جنوبی پنجاب:ووٹر مہر کہاں لگائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ اہم دریاؤں کے ملاپ، سوا لاکھ پیروں اور بعض انتہائی اہم سیاسی خاندانوں کی سرزمین جنوبی پنجاب میں چند دن گزارنے کے باوجود اس بات کا تعین کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ اٹھارہ فروری کے دن زیادہ تر ووٹروں کی مہر کہاں لگے گی۔ عام لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب سی ناقابل بیان کیفیت نظر آئی ، یہ غیریقینی ہے، غصہ ہے یا لاچاری کہنا مشکل ہے۔ کسی پر محض ایک نظر ڈالنے سے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کی سیاسی سوچ اور رحجان کیا ہے۔ وہ کس سیاسی جماعت یا سیاستدان کے حق میں ہے۔ پولنگ میں محض آٹھ روز رہ گئے ہیں۔ انتخابی مہم کی شکل و صورت ماضی کی مہمات سے سکیورٹی کی دگرگوں حالت کی وجہ سے تبدیل دکھائی دے رہی ہے۔ بڑے بڑے جلسے جلوس تو اکا دکا ہیں، چھوٹی چھوٹی ریلیاں اور کارنر میٹنگز بھی کوئی خاص نہیں۔ پہلے پہل امیدوار بڑے بڑے جلوسوں میں گھوما پھرا کرتے تھے۔ بینڈ باجا آگے آگے اور سر سے پاؤں تک پارٹی پرچموں یا سٹیکرز سے سجے کارکن اور حمایتی پیچھے پیچھے۔ اب امیدوار کے ساتھ اس کے اپنے ہی ساتھیوں کو دیکھ کر نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس کا حمایتی ہے بھی یا نہیں۔ جنوبی پنجاب کا ہیڈکواٹر ہونے کے ناطے ملتان میں اہم چوراہوں پر ہی انتخابی اشتہارات، بینزز اور پوسٹرز کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے۔ باقی راستوں، سڑکوں پر اکا دکا پوسٹر ہی نظر آتے ہیں۔ دیواروں کو بھی ووٹ مانگنے کے وعدوں اور امیدواروں کی بہادری کے دعووں سے رنگین کیا گیا ہے۔ اس انتخابی مہم میں پینٹرز کی چاندی ہے۔ رنگوں سے بھری گاڑی لیے وہ دیواریں پینٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ قدرتی طور پر اس وقت سب سے زیادہ مصروف شخص خود امیدوار ہے۔ اس سے ملنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ ایک منٹ یہاں تو دوسرے منٹ میلوں دور کسی اور گاؤں گلی میں کارنر اجلاس میں خطاب کرتے ملتے ہیں۔ دن میں چودہ چودہ گھنٹے یہ امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں دیوانہ وار گھوم رہے ہیں۔ کئی بڑے سیاسی نام جنوبی پنجاب سے قومی اسمبلی کی پچاس نشستوں پر انتخابی دوڑ میں بھرپور طریقے سے جُٹے ہوئے ہیں۔ ملتان میں قومی اسمبلی کی دو جبکہ خانیوال کی ایک نشست پر اہم اور کانٹے کے مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ این اے 148، دوسرا این اے 151 اور این اے 156 خانیوال کے دوروں سے محسوس ہوا کہ امیدواروں کو بھی ووٹر کے رجحان کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں اگرچہ وہ اس کا برملاء اظہار نہیں کرتے۔ این اے 148 ملتان ون میں سابق ضلعی ناظم اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر مخمدوم شاہ محمود قریشی کے دو مضبوط امیدواروں مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی اور مسلم لیگ (قاف) کے رائے منصب علی خان کے درمیان مقابلہ ہے۔ این اے 151 ملتان چار میں پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کا مقابلہ مسلم لیگ (قاف) کے سابق وفاقی وزیر زراعت ملک سکندر حیات بوسن سے ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے یہاں ایک نئے چہرے ملک ماجد بوچہ کو ٹکٹ دیا ہے تاہم مقابلہ پہلے دو میں ہی دکھائی دے رہا ہے۔ تیسرا اہم انتخابی دنگل ملتان ڈویژن کے سابق علاقے خانیوال کے حلقہ این اے 156 میں متوقع ہے جہاں سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے سید فخر امام اپنی قسمت ایک مرتبہ پھر آزما رہے ہیں۔ ان کے سامنے سمندر پار پاکستانیوں کے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (قاف) کے رضا حیات ہراج جیسے مضبوط امیدوار ہیں۔ زرعی اعتبار سے انتہائی اہم جنوبی پنجاب میں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی مقابلہ اہم سیاسی شخصیات میں نہیں بلکہ مخدوم، رائے، سید، بوسان، ہراج خاندانوں میں ہے۔ اس پسماندہ قرار دیے جانے والے خطے کے لاچار عام کاشت کار اپنی روزی روٹی ہی برابر کرلے تو بہت ہے انتخاب لڑنا اس کی بس کی بات نہیں۔ اگرچہ مذہبی اعتبار سے یہ علاقہ ماضی میں پیروں، صوفیوں اور سیدوں جیسے پرامن نظریاتی لوگوں کا ہے لیکن شاید جہاں پسماندگی ہو وہاں شدت پسندی بھی دکھائی دیتی ہے۔ مولانا مسعود اظہر جیسے نام کے لوگوں کا تعلق جنوبی اضلاع سے ہی ہے۔ ملک میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے تشویش اور غیریقینی بھی ہے، بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے لوگوں میں غم و غصہ بھی ہے، آصف زرداری کی متنازعہ حیثت کااحساس بھی ہے، پسماندگی کی شکایت بھی ہے اور ووٹ سے کوئی خاص تبدیلی لا نہ سکنے پر لاچاری بھی۔ اٹھارہ فروری یقیناً ان کے لیے فیصلے کاایک مشکل دن ہے۔ | اسی بارے میں زرداری دورۂ پنجاب، تفصیلات خفیہ09 February, 2008 | پاکستان شہباز شریف جلسہ، مسلح شخص گرفتار09 February, 2008 | پاکستان گیس قلت:’مِل بند، لاکھوں بیروزگار‘31 January, 2008 | پاکستان مشرف کے تحت انتخابات غیر یقینی؟17 January, 2008 | پاکستان پانی کے اخراج پر کسانوں کا احتجاج01 February, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||