افسران کی عدم موجودگی کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانحہ لیاقت باغ میں پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے جمعرات کو راولپنڈی پولیس کے ان اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے جو اس واقعہ کے رونما ہونے کے وقت لیاقت باغ میں موجود تھے۔ اس سانحہ کو گزرے ایک ہفتہ ہوگیا ہے جبکہ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اس واقعہ کی تحقیقات ایک ہفتے میں مکمل ہوجائیں گی۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں قائم ٹیم نے جائے حادثہ سے پولیس کے اعلی افسران کی عدم موجودگی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ تفیشی ٹیم نے ڈی ایس پی عبدالرشید سے ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی جس کی ڈیوٹی لوگوں کو واک تھرو گیٹس سے گزار کر جلسہ گاہ میں پہنچانے پر تھی۔ اطلاعات کے مطابق لیاقت باغ میں پیپلز پارٹی کے جلسے کے دوران ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور جس وقت بےنظیر بھٹو پر حملہ کیا گیا تو اس وقت پولیس کا کوئی اہلکار وہاں پر موجود نہیں تھا۔ راولپنڈی پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت بےنظیر بھٹو جلسے سے خطاب کے بعد باہر نکل رہی تھی اور پیلپز پارٹی کے کارکنوں نے ان کی گاڑی کو روک لیا تو اس دوران پولیس سکواڈ جو بےنظیر بھٹو کی گاڑی کو اپنے حصار میں رکھتا ہے وہاں پر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت بےنظیر بھٹو کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے گاڑی سے باہر نکلیں تو اُس وقت پولیس کا سکواڈ مری روڈ پر پہنچ چکا تھا اور جب وہ انہیں معلوم ہوا کہ محترمہ کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے وہاں پر رک گئی ہیں تو پولیس سکواڈ واپس آیا۔ ڈی ایس پی اشتیاق شاہ جو بےنظیر بھٹو کے سیکورٹی سکواڈ میں شامل تھے اور وہ اس خودکش حملے میں زخمی ہوگئے تھے نے جو ابتدائی بیان دیا تھا اس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ اپنی گاڑی ریورس کر کے لا رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے اُس شخص کو دیکھا جس نے بےنظیر بھٹو پر فائرنگ کی لیکن جب وہ اس شخص کو پکڑنے کے لیے لپکے تو دھماکہ ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس سانحہ کے رونما ہونے کے پندرہ سے بیس منٹ کے بعد راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جائے حادثہ پر پہنچے۔واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس کے سربراہ ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن افسر اور دیگر افسران کے ساتھ لیاقت باغ سے ملحقہ ریسکیو ون فائیو کی عمارت کی چھت پر بیٹھ کر سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔ یہ عمارت سٹیج سے چار پانچ سو گز دور ہے جہاں سے بےنظیر بھٹو لوگوں سے خطاب کر رہی تھیں۔ جائے حادثہ سے سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی عدم موجودگی کو بڑی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جبکہ پچاس سے زائد سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو وہاں پر تعینات کیا گیا تھا اور ان پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی یہ تھی کہ وہ مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔ اس واقعہ کے رونما ہونے کے ایک گھنٹہ کے بعد جائے حادثہ کو دھو دیا گیا تھا اور اس ضمن میں راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران کا موقف ہے کہ وہاں سے لوگ خون آلودہ مٹی کو لے کر جا رہے تھے اس لیے جائے حادثہ کو صاف کردیا گیا۔واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے راولپنڈی پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے جائے حادثہ کو دھونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ جلسہ گاہ میں اتنی سکیورٹی ہونے کے باوجود مبینہ خودکش حملہ آور اسحلہ سمیت کیسے داخل ہوگیا اور اس بات کا امکان ہے کہ تفتیشی ٹیم جب اپنی رپورٹ میں اعلی حکام کو پیش کریں گے تواس میں سیکورٹی کی خامیوں کو اجاگر کیا جائے گا جس کی روشنی میں راولپنڈی کی انتظامیہ اور پولیس کے اعلی افسران کو معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان بے نظیر قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں:صدر مشرف03 January, 2008 | پاکستان بینظیر کیس میں مدد کو تیار: فرانس02 January, 2008 | پاکستان ’اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائیں‘ 02 January, 2008 | پاکستان ’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘02 January, 2008 | پاکستان ’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘02 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل کیخلاف احتجاج کا اعلان02 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||