گیس قلت:’مِل بند، لاکھوں بیروزگار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد کے صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کی وجہ سے ٹیکسٹائل اور اس سے وابستہ ڈھائی ہزار چھوٹے بڑے کارخانے اور دیگر ادار ے بند ہوگئے ہیں اور لاکھوں مزدوروں کو بھی بے روزگاری کا سامنا ہے۔ فیصل آباد میں مِل مالکان اور مزدوروں نے بند کارخانوں پر سیاہ پرچم لہرائے اور بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرے کیے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے دفتر کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا جس میں پانچ سو کے قریب متاثرہ مالکان اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے شرکت کی۔ پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین طاہر اسحاق نے کہا ہے کہ چھبیس جنوری کو کوئی نوٹس دیے بغیر اچانک فیصل آباد کے صنعتی یونٹوں کو گیس کی سپلائی بند کردی گئی جس سے چلتے یونٹ رک گئے اور ان کے بقول صرف اس ایک دن میں فیصل آباد کی صنعتوں کو پہنچنے والا نقصان اربوں میں تھا۔ ’اس روز جب یونٹ اچانک بند ہوئے تو کیمکل لگا کپڑا جہاں تھا وہیں رہ کر ضائع ہوگیا اور اس نے مشینری کو بھی متاثر کیا‘۔ طاہر اسحاق کا کہنا ہے کہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل اور اس سے وابستہ صنعتوں میں پانچ سے سات لاکھ مزدور کام کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کو روزانہ اجرت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی بندش کی وجہ سے یہ مزدور بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ایک مِل مالک احمد کمال نے کہا ’روزانہ پچاسی کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے اور یہ مسلسل نقصان ناقابل برداشت ہے‘۔ ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کی جانب سے جمعرات کو پاکستان کے قومی اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے ہیں جن میں صدر اور وزیراعظم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فیصل آباد کے ہزاروں کارخانوں کے بند ہونے کا فوری نوٹس لیں۔ اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ان کے اربوں روپے کے برآمدی سودے منسوخ ہو چکے ہیں اور فیصل آباد کی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ ایوان صنعت و تجارت کے سینئر نائب صدر سلیم اختر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی تقسیم کے معاملے میں پنجاب سے امتیازی سلوک رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا دعویٰ کیا کہ سوئی سدرن گیس نے کراچی، سندھ سمیت دیگر حصوں میں گیس کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ سوئی نادرن نے پنجاب کے مختلف علاقوں کی صنعتی فراہمی بند کر دی ہے۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین احمد کمال نے کہا کہ ’جب یہ کہا جارہا ہے کہ ملک کو جو گیس درکار ہے اس کے مقابلے میں بائیس فیصد گیس کم ہے تو پھر سب علاقوں کی گیس میں بائیس فیصد کے لحاظ سے کٹوتی کرنی چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس فیصل آباد اور دیگر شہروں میں سو فیصدگیس بند کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گیس کی لوڈ شیڈنگ میں حصہ ڈالنے کو تیار ہیں لیکن کسی ایک علاقے کوگیس کی سو فیصد فراہمی بند کرنا ناانصافی ہے۔ مِل مالکان اور برآمد کنندگان کے نمائندوں نے جمعرات کو لاہور میں سوئی نادرن گیس کمپنی کے حکام سے ملاقات کی ہے۔ برآمدکنندگان کی تنظیم کے سربراہ طاہر اسحاق نے کہا ’ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ایک روز میں فیصل آباد کے صنعتی یونٹوں کو گیس کی بحالی کا عمل شروع ہوجائے گا‘۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مِل مالکان مزدوروں کے ساتھ ملکر احتجاجی ریلیاں نکالیں گے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں بجلی کا شدید بحران04 January, 2008 | پاکستان ’بجلی کا بحران دس دن جاری رہے گا‘04 January, 2008 | پاکستان بلوچستان: آٹے کا بحران جاری06 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں سردی کی شدید لہر22 January, 2008 | پاکستان بلوچستان میں سردی کی نئی لہر25 January, 2008 | پاکستان قلات: گیس پائپ لائن تباہ12 January, 2008 | پاکستان سی این جی کے مالکان پریشان17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||