بینظیر مقدمہ، سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کی جانب سے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت اپنے خلاف کرپشن مقدمات کی واپسی کی درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کو احتساب عدالت کے خلاف حکم امتناعی ختم کروانے کی ہدایت کی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کرپشن مقدمات کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت کی کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت ایک طویل عرصے سے التواء کا شکار تھی۔ بدھ کی صبح جب بینظیر بھٹو کے وکیل نے احتساب عدالت سے استدعا کی کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد ان کی مؤکل کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی قانونی حیثیت باقی نہیں رہ گئی لہذا انہیں خارج قرار دیا جائے تو عدالت نے ان کی توجہ لاہور ہایئکورٹ کے راولپنڈی بنچ کے اس حکم امتناعی کی جانب مبذول کروائی جس کے مؤثر ہونے کے بعد سے عدالت اس مقدمے میں کوئی بھی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ اس موقع پر عدالت میں موجود قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے بینظیر بھٹو کے وکیل کو لاہور ہایئکورٹ سے حاصل کردہ حکم امتناعی کے اخراج کی ہدایت کے ساتھ مقدمے کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ ذوالفقار بھٹہ کےمطابق اکتیس اکتوبر کو بینظیر بھٹواورآصف زرداری کے علاوہ وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ اور ایف آئی اے کے سابق سربراہ اور بینظیر بھٹو کے سکیورٹی ایڈوائزر رحمن ملک کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات کے اخراج کی درخواست کی سماعت کی توقع ہے۔ | اسی بارے میں مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ02 October, 2007 | پاکستان قومی مصالحتی آرڈیننس جاری 05 October, 2007 | پاکستان بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک14 September, 2007 | پاکستان بات بگڑ بھی سکتی ہے: شیخ رشید31 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||