BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چارلاکھ ورکروں کےخلاف مقدمات‘

پیپلز پارٹی کے چار لاکھ کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت ملک بھر میں ان کے چار لاکھ سرکردہ کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ سیل کے سربراہ سینیٹر لطیف کھوسہ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سمیت بیشتر ان کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جنہیں الیکشن کے دوران ایجنٹ بٹھانے کی تربیت دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں میں پیپلز لائرز فورم کی جانب سے گرفتار کردہ سینکڑوں کارکنوں کی رہائی اور تاحال گرفتار نہ ہونے والوں کی ضمانتیں کرانے کے لیے متعلقہ اضلاع کے سیشن ججوں کی عدالتوں میں درخواستیں دائر کی جائیں گی۔

ان کے بقول سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو مفت قانونی مدد فراہم کی جائے گی اور حکومت کی کارروائیوں کے بارے میں دنیا بھر کے سفارتی نمائندوں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے رجوع کر کے حقائق سے آگاہ کریں گے۔

نیوز بریفنگ میں لطیف کھوسہ نے صدر پرویزمشرف اور الیکشن کمیشن سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ نگران حکومتیں مسلم لیگ (ق) کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ کارکنوں کو اٹھارہ اکتوبر تک گرفتار کرنا چاہتے ہیں، جو کہ انتخابات سےقبل دھاندلی کے برابر ہے۔

بریفنگ کے موقع پر غلام قادر بگٹی اور ان کا بیٹا سرفراز بھی موجود رہے۔ سرفراز بگٹی کے بارے میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ پہلے خفیہ اداروں نے انہیں کاغذات نامزدگی دائر نہیں کرنے دیئے اور بعد میں ان کے خلاف بارودی سرنگ بچھانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

لطیف کھوسہ نے چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کا نام لیے بغیر کہا کہ گجرات کے چودھری ملک توڑنے کی کوششوں سے باز آجائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ سے پنجابی بولنے والوں کو سرمایہ نکال کر پنجاب منتقل ہونے کے مشورے دینے والے ملک توڑنے کی بات کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی ویڈیو ٹیپ سمیت مستنعد ثبوت ان کے پاس موجود ہیں جو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی لیڈر کو شہید کر کے جائے حادثہ کو دھوکر صاف کیا گیا اور حکومت نے متعدد بار اپنا موقف تبدیل کر کے ثابت کر دیا کہ وہ حقائق چھپانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ طالبان اس قتل میں ملوث ہیں، لیکن پستول والا شخص نوجوان اور بنا داڑھی کے ہے، اندھیرے میں کالی عینک پہنا ہوا ہے اصل میں یہ عینک خاص نوعیت کی ہے جس سے رات کےاندھیرے میں بھی صاف نظر آتا ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ایک ترجمان نذیر ڈھوکی بھی موجود رہے اور انہوں نے کہا کہ وہ حکمرانوں اور خصوصاً ناظمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن لاورث نہیں ہیں۔نذیر ڈھوکی نے ان کی جماعت کے کارکنوں کے خلاف مخالفین اتنا ظلم کریں جس کا حساب دے سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد