اٹک: پرویز الہی پر بھرتیوں کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک غیر سرکاری تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے اپنے اٹک کے حلقے میں بڑی تعداد میں پولیس میں بھرتیاں اور عارضی ملازمین کو مستقل کرکے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ ’پیلڈیٹ‘ نامی اس تنظیم کی جائزہ ٹیم کے مطابق انہیں بیلٹ پیپرز کے غلط استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ پیلڈیٹ کی جانب سے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی سربراہی میں ایک ہزار سات سو رکنی جائزہ ٹیم نے سیاسی و انتخابی طور پر اہم ضلعے اٹک کا دورہ پندرہ جنوری کو کیا تھا۔ یہ ضلع انتخابات سے قبل ہی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہاں سے صوبۂ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ (ق) کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار چوہدری پرویز الہی کا قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا ہے۔ پرویز الہی اٹک کے ضلعی ناظم میجر ریٹائرڈ طاہر صدیقی کے برادرہ نسبتی ہیں جبکہ ناظم کی بیٹی ایمان وسیم اور ان کے شوہر وسیم گلزار بھی قومی اسمبلی کی دو مختلف نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔ ایمان وسیم سابق رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے لیے یہ نشست خالی کی تھی۔
ضلعی ناظم پر الزام تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ اور ضلعی انتظامیہ کے وسائل ان امیدواروں کے حق میں استعمال کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس ضلع کی ایک اور خاص بات یہاں سے قومی و صوبائی نشستوں کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوراوں کی جانب سے شفاف انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے ایک فرنٹ کا قیام ہے۔ ان امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جیتیں یا ہاریں لیکن وہ انتخابات کو شفاف بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔ یہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کا واحد فورم ہے۔ فرنٹ کے ترجمان اور سابق رکن قومی اسمبلی ملک امین اسلم خان نے وفد کو بتایا کہ انہوں نے ضلعی ناظم کے خلاف اپنے امیدواروں کے لیے اپنے دفاتر اور گاڑیاں استعمال کرنے جیسی شکایات ثبوت کے ساتھ انتخابی کمیشن کو ارسال کی ہیں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن ’منظم طریقے سے مفلوج‘ بنا ہوا ہے۔ پیلڈیٹ کی ٹیم نے امیدواروں کے علاوہ انتخابات سے متعلقہ تمام سرکاری اہلکاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ جائزہ ٹیم کو بیلٹ پیپرز کی حد تک دھاندلی کے کوئی شواہد نہیں ملے لیکن انہیں چوہدری پرویز الہی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے آخری ایام میں ضلع میں تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنا اور تقریباً سترا سو پولیس کانسٹیبلوں کی تعیناتی کا حکم دینے کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وفد کو بعض امیدواروں کی جانب سے ضلعی ناظم کی تصاویر والے بینر بھی نظر آئے تاہم ناظم کے بقول یہ ان کو آگاہ کیے بغیر کیا گیا۔ ناظم نے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ایسے تمام بینروں اور پوسٹروں کو ہٹانے کا حکم دیا۔ ٹیم کو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بتایا کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ہنگاموں میں ملوث ہونے کی تین رپورٹیں درج کی گئی ہیں جن پر ابھی تو کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم انہیں خدشہ ہے کہ انتخابی مہم میں تیزی آنے پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ضلع ناظم نے انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے اعلان سے بھی انکار کیا ہے۔ ٹیم نے تاہم ناظم کی جانب سے سیاسی عمل کو اپنے رشتہ دار امیدواروں کے حق میں موڑنے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا۔ جائزہ ٹیم نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر اہلکاروں سے غیرجانبدار رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی عملے کو انتخابی قوانین کے حوالے سے محتاط رہنے کے لیے کہا ہے۔ | اسی بارے میں ’قبل از الیکشن عمل غیر منصفانہ‘10 January, 2008 | پاکستان ’چارلاکھ ورکروں کےخلاف مقدمات‘09 January, 2008 | پاکستان ’ISI کی مداخلت بند کرائیں‘04 January, 2008 | پاکستان بینظیر انتخابی دھاندلی پر رپورٹ دینے والی تھیں: امریکی میڈیا01 January, 2008 | پاکستان انتخابات، جماعتیں اور منشور17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||