BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 January, 2008, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں سردی کی نئی لہر

گیس ہیٹر
گیس کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر سردی کی لہر آئی ہے اور قلات اور نوشکی میں برف باری سے کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانی کے پائپ پھٹ گئے ہیں۔

ان علاقوں میں درجہ حرارت منفی بارہ سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں معمول سے بڑھ کر بارشیں ہوئی ہیں۔

قلات اور نوشکی میں اس ماہ یہ دوسری مرتبہ برف باری ہو رہی ہے جس سے معمول کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ قلات میں بڑی تعداد میں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانی کے پائپ پھٹ جانے سے لوگوں کو پانی نہیں مل رہا اور گیس کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے کہ اکثر دیہاتوں کو جانے والے راستے بند ہیں اور قلات کے قریب پہاڑی سلسلہ ہربوئی میں کوئی دو فٹ تک برف پڑی ہے۔ ہربوئی صنوبر کے جنگلات کے حوالے سے مشہور ہے۔

کوئٹہ میں آج صبح بعض مقامات پر ہلکی برف پڑی ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئٹہ کا درجہ حرات آج صبح دس بجے منفی سات اور قلات کا منفی بارہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادھر نوشکی اور قریبی علاقوں میں برف پڑی ہے جس سے کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی سرحد کے قریب واقع تحصیل تفتان کے نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ بارشوں اور برفباری سے کئی علاقوں کو جانے والے راستے بند ہو گئے ہیں ۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سیف اللہ شامی نے بتایا ہے کہ اس ماہ بارشوں سے کئی علاقوں میں خشک سالی کی شدت میں بڑی حد تک کمی واقع ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قلات، دالبندین، کوئٹہ، نوشکی اور ادھر ژوب، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ کے علاقوں میں معمول سے بڑھ کر بارشیں ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ تین سال پہلے تک دالبندین اور چاغی کے علاقوں سے لوگوں نے پانی کی قلت کی وجہ سے نقل مکانی شروع کر دی تھی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ بارشوں سے زراعت اور باغبانی پر اچھے اثرات پڑیں گے اور دو روز بعد مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان: آٹے کا بحران جاری
06 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد