’اپوزیشن مفاہمت سیاسی نقشہ بدل سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں جہاں ماضی میں بھاری اکثریت سے جیتنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ میدان میں ہے وہاں اس کی حریف جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمعیت علماء اسلام (ف) بھی مدمقابل ہیں اور جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں ان جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھی تیزی آتی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین لندن سے براہ راست انتخابی جلسوں سے تفصیلی خطاب کررہے ہیں تو دوسری جماعتوں کے امیدواروں کا زیادہ تر زور کارنر میٹنگز پر ہے۔ مقابلے میں شریک ہر جماعت ہمیشہ کی طرح یہی کوشش کررہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مؤقف اور منشور سے لوگوں کو آگاہ کرے اور انہیں اٹھارہ فروری کو ووٹ ڈالنے کے لیےگھروں سے نکلنے پر آمادہ کرے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں عام انتخابات کا منظرنامہ ماضی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شہر پر دو عشروں سے راج کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کی روایتی حریف جماعت اسلامی میدان میں نہیں اور تجزیہ کاروں کے بقول یہ فرق شہر کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ شہر میں قومی اسمبلی کی بیس اور صوبائی اسمبلی کی بیالیس نشستیں ہیں اور پچھلے پانچ انتخابات میں ایم کیو ایم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی آرہی ہے۔ سنہ 2002 کے انتخابات میں ایم کیوایم نے قومی اسمبلی کی بارہ اور صوبائی اسمبلی کی اٹھائیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ایم ایم اے نے جس میں جماعت اسلامی شامل تھی، قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی چھ نشستیں حاصل کی تھیں۔ تجزیہ کار پروفیسر توصیف احمد کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے خود کو انتخابی میدان سے باہر رکھنے کے فیصلے سے ایم کیو ایم کو فائدہ پہنچے گا۔ان کا کہنا ہے’ کراچی کے سابق ضلع وسطی اور شرقی میں جماعت اسلامی روایتی طور پر متحدہ سے مقابلہ کرتی تھی اور اس نے ایم ایم اے پلیٹ فارم سے 2002ء کے انتخابات میں ان اضلاع میں نشستیں بھی حاصل کی تھیں تو وہاں جماعت اسلامی کے دستبردار ہونے سے ایم کیو ایم کو ایک واک اوور ملا ہے‘۔ صحافی اسلم خواجہ اس بات سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حلقوں میں جہاں پچھلے انتخابات میں ایم ایم اے نے کامیابی حاصل کی تھی اور جہاں پیپلز پارٹی کا ایم ایم اے یا ایم کیو ایم سے مقابلہ رہا تھا وہاں اس مرتبہ پیپلز پارٹی کی فتح کا امکان زیادہ ہے۔ ان کے مطابق’ایک تو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ ملیں گے دوسرا اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کراچی کے مختلف حلقوں میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کی ووٹر نہ ہونے والی برادریاں اس مرتبہ جماعت اسلامی کی عدم موجودگی میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں‘۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد جے یو آئی نے اس بار شہر کی بعض نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی اور ایک نشست پر مسلم لیگ قاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی صرف ایک ایک نشست پر ہی مفاہمت کی ہے۔ پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ اگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے مزید حلقوں میں بھی مفاہمت کی تو انتخابی نتائج بدل سکتے ہیں ورنہ نہیں۔’پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نون اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان اگر زیادہ حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگئی اس صورت میں تو کراچی میں انتخابات کا نقشہ وہ نہیں ہوگا جو 2002ء میں تھا لیکن اگر یہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوئی تو انتخابات کے نتائج پر بہت کم فرق پڑے گا لیکن ان سب باتوں کا انحصار آنے والے دنوں پر ہے‘۔ کیا حزب اختلاف کی جماعتیں بھی یہی سوچ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر راشد ربانی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ان کی جماعت کے مسلم لیگ نون، اے این پی سمیت مختلف جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے بات چیت جاری ہے اور بینظیر بھٹو کے چہلم کے بعد مزید حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹس کا امکان ہے۔ دوسری طرف تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے دن لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھی محنت کرنا ہوگی کیونکہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال اور خاص کر بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد لوگوں میں عدم تحفظ اور بیگانگی کا احساس بڑھا ہے جس کی وجہ سے انتخابات کے دن غالب امکان یہ ہے کہ لوگ بہت کم تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیےگھروں سے نکلیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||