے ، جے یو آئی (حقیقی) کے نام سے نہ صرف اپنے ایک علیحدہ گروپ کی داغ بیل رکھی ہے بلکہ اس نام سے اُن کے امیدوار ضلع صوابی سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

جے یو آئی (حقیقی) کے جنرل سیکریٹری نجم خان نے، جو ماضی میں جے یو آئی کی طلباء تنظیم ، جمیعت طلباء اسلام کے سرکردہ رہنما رہے ہیں ، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے یو آئی (فضل الرحمان) قوم سے کیے ہوئے اسلامی نظام نافذ کرنے کے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ مولانا خلیل احمد مخلص کی سربراہی میں جے یو آئی حقیقی کے نام سے انخابات میں حصہ لیا جارہا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اُن کے امیدواروں کو تختی کا نشان بھی جاری کیا ہے۔

’ عوام سے کیِے گئے وعدوں میں ناکامی کے علاوہ ، جے یو آئی کو دی گئی اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ہماری تجاویز پر بھی توجہ نہیں دی گئی جبکہ ضلعی سطح پر جے یو آئی کے رہنماؤں نے جعلی رکن سازی کی ہے جس کی وجہ سے ہم نے اپنا دھڑا علیحدہ کر لیا۔‘

مولانا خلیل احمد مخلص اور جے یو آئی کے ضلع صوابی سے منتخب ہونے والے رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا فضل علی ، جو کہ پانچ سال تک صوبہ سرحد کے وزیرِ تعلیم کے فرائض سر انجام دیتے رہے ، کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی بنیاد پر ضلع کی سطح پر تنظیمی انتخابات کے دوران ہی جے یو آئی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔

پچھلے عام انتخابات میں جے یو آئی کے امیدوار ضلع صوابی سے قومی کی دو میں ایک اور صوبائی اسمبلی کی چھ میں سے دو نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ صوابی سے قومی اسمبلی کی دوسری نشست پر متحدہ مجلسِ عمل کے اہم رکن جماعتِ اسلامی کے نامزد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ جماعتِ اسلامی تو انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی جبکہ جے یو آئی بھی ضلع صوابی میں دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔

صوبہ سرحد کے ضلع لکی مروت میں بھی ، جہاں پچھلے انتخابات میں پارٹی کے مولانا امان اللہ قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے ، پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مولانا امان اللہ کی بجائے پارٹی نے خالد رضا زکوڑی ، جوکہ نگراں صوبائی کابینہ میں وزیر ہیں اور کُچھ روز پہلے ہی پاکستان مسلم لیگ (قائدِاعظم) سے قطع تعلق کرکے جے یو آئی میں شامل ہوئے ہیں ، کو ضلع لکی مروت سے جے یو آئی کا قومی اسمبلی کی نشست کے لیے ٹکٹ دیا گیا ہے۔

البتہ جے یو آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات جلیل جان کا کہنا ہے کہ لکی مروت میں مسائل پر قابو پالیا گیا ہے اور تمام لوگوں کو خالد رضا زکوڑی پر بطورِ امیدوار اتفاق ہے۔ لیکن اُن کا مانناتھا کہ پارٹی ضلع صوابی میں اختلافات کا شکار ہے۔

ضلع پشاور میں جے یو آئی کو درپیش مسائل اُس وقت پیر کے روز واضح ہوئے جب جے یو آئی کے رکنِ مجلسِ عمومی حاجی امیر نواز آفریدی جے یو آئی سے قطع تعلق کرکے عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب کے ہمراہ پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حاجی امیر نواز نے جے یو آئی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام سے کیے گئے وعدے پچھلے پانچ سالہ اقتدار کے دوران پورے نہیں کیے جا سکے۔

تاہم اُن کے پارٹی کو چھوڑ جانے کو جے یو آئی کے لیے غیر اہم قرار دیتے ہوئے جے یو آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات جلیل جان کا کہنا تھا کہ ’مجلس ِ عمومی دس ہزار اراکین پر مشتمل ہوتی ہے لہذٰا کسی ایک رکن کے چلے جانے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ امیر نواز آفریدی کا جے یو آئی چھوڑ جانے کی اصل وجہ اُن کے بیٹے طاہر نواز کو جے یو آئی کے پی ایف دس کے لیے بطورِ امیدوار ٹکٹ کا نہ ملنا تھا۔

سابق وزیرِ اعلیٰ اکرم خان درانی اپنی حکومت کے پچھلے پانچ سالہ کارکردگی کے حوالے سے بڑے مطمئن نظر آتے ہیں ، جس کا وہ کئی مرتبہ برملا اظہار کرتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ وہ اگلی مرتبہ بھی وہ ہی وزیرِ اعلیٰ ہونگے۔ لیکن پارٹی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ جے یو آئی کے لیے حالات پچھلے انتخابات کی طرح موافق نہیں کیونکہ کو صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کرک میں بھی تنظیمی نوعیت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پارٹی آئندہ انتخابات میں شاید مطلوبہ نتائج نہ حاصل کرسکے۔

اسی بارے میں
جمعیت میں اختلافات شدید تر
23 December, 2007 | پاکستان
بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل
14 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد