کسی کو نہیں معلوم کیا ہورہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محترمہ بینظیرکے قتل کے بارے میں اسکاٹ لینڈ یارڈ بھی اتنا ہی معلوم کرسکا جتنا پاکستانی حکام کو معلوم تھا۔ یعنی ان کی موت گولی لگنے سے نہیں بلکہ اپنی گاڑی کی چھت میں کھلنے والی کھڑکی سے سر ٹکرانے سے ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس تفتیش کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا یہی کہنا ہے کہ محترمہ کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے تاہم اب ان کا اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے تحت تحقیقات کرانے کا مطالبہ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ محترمہ کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ہر دو جانب سےجو بھی کارروائی ہوئی ہے اس کا اگر کھلے ذہن سے جائزہ لیا جائے تو یہ عیاں ہوجاتا ہے کہ اس سلسلے میں سب نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اتنے بڑے واقعے کے بعد پولیس والے بجائے اس کے کہ متعلقہ تمام شہادتوں کو ضائع ہونے سے بچاتے وہ اس کی صفائی میں لگ گئے۔ ہسپتال والوں کو تفصیلی پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کرنی چاہئے تھی، انہوں نے اس کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی۔ پیپلز پارٹی کے اہل کاروں اور محترمہ کے ورثا کو پوسٹ مارٹم کے بغیر لاش لینی نہیں چاہئے تھی، انہوں نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ والوں نے بھی اس پر اصرار نہیں کیا اور جو شہادتیں مہیا تھیں اسی پر اکتفاء کرتے رہے۔ اور اب محسوس یہ ہوتا ہے کہ محترمہ کے قتل کی تفتیش میں کسی کو دلچسپی نہیں، سب اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ محترمہ کے حامیوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس کی ذمہ داری اپنے مخالفین پر عائد کردی جائے جبکہ حکومت اور اس کے حامی اس سانحہ کو پیپلز پارٹی کی لاپرواہیوں کانتیجہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو متنبہ کرناچاہتے ہیں کہ اگرہاتھ پیر زیادہ پھیلانے کی کوشش کی تو ہم ذمہ دار نہیں۔ چنانچہ روز ایک خبر آجاتی ہے کہ خبردار ہشیار دہشت گرد فلاں علاقے میں داخل ہوگئے ہیں۔ اب اگر واقعی دہشت گرد داخل ہوگئے ہیں تو متعلقہ محکمے کو یا ایجنسی کو انکا پتہ لگانا چاہئے اور ان کی سرکوبی کی ترکیب کرنی چاہئے، ان کی آمد کی اطلاع مشتہر کرنے سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ ماسوا اس کے کہ عام لوگوں میں دہشت پھیلے گی اورمعمولات زندگی جو پہلے ہی غیرمعمولی صورتحال سے دوچار ہیں اور متاثر ہوں گے۔ ادھر جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ملک میں امن و امان کی صورتحال اور بگڑتی جا رہی ہے۔ خودکش حملہ آور تو اپنی جگہ ،انتخابی جلسے جلوسوں میں بھی گڑ بڑ شروع ہوگئی ہے۔ ایک اطلا ع کے مطابق جمعہ آٹھ فروری تک اس مد میں چار افراد ہلاک ہوچکے تھے جبکہ ابھی انتخابی مہم میں وہ زور نہیں آیا جو پاکستان کا خاصہ ہے۔
پھر جو جلسے جلوس ہو رہے ہیں ان میں سیاسی رہنما اپنے پروگرام یا منشور کا ذکر کم کرتے ہیں اور لمبے چوڑے وعدے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ پرویز الٰہی صاحب نے فرمایا کہ پورے ملک میں بیروزگاری ختم اور تعلیم عام کردیں گے۔ یہ نہیں بتاتے کہ آخر کیا کریں گے جس سے تعلیم عام اور بیروزگاری ختم ہوجائے گی۔ نواز شریف صاحب کا کہنا ہے کہ وہ اگر حکومت بنا پائے توپاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دیں گے۔اب یہ نہیں بتاتے کہ یہ جو وعدہ فرما رہے ہیں تو اس کو پورا کرنے کے لیے کس منصوبے پر عمل کریں گے، پیسے کہاں سے لائیں گے، کیا ترکیب کریں گے۔اس لیے کہ فی الحال جو صورتحال ہے یہی برقرار رہ جائے تو غنیمت ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی میں آصف زرداری صاحب فرماتے ہیں کہ وفاق کو مضوط کریں گے۔ یہ نہیں بتاتے کہ اس مقصد کے لیے مرکز کے اختیارات میں مزید اضافہ کریں گے کہ صوبائی خود مختاری کو فروغ دیں گے۔ تقریریں اور بیانات سےمحسوس ہوتا ہے کہ کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ میاں شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ پرویز مشرف غیر جانبداری اختیار کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف سے تو بات ہوہی نہیں سکتی، ہاں اگر چودھری برادران معافی مانگ لیں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ اگر میاں صاحب وعدہ کریں کہ وہ دوبارہ ملک سے نہیں بھاگیں گے اور آصف زرداری کی دوستی سے توبہ کرلیں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی سیاسی اتحاد ہوتے ہیں تو اقتصادی پروگرام یا سیاسی نظریات میں ہم آہنگی یا قربت کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ اس طرح کی شرطیں انفرادی تعلقات کے سلسلے میں تو لگائی جاسکتی ہیں سیاسی اتحاد کے لیے ایسی شرطیں لگانا ذہنی ناپحتگی کی علامت ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا تو یہ عالم ہے ادھرصدر پرویز مشرف کبھی کبھی ایسے بیان دے دیتے ہیں جس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے جو کچھ ہورہا ہے ان کی مرضی کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ چنانچہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں تھائی کھانا کھانے پہنچے تو وہاں ایک اخباری نمائندے سے ملاقات ہوگئی اور گفتگو کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار مخمد چودھری کا ذکر آگیا تو،انہوں نے انتہائی یقین اور اعتماد سے فیصلہ صادر کردیا کہ چودھری صاحب کو آئندہ پارلیمنٹ بھی بحال نہیں کرسکتی اسلیے کہ اسکے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت چاہئے جو کسی کو نہیں ملے گی۔ ایک بار 1990 کے انتخابات کے دوران میری ملاقات میاں نواز شریف کے ایک سرگرم مشیر سے اسلام آباد میں ہوئی۔ میں نے یوں ہی پوچھ لیا کہ پیپلز پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کہا 45 ،میں سمجھا یوں ہی ہانک رہے ہیں لیکن نتیجہ آیا تو واقعی 45 سیٹیں ملیں۔ بعد میں یہ مشیر محترمہ بینظیر کے مشیر بن گئے اور اب شائد امریکہ میں ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ صدر نے پہلے سے یہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ انتخاب کے نتیجے میں کسی پارٹی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل نہ ہو، یہ جملہ یوں ہی انکی زبان سے نکل گیا ہوگا لیکن اس سے یہ تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ صدر کی خواہش یہی ہے یا وہ کم از کم سوچ ان ہی خطوط پر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||