ملک میں الیکشن، ہمیں اس سے کیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے میں ایک تکنیکی عہدے پر فائز ہوں۔ کراچی میں رہتا ہوں۔ جوان ہوں، متلاشی ہوں لیکن میری دنیا ملاحظہ ہو۔ آجکل میرے آس پاس عوام سے ووٹ کی درخواست کرتے امیدوار اپنے آپ کو عوام کا خادم ثابت کرتے نہیں تھک رہے۔آپ کا خادم آپ کا دوست، آپ کے ووٹ کا صحیح حقدار، ضمیر کا قیدی، مارو ٹھپہ تان کے فلاں کے نشان پہ وغیرہ وغیرہ۔ دیواریں ہیں، بڑے بڑے بینرز ہیں، جا بجا بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے، دیو ہیکل سائن بورڈز، عمارات اور گھر پتنگوں کے انتخابی نشان سے اٹے ہیں۔ کہیں کہیں تیر بھی اُڑتے ہیں اور ایک آدھ حلقے میں تو کتاب بھی پڑھی جا رہی ہے۔سائیکل البتہ کہیں نظر نہیں آتی اور شیر تو کیا شیر کی دم بھی نظر نہیں آ رہی۔ لاکھوں روپے کےان دیو ہیکل سائن بورڈز پر مختلف سیاسی قائد اپنی جماعت کے انتخابی نشان کے ساتھ براجمان ہیں۔عجب معاملہ ہے کہ ان پر امیدوار کی اپنی تصویر تو موجود نہیں لیکن پارٹی لیڈر مختلف زاویوں سے تقریباً ہر بورڈ پر چھائے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نہ تو مولوی ہوں نہ چودھری نہ ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور نہ ہی صحافی کہ تجزیہ کروں اور لوگ میری بات بھی سنیں۔ مجھے تجزیہ کرنا بھی نہیں چاہیئے کیونکہ میرے مسائل ہی فرق ہیں۔مجھے آٹا مہنگا لگتا ہے، بجلی بس اتنی دیر کے لیے آتی ہے کہ موم بتی ڈھونڈ لیں، ٹریفک تقریباً ہر وقت جام رہتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ گندے پانی کے ساتھ کبھی کبھار صاف پانی بھی آ جاتا ہے۔ دھواں اور گندگی پرچھائیں کی طرح ہر سانس کے ساتھ چپکے ہیں۔شہری حکومت کہتی ہے کہ اس نے گذشتہ حکومت کے وقت کے ابلتے گٹر بند کر دیے ہیں۔ لیکن لوگ پان تھوکنا تو نہیں بند کریں گے ناں۔ بہتر ہوتا اگر پورے شہر میں اگالدان رکھوا دیتے۔ شہر کے کچھ حصوں میں عوام کے لیے بیت الخلاء موجود ہیں۔ایک دفعہ جانے کا اتفاق ہوا (اتفاق کیا ضرورت پڑ گئی) بغیر کچھ کہے سنے واپس لوٹنا پڑا۔ کہتے ہیں جمہوریت میں اکثریت کی مانی جاتی ہے۔ لیکن اکثریت تو مجھ جیسے لوگوں کی ہے جو گھر بیٹھے یا تو کرکٹ دیکھتے ہیں یا گلی میں کرکٹ کھیل کر چھٹی مناتے ہیں۔ الیکشن کے دن ہاکس بے اور پیراڈائز پوائنٹ پر موجود ہزارہا لوگوں کے ہاتھ چیک کر لیں، شاید ہی کسی کے انگوٹھے پر سیاہی کا نشان ہو۔اگرگزشتہ تمام انتخابات میں ووٹنگ کی اوسط شرح چالیس فی صد بھی مان لی جائے تو ساٹھ فی صد خاموش اکثریت کو کیا کہا جائے؟ مایوس، لا تعلق، سست الوجود یا کرکٹر؟ اسی لیے میں تجزیہ کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں شاعری کر لوں: مثلاً فوج کے ہاتھوں میں ہتھیار ہے، | اسی بارے میں سندھ، ووٹر زیادہ پولنگ سٹیشن کم 29 January, 2008 | پاکستان اٹک: پرویز الہی پر بھرتیوں کا الزام21 January, 2008 | پاکستان کراچی میں آلودگی، گاڑیوں پر پابندی 24 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||