’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بعض سینیئر پاکستانی پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ پاکستان کے مروّجہ طریقوں کے مطابق نہیں ہے۔ پاکستان پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے والے ایک افسر جہانگیر مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قتل کی تفتیش میں مقتول کے ورثاء جس پر بھی شک ظاہر کرتے ہیں انہیں پولیس فوری طور پر حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرتی ہے۔ جہانگیر مرزا نے کہا کہ اسی طرح اگر مقتول خود مرنے سے پہلے کسی پر شک ظاہر کرتا ہے تو وہ بیان مرنے والے کا آخری بیان یا ’ڈائنگ ڈیکلیریشن‘ مانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں جائے واردات کو فوری طور پر دھو کر اور پوسٹ مارٹم نہ کرکے انتہائی سنگین غلطیاں کی گئیں ہیں۔ ’ان وجوہات کے پیش نظر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا کسی نتیجے پر پہنچنا بہت مشکل ہے۔‘ سابق انسپیکٹر جنرل پولیس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سر میں پستول کی گولی لگنے سے ہلاکت تو ہوسکتی ہے لیکن کھوپڑی اس طرح نہیں ٹوٹتی جس طرح بینظیر بھٹو کی ٹوٹی ہے۔ پاکستان پولیس کے ایک حاضر سروس افسر جو اسلام آباد کی پولیس اکیڈمی میں پڑھاتے بھی رہے ہیں ان کی رائے بھی جہانگیر مرزا سے مختلف نہیں۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں اپنے خیرمقدمی جلوس کے دوران ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کا شبہہ جن تین حکومتی شخصیات، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ اور پنجاب کے گورنر خالد مقبول کے پرنسپل سیکرٹری حسن وسیم افضل، پر ظاہر کیا تھا، اصولی طور پر انہیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ تاہم پوسٹ مارٹم کے نکتہ پر پولیس کے اس حاضر سروس افسر کا موقف جہانگیر مرزا سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کا بنیادی مقصد قتل کی وجہ اور وقت جاننا ہوتا ہے جوکہ بینظیر بھٹو کے قتل میں واضح ہیں، اس لیے اس قتل کی تفتیش کو پوسٹ مارٹم کے بنا بھی منطقی انجام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ایک اور سینئر حاضر سروس پولیس افسر نے کہا کہ قتل کی تفتیش میں جائے واردات کو تفصیل سے جانچنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی جگہ کو فوری طور پر دھونے سے اہم ثبوت تو مٹ چکے ہیں لیکن ویڈیو ٹیپس سے کافی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بینظیر بھٹو پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے حملے اور ستائیس اکتوبر کو راولپنڈی میں ہونے والے جان لیوا حملے میں حملہ آوروں کا طریقہ کار ایک ہی تھا۔ ان کے بقول کراچی اور راولپنڈی میں حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی اور بعد میں دھماکہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی پروفائل وارداتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر فائرنگ کوئی اور کرتا ہے جبکہ اصل میں نشانہ جدید اور دور تک مار کرنے والے اسلحہ سے کوئی اور لیتا ہے۔ ان کے بقول بینظیر بھٹو کے قتل میں بھی کچہ ایسا ہی شبہہ ہے۔ بعض پولیس افسران کا کہنا ہے کہ تاحال جو بھی ویڈیو ٹیپ سامنے آئے ہیں ان میں سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پستول سے فائر کرنے والا شخص نیچے ہے اور بینظیر بھٹو گاڑی میں اوپر ہیں، اگر نیچے سے چلنے والی گولی انہیں لگتی تو اس کی سمت مختلف بنتی اور ایسا نہ ہوتا جیسا کہ بینظیر بھٹو کے جسم پر نشانات کا ایکسرے اور بیرونی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلتا ہے۔ جہانگیر مرزا کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایسے نکات پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کرنے والے ماہرین نے بحث کی ہوگی۔ پولیس ماہرین کا موقف اپنی جگہ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں حکومتی موقف میں تضاد کی وجہ سے جہاں تفتیش کاروں کے لیے پیچیدگیوں میں اضافہ ہوگا وہاں حکومت کے خلاف پیدا ہونے والے شکوک و شبہات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے قتل کے فوری بعد کہا کہ بینظیر بھٹو گولی لگنے سے ہلاک نہیں ہوئیں۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا ان پر جان لیوا حملہ وزیرستان کے شدت پسند رہنما بیت اللہ محسود نے کروایا، جب ان کی تردید آئی تو وزارت داخلہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو اپنی گاڑی کا لیور لگنے سے ہلاک ہوئیں۔ جب ان کا یہ موقف بعض ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ویڈیو ٹیپ سے بظاہر غلط ثابت ہوا تو حکومت نے مقامی اخبارات کے ایڈیٹرز کو دی جانے والی بریفنگ میں مبینہ طور پر معافی بھی مانگی۔ ایسی صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کی جانب سے بینظیر بھٹو کو ’ہائی ٹیک ویپن‘ یعنی اعلیٰ تکنیکی اسلحہ سے قتل کرنے کے دعوے کو تقویت ملتی ہے اور اس مقدمے کی تفتیش نیا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں افسران کی عدم موجودگی کا نوٹس03 January, 2008 | پاکستان ’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘02 January, 2008 | پاکستان ’تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے‘03 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||