| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آلودہ ساحل کھل گیا
بظاہر یہ بات ناقابل یقین لگتی ہے کہ ایک طرف تو کراچی کے ساحل پر ہزاروں ٹن تیل بہہ جانے سے پھیلنے والی ماحولیاتی تباہی کا جائزہ لینے اور اس پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی وزارت سائنس نے تینتیس ملین روپے کے بجٹ سے دو سالہ منصوبہ پر کام شروع کیا ہے، اور ادھر کراچی کی مقبول ترین ساحلی تفریح گاہ سی ویو کسی اجازت کے بغیر عوام کے لیے کھل چکی ہے۔ سرکاری پابندی کے باوجود تیل سے آلودہ کلفٹن کے ساحل پر غیر ملکی اور ملکی ریستوران پورے زور و شور سے کاروبار کر رہے ہیں اور ہر روز ہزاروں شہری آلودہ ریت پر گھومتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ اگست میں صدر پرویز مشرف نے بحری جہاز تسمان سپرٹ کے حادثے کے بعد، جس میں ہزاروں ٹن تیل کراچی کے ساحل پر بہہ گیا تھا، سندھ کے چیف سیکٹری متوکل قاضی کی سربراہی میں ہنگامی بنیادوں پر ایک کمیٹی قائم کی تھی۔
اس کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ کراچی کا ساحل اس وقت کھولا جائے گا جب اس بات کا حتمی طور پر یقین ہو جائے گا کہ آلودگی کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا ہے۔ تاہم اس کمیٹی کی جانب سے کسی فیصلے کا انتظار کیے بغیر، ساحل پر قائم مشہور غیرملکی اور ملکی ریستورانوں نے کاروبار کا آغاز کر دیا۔ ایک ریستوران نے تو ’ساحل کی طرف واپس چلو‘ کے عنوان سے تشہیری مہم بھی چلائی جس کے بڑے بڑے بورڈ مرکزی شاہراہوں پر نصب کیے گئے۔ کلفٹن کے سی ویو ساحل پر، جو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تمام دکانیں اور ریستوران لوگوں سے بھرے نظر آتے ہیں۔ ہر شب سینکڑوں گاڑیوں میں ہزاروں لوگ تفریح کے لیے پہنچتے ہیں۔ اختتام ہفتہ اور چھٹی کے دنوں میں تو ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے ساحل پر نصب وہ طاقتور، نئی روشنیاں بھی کھول دی ہیں جن کی وجہ سے سارا ساحل منور ہو جاتا ہے اور لوگ رات کے وقت بھی پانی میں جا سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں کو پانی میں جانے سے روکنے کی ایک بےحد رسمی کوشش کے طور پر ریت میں چند چھوٹے چھوٹے بورڈ نصب کر دیے ہیں جن پر لکھا ہے کہ سمندر میں جانا منع ہے کیونکہ سمندر کا پانی خطرناک اور بورڈ کی تحریر کے مطابق ’ملاوٹ شدہ‘ ہے۔ کراچی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی پروفیسر اور ماہر ماحولیات رچرڈ سٹائنر کا کہنا ہے کہ کراچی کو بحری جہاز تسمان سپرٹ کے حادثے سے پیدا ہونے والے سنگین ماحولیاتی اثرات کا سامنا کئی برس تک کرنا ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ فضائی سپرے کے ذریعے تیل کو سمندر میں بٹھانے کی کوشش ضرور کی گئی ہے لیکن یہ تیل کئی سال تک ساحل پر آتا رہے گا اور آبی حیات، ماحول اور عوام کے لیے سنگین خطرہ بنا رہے گا۔ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اس ہفتے تیل بہہ جانے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے لیے تینتیس ملین روپے سے دو سالہ منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے میں اوشنوگرافی کا قومی ادارہ، پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق اور مرکز برائے مالیکولر جینیٹکس کے ماہرین کام کریں گے۔ کلفٹن کے ساحل کی آلودہ ریت کو چند ہفتے قبل تھیلوں میں بھر کر یہاں سے منتقل کرنے کا کام بھی شروع کیا گیا تھا۔ یہ آلودہ ریت کراچی کے مضافات میں واقع سرجانی ٹاؤن کے نزدیک ایک ’لینڈ فِل سائٹ‘ پہنچائی گئی تھی۔ سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ یہ تھیلے اس علاقے میں ان مخصوص ساخت کے گڑھوں میں دفن کیے جائیں گے جو سندھ کا ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کھود کر تیار کرے گا۔ تاہم آلودہ ریت کے سینکڑوں تھیلے دفن کرنے کے بجائے اس علاقے میں لے جا کر پھینک دیے گئے۔ سرجانی ٹاؤن کے مکین اس پر متعدد احتجاجی مظاہرے کر چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||