کراچی میں آلودگی، گاڑیوں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ کراچی میں آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر مرحلےوار پابندی عائد کی جائے اور مزید سماعت چار مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس منیب الرحمان اور جسٹس پیر علی شاھ پر مشتمل بینچ نے ایڈووکیٹ اسلام حسین کی درخواست پر بدھ کو یہ حکم جاری کیا ہے۔ اسلام حسین ایڈووکیٹ نے اپنی پٹیشن میں کراچی میں ٹریفک کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور بتایا ہے کہ مقامی بس اڈوں کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی وجہ سے شہریوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ رکشوں اور ٹیکسیوں کے میٹر درست حالت میں نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں سے زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ اکثر گاڑیوں کےسائلینسر بھی درست حالت میں نہیں ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ زیادہ دھواں چھوڑتی ہیں اور شور مچاتی ہیں۔ اس درخواست میں صوبائی اور شہری حکومتوں سمیت محکمۂ ماحولیات کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کو حکم جاری کرے کہ وہ شہریوں کو آلودگی سے پاک ماحول فراہم کریں۔ سندھ ہائی نے حکم جاری کیا کہ دھواں چھوڑنے اور شور مچانے والی گاڑیوں کے خلاف مرحلےوار اقدامات کیے جائیں اور عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سائلینسر پر بھی رکشہ کے نمبر درج ہونے چاہئیں تاکہ فٹنس کے وقت ایک رکشہ کا سائلینسر دوسرے کو لگاکر سرٹیفیکٹ حاصل نہ کیا جاسکے۔ اس سے قبل بھی سندھ ہائی کورٹ شور مچانے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کراچی کی شہری حکومت نے ٹریفک پولیس کے ذریعے شہر میں چلنے والی بیسوں برس پرانی اور انتہائی زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی مگر ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال کر کے حکومتی کوششوں کو سرد مہری کے نذر کردیا تھا۔ صوبائی حکومت نے سن دو ہزار دس تک گاڑیوں کے مالکان کو مہلت دی ہوئی ہے اور ٹو اسٹروک رکشہ کی رجسٹریشن پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹریفک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ٹرانسپورٹ کی درست دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے خلائی اور فـضائی تحقیق کے کمیشن سپارکو نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کہا ہے کہ کراچی میں فضائی آلودگی کی شرح انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ سپارکو کے مطابق دھوئیں کے باعث سینے، ناک اور حلق سے متعلق بیماریوں میں حالیہ چند برسوں کے دوران ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ سپارکو نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی میں موجود درختوں کی آکسیجن چھوڑنے کی استعداد پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔ | اسی بارے میں ’کراچی: جان لیوا حد تک آلودگی‘ 18 April, 2007 | پاکستان آلودگی: ہرسال اربوں روپے کا نقصان18 April, 2007 | پاکستان ٹسرانسپورٹرز کا حکومت پر دباؤ08 May, 2006 | پاکستان ’موجودہ بسیں، ویگنیں ختم کریں‘23 December, 2006 | پاکستان ’ہنڈا سٹی‘: نئی ماحول دوست کار14 January, 2006 | پاکستان پاکستان میں آلودگی کا بحران05 June, 2006 | پاکستان پانی زہریلا، سات سو متاثرین :حکام18 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||