صدر مشرف کی چڑ چڑاہٹ کے اسباب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق فوجیوں نے بھی صدر مشرف کو ملک کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان فوجیوں کے ایک حالیہ اجلاس میں، جس کی صدارت فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ ائر مارشل (ر) اصغر خان نے کی، ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں نہ صرف صدر مشرف کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا بلکہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو قائم مقام صدر بنانے اور سپریم کورٹ کے معزول جسٹس رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کا بھی مطالبہ کردیا گیا۔ اجلاس میں اعلیٰ اور ادنیٰ ہر طرح کے سابق فوجی موجود تھے۔ ایسے بھی تھے جن کے شانوں پر صدر مشرف کی پیدائش سے پہلے ستارے لگ گئے تھے اور ایسے بھی جن کی صدر مشرف خود ماتحتی کرچکے ہیں۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے اقتدار پر صدر مشرف کے قبضے کی بالواسطہ یا بلا واسطہ حمایت بھی کی تھی اور ان کے ساتھ حکومت میں بھی شامل رہے تھے۔ صدر مشرف نے اپنے یورپ کے حالیہ دورے میں ان تمام فوجیوں کو بیکار قرار دے دیا تھا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ فوجی کی ساری طاقت اس کی وردی میں ہوتی ہے۔ الف لیلوی کہانیوں کے دیو کی طرح جس کی جان کسی طوطے میں بند ہوتی تھی، طوطا گیا دیو گیا۔ فوجی کی بھی وردی اترتے ہی اس کا تمام کروفر اور شان وشوکت گاؤ خورد ہوجاتی ہے لیکن یہ سابق فوجی پاکستان کے شہری بھی ہیں اور اس حیثیت میں وہ شائد ابھی بیکار نہیں ہوئے ہیں، انہیں کم از کم صدر کے خلاف اپنا احتجاج رجسٹر کرانے کا اختیار تو حاصل ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کی راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔ تین سال پہلے اگر وہ وردی اتارنے کے وعدے پر قائم رہتے تو ممکن ہے ان کے مخالفین کی صف اتنی لمبی نہیں ہوتی جتنی آج نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران اگر وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس نہیں داخل کرتے اور عدالتی ایکٹیوزم سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کی ہمت افزائی کرتے تو یہی ان کی نجات کا ذریعہ بن سکتا تھا کہ کم از کم عدالتی فیصلوں کے احترم کا تو ان میں حوصلہ ہے۔
اسی طرح اگر وہ تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے اپنے صدارتی انتخاب کے بارے میں عدالتی فیصلے کا انتظار کرلیتے تو عین ممکن تھا کہ کوئی بہتری کی شکل پیدا ہوجاتی اور اگر عدالت کا فیصلہ ان کے خلاف بھی آتا جب بھی وہ موجودہ صورتحال سے تو بہتر ہوتا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کے دوستوں اورحامیوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، خود مسلم لیگ (ق) کے رہنما جناب پرویز الٰہی کی تقریروں میں ان کا ذکر کم ہوتا جا رہا ہے اور ڈاکٹر شیر افگن جیسے لوگ جو خواب میں بھی ان کے حق میں نعرے لگانے سے نہیں چوکتے تھے منظر سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ مشاہد حسین ذہین اور جہاں دیدہ آدمی ہیں، روزنامہ مسلم میں ہمارے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں خون گرم رکھنے کے بہانوں اور جھپٹنے اور پلٹنے کے فن سے اچھی طرح واقف ہیں۔ چنانچہ تین نومبر کی ایمرجنسی کے بعد سے ہی صدر پرویز سے اپنا فاصلہ دور کرتے جا رہے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ بھی محترمہ بینظیر کی ہلاکت کے بعد خاک میں مل گئیں اور اب اگر جناب آصف علی زرداری چاہیں بھی تو عوام صدر مشرف سے کسی طرح کے تعاون کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) میں کچھ ایسے عناصر تھے جو صدر سے معافی تلافی کے لیے تیار تھے لیکن اب شائد اس کا وقت گزر چکا ہے اور جناب نواز شریف کے بیانات اور تقریروں سے تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے صدر مشرف کی مخالفت کے سوا عوام کو دینے کے لیے ان کے پاس اور کچھ ہے ہی نہیں۔ ادھر امریکہ سمیت صدر کے بیرونی دوستوں میں بھی ان کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں، کوئی امداد بند کرنے کی بات کر رہا ہے کوئی مجوزہ عام انتخابات میں’تھوڑی بہت، دھاندلی کا امکان ظاہر کر رہا ہے، بعض امن و امان کی صورتحال کے پیش نظرانتخابی مبصر بھیجنے سے کترا رہے ہیں۔ دوسری جانب وہ جو کبھی کبھی ایک امریکی میزائیل قبائلی علاقے کے کسی گھر پر گر جاتا ہے اس میں القاعدہ کے رہنما ہلاک ہوں یا نہیں لیکن صدر مشرف کی ساکھ کے لیے وہ بہت ہلاکت خیز ثابت ہوتا ہے۔ ان کی ساری یقین دہانی کہ ’ کسی غیر ملک کی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت نہیں دے جاسکتی، دھری کی دھری رہ جاتی ہے‘۔
خود کش حملوں کا بھی یہ عالم ہے کہ سڑک پر کسی کو ذرا زیادہ پہنے اوڑھے دیکھتے ہی دم نکل جاتا ہے کہ کہیں اچانک پھٹ نہ جائے- اور تو اور لوگ آٹے کی قلت کو ابھی رو ہی رہے تھے کہ گیس اور اب خوردنی تیل بھی ناپید ہونے لگا۔ اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے اصل اسباب کیا ہیں یہ تو شائد ہی کوئی بتاسکے لیکن یہ سب صدر مشرف کے ہی کھاتے میں جارہا ہے ۔ ان کو بھی شائد اس کا احساس ہوچلا ہے چنانچہ یورپ کے اپنے حالیہ دورے میں انہوں نے جو تقریریں کیں یا اخباری کانفرنسوں میں صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیے ان میں چڑچڑاہٹ کا عنصر نمایاں تھا جو مایوسی کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ صدر ایک آخری کوشش کے طور پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا، عدلیہ، صحافیوں، سابق فوجیوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ دوسری تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کی کانفرنس بلائیں اور ان کی مرضی اور منشا سے ملک کے عظیم تر مفاد میں کو ئی راستہ تلاش کریں۔اگرچہ اتنے سارے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا یقینی بہت مشکل کام ہے لیکن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے تو یقینی بہتر ہے اور کون جانے کوئی بہتری کی صورت پیدا ہو ہی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||