سندھ: سیکورٹی تحفظات اور متوقع ٹرن آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ انتخابات میں سندھ میں ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ ووٹ رجسٹرڈ تھے، آنے والے انتخابات کے لیے اس تعداد میں پچاس لاکھ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے مگر ووٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹرن آؤٹ میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کے آبائی صوبے میں انتخابی سرگرمیاں معمول پر نہیں آسکی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لوگوں میں پہلے ہی مایوسی تھی لیکن بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اس میں شدت آگئی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ اگر تحفظ فراہم کیا گیا تو ٹرن آؤٹ پچاس فیصد سے بڑھ سکتا ہے۔ سینئر سیاست دان معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ ’ آنے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہے گا، لوگ بہت مایوس ہوگئے ہیں۔ یہاں لوگ آٹے اور بجلی کے بحران اور بیروزگاری میں کچلے ہوئے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ عوام یہ دیکھ کر بھی مایوس ہوئے ہیں کہ ’نہ الیکشن کمیشن آزاد ہے اور نہ ہی عدلیہ، فوج نے تمام اداروں کو اپنے بوٹوں تلے روند ڈالا ہے۔‘ معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ کس جماعت کو کتنے ووٹ ملنے چاہئیں، اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کو کوشش کرنی چاہیے کے وہ لوگوں کو باہر نکالیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ انیس سو پچاسی کے غیرجماعتی انتخابات میں رہا جو چوالیس فیصد تھا۔ اس کے بعد اس میں کمی ہوتی رہی اور سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں یہ شرح اڑتیس فیصد رہی۔ تجزیہ نگار اور صحافی منظور میرانی کا کہنا ہے کہ ووٹرز کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کیوں جائیں، جس کا واضح جواب آج تک سیاسی جماعتیں نہیں دے سکی ہیں۔ ’ ووٹر کو ووٹ کی اہمیت کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کی گیا۔‘ منظور میرانی کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہونا چاہیئے مگر کچھ عوامل کی وجہ سے ٹرن آوٹ کم ہونے کے امکانات ہیں۔ ’حکومت کی جانب سے ایسے بیانات آرہے ہیں جن سے لوگوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہورہا ہے۔‘ مثلاً انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے کہا ہے کہ الیکشن میں گڑبڑ کرنے والوں کو فوری گولی ماردی جائےگی۔ ’ اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ گڑ بڑ کون کر رہا تھا؟ اسی نوعیت کا بیان صدر مشرف بھی دے چکے ہیں۔‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر بھی منظور میرانی کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر کو تحفظ کا احساس دلوایا جاتا ہے تو ٹرن آؤٹ پچاس فیصد سے بھی بڑھ سکتا ہے مگر ایسا ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا ہے۔ تاج حیدر کا کہنا تھا کہ ’ لوگوں میں سکیورٹی کا احساس ختم کیا جا رہا ہے، ٹرن آؤٹ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب پولنگ سٹیشنوں پر حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شدید ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہے کیونکہ انتخابات ملتوی کرنے اور ہنگامہ آرائی میں اب ایک لِنک بن چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی ہوگی اور انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے۔ ’ اگر آرمی چیف صرف دو الفاظ کہہ دے کہ کوئی دھاندلی نہیں کرے گا اور فوج اس کی نگرانی کرے گی تو ٹرن آوٹ کا نیا ریکارڈ قائم ہو جائےگا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||