BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 April, 2007, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آلودگی: ہرسال اربوں روپے کا نقصان

 نثار میمن
نثار میمن نے بتایا کہ دس سالوں میں پرندے ٹکرانے کے تئیس سو واقعات میں بارہ طیارے تباہ ہوچکے ہیں
پاکستان کی فضائی اور بحری افواج کو آلودگی کی وجہ سے ہر سال اربوں روپوں کا نقصان پہنچ رہا ہے، صرف بحریہ کو ہی گزشتہ بیس سال میں ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

دفاعی امور کے بارے میں پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی سب کمیٹی کے چئرمین نثار میمن نے بدھ کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیوی کے بحری جہاز اور آبدوزوں کی عمر عام طور پر تیس سال ہوتی ہے مگر آلودگی کی وجہ سے ان کی عمر دس سال کم ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کے دو برساتی نالے، لیاری ندی اور ملیر ندی صنعتی کیمیکل اور ایسی آلودگی سمندر میں لاتے ہیں، جو لوہے کو کاٹ کر کمزور کردیتی ہے۔

سینیٹر نثار میمن نے بتایا کہ ائربیس کے اطراف میں گندگی اور کچرے کے ڈھیروں کی وجہ سے دس سالوں میں بارہ لڑاکا طیارے تباہ ہوچکے ہیں جن میں ایک ایف سولہ طیارہ بھی شامل ہیں، اس طرح ان حادثات میں دو پائلٹ ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ طیارے ان پرندوں سے ٹکرانے کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں جو کچرے کی ان ڈھیروں پر آتے ہیں۔

تین ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز
 کراچی میں پرندے تین ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرتے ہیں اور یہ طیاروں کے گذرگاہوں سے بھی گذرتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں بلکہ کمرشل جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نثار میمن کے مطابق کراچی میں پرندے تین ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرتے ہیں اور یہ طیاروں کے گذرگاہوں سے بھی گذرتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں بلکہ کمرشل جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے مسرور ائربیس کو پاکستان کا خطرناک ترین ائربیس قرار دیا ہے، جہاں سب سے زیادہ پرندہ آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماڑی پور، سائیٹ ایریا، بلدیہ اور کیماڑی میں صفائی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان علاقوں میں پرندوں کی آمد کو روکا جاسکے۔

نثار میمن نے بتایا کہ پی این ایس مہران کے قریب کئی شادی ہال بنے ہوئے ہیں جو ناقابلِ استعمال کھانا وہاں پھینک دیتے ہیں اب انہیں متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ یہ کچرا اور چیزیں دس کلومیٹر دور پھینکیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان کے مطابق فیصل ائربیس کے قریب ملیر نالے کو ڈھکا جائے گا اور اس علاقے سے ریلوے کالونی کو منتقل کیا جائے گا کیونکہ اس علاقے کے رہائشی ریلوے لائن کے قریب کچرا پھینکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کے چار صنعتی زونز میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جارہے ہیں تاکہ کیمیکل اور آلودگی کو سمندر میں جانے سے روکا سکے۔

سینیٹر نثار میمن کے ساتھ موجود مسرور ائربیس کے ائرکموڈر نجیب الاسد نے بتایا کہ فضائیہ کو سالانہ پانچ سو اکہتر بلین روپے ملتے ہیں جن میں سے ساڑھے پینتیس ملین روپے پرندہ مارنے پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

پرندے اور فضائیہ کا بجٹ
 فضائیہ کو سالانہ پانچ سو اکہتر بلین روپے ملتے ہیں جن میں سے ساڑھے پینتیس ملین روپے پرندہ مارنے پر خرچ کیے جاتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں میں پرندے ٹکرانے کے تئیس سو واقعات ہوئے ہیں جن میں بارہ طیارہ تباہ ہوچکے ہیں۔

سینیٹ کی سب دفاعی کمیٹی کے چئرمین نثار میمن کے مطابق وہ مئی تک یہ رپورٹ سینیٹ کو پیش کریں گے جس کے بعد سفارشات منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔

اسی بارے میں
ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک
08 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد