سکاٹ لینڈ یارڈ، مشرف سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے منگل کو صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ملاقات کی اور انہیں اس واقعہ میں ابھی تک ہونے والی تفتیش کے بارے میں آگاہ کیا۔ برطانوی ہائی کمیشن نے اس ملاقات کی تصدیق کی تاہم کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ ادھر ایف آئی کے ڈائریکٹر محمد زبیر بھی اس واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں۔ سی پی او راولپنڈی سعود عزیز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محمد زبیر اس واقعہ کی تفتیش میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نےامریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کیس کا سراغ لگایا تھا۔ سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے ان پولیس اہلکاروں کے موبائل فون کے ریکارڈ بھی طلب کرلیے ہیں جو 27 دسمبر کو لیاقت باغ میں ڈیوٹی پر معمور تھے۔
اس سانحے میں بےنظیر بھٹو کے علاوہ تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے روز پیپلز پارٹی کے جلسے کے دوران ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات تھے۔ برطانوی ٹیم نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم سے بھی کہا ہے کہ وہ ان میں سے کانسٹیبل سے لیکر سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز پولیس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کریں جبکہ انسپکٹر سے لیکر ڈی ایس پی کے عہدے پر فائض پولیس اہلکاروں کے بیانات سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان خود کریں گے۔علاوہ ازیں ایس پی راول ٹاون اور ایس ایس پی آپریشن اور سٹی پولیس افسر کے بیانات بھی قلمبند کیے جاییں گے۔ ادھر سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم جس نے پیر کے روز سول ہسپتال میں مبینہ خودکش حملہ آور کے نامکمل چہرے ہاتھ اور ٹانگ کا معائنہ کیا تھا اس بات پر ور دے رہی ہے کہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس شعبے میں اتنی ترقی نہیں کی اور اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں پولیس اصل ملزمان تک پہنچ سکے۔
نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کی طرف سے بھی اس واقعہ میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دروان راولپنڈی میں جو خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ دریں اثناء برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملیبنڈ نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت اور استحکام میں مخلص ہے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم آئندہ ہفتے پاکستان روانہ کی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے برطانوی دارالعوام میں بیان دیتے ہوئے کہی۔ یہ ٹیم اس ٹیم کے علاوہ ہے جو پہلے ہی بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان میں موجود ہے۔ | اسی بارے میں بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی04 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل، برطانوی تفتیش شروع05 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل، پولیس نفری پر سوال06 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان زرداری کی سکیورٹی کا مطالبہ05 January, 2008 | پاکستان ’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘05 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||