’کراچی: جان لیوا حد تک آلودگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے خلائی اور فـضائی تحقیق کے کمیشن سپارکو نے کہا ہے کہ کراچی میں فضائی آلودگی کی شرح انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ سپارکو نے کہا ہے کہ دھوئیں کے باعث سینے، ناک اور حلق سے متعلق بیماریوں میں حالیہ چند برسوں کے دوران ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ سپارکو نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی میں موجود درختوں کی آکسیجن چھوڑنے کی استعداد پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔ سپارکو نے ٹریفک کے ماحول پر اثرات کی تحقیق کے لیے دوموبائل لیبارٹری یونٹوں کی مدد سے کراچی کی اٹھائیس اہم شاہراہوں پر سروے کیا تھا۔ تحقیق میں پانچ سائنسدان اور دو انجینئیر شامل تھے۔
رپوٹ کا کہنا ہے شہر میں کثیرالمنزلہ پلازوں کی تعمیر کے سبب شہر میں درختوں کے پنپنے کے مواقع بھی محدود ہوگئے ہیں، کیونکہ درختوں کو افزائش کے لیے کھلی دھوپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ کثیرالمنزلہ عمارتوں میں دھوپ اور ایسی کھلی جگہوں کا اہتمام نہ ہونے کے برابر ہے، جہاں درخت پروان چڑھ سکیں۔ سپارکو کی رپورٹ میں ایم اے جناح روڈ اور تبت سینٹر کے درمیانی اور صدر تا میری ویدر ٹاور تک کے علاقے کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے ’شہر میں فـضائی آلودگی کی شرح اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقرررہ حد سے بہت زیادہ ہے اور انسانی صحت کی لیے ایک خاموش خطرہ ہے‘۔
سپارکو کی رپورٹ میں متعلقہ سرکاری محکموں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ’کراچی میں فوری طور پر ڈیزل سے چلنے والی پرانی گاڑیوں پر پابندی عائد کی جائے اور دو اسٹروک رکشوں کو چار اسٹروک میں تبدیل کروانے کے لیے پابند بنایا جائے‘۔ فضائی آلودگی کے ماہر احمد سعید کا کہنا ہے ’کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، ناقص ٹریفک انتظام، پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نہایت پرانی گاڑیوں کا استعمال اور ان سے بڑی مقدار میں دھویں کا اخراج، نیز دو اسٹروک رکشوں سے نکلنے والا دھواں اور شور شہر کی فضا کو کثیف اور شہریوں کو خاموشی سے اعصابی اور جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا کررہے ہیں‘۔
کراچی شہری حکومت کے شعبہ پبلک ٹرانسپورٹ کے مطابق اس وقت کراچی میں پچاس ہزار کے لگ بھگ رکشہ ہیں اور بیس ہزار سے زائد بسیں اور ویگنیں موجود ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں رجسٹرڈ کروائی گئی تھیں۔ مزیدِ برآں ان میں سے پانچ فیصد سے زائد بسیں پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں رجسٹرڈ کروائی گئی تھیں اور اب تک سڑکوں پر موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ایک اندازے کے مطابق روزانہ ساڑھے چار ہزار نئی گاڑیاں سڑکوں پر آرہی ہیں۔ جن میں زیادہ تر کاریں شامل ہیں۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ اس وقت کراچی میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد آٹھ لاکھ سے زائدہے۔
لیزنگ بزنس سے وابستہ نعیم احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کا سب سے بڑا سبب لیزنگ کے تحت گاڑیوں کی خریداری کا رجحان ہے۔ جس سے لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ ناظمِ کراچی مصطفٰی کمال کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کے لیے پانچ ہزار نئی سی این جی بسیں لائی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کراچی شہری حکومت درآمد کنندگان کو زرِ تلافی ادا کرے گی اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کرے گی۔ یہ بسیں آئندہ چند ماہ میں سڑکوں پر ہوں گی۔ نیز کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ ان اقدام کا مقصد کراچی میں دھوئیں کی بلند شرح کو کم کرنا ہے۔ حلق، ناک، کان اور سانس سے متعلق امراض کے ماہر ڈاکٹر حسن جلیسی کا کہنا ہے ’دھوئیں کے سبب ہونے والے امراض خاموشی سے انسان کو موت کے قریب کررہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ چند برسوں سے میرے ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو کسی نہ کسی حوالے سے فضائی آلودگی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان مریضوں کی بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہے‘۔ کراچی میں دھوئیں اور شور کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت پر اس کے مضر اثرات کے پیشِ نظر 26 اپریل، 2006ء کو سندھ ہائی کورٹ نے سندھ کی صوبائی حکومت اور کراچی شہری حکومت کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے تدارکی اقدامات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس عدالتی حکم کے بعد کراچی شہری حکومت، ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے ایک مہم چلائی جس کے پہلے دو روز میں دھواں چھوڑنے والے چالیس رکشہ اور پینتیس مسافر کوچیں ضبط کی گئیں۔ تین ماہ کی مہلت کو گزرے ہوئے ایک سال ہونے کو آیا لیکن فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات و ہدایات کے ٹھوس نتائج اب تک سامنے نہیں آسکے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان میں آلودگی کا بحران05 June, 2006 | پاکستان ’موجودہ بسیں، ویگنیں ختم کریں‘23 December, 2006 | پاکستان جھیل آلودہ خشکی پر بسیرا18 January, 2007 | آس پاس فیصل آباد: بھٹے، کارخانے اورگاڑیاں02 February, 2007 | پاکستان آلودگی: ہرسال اربوں روپے کا نقصان18 April, 2007 | پاکستان آلودہ ساحل کھل گیا04 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||