BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
200 سےزائدہلاک، سینکڑوں لاپتہ

پاکستان میں سیلاب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاجا رہا ہے
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اب تک بلوچستان اور سندھ میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد دو سو گیارہ ہوگئی ہے جس میں سندھ کے ہلاک شدگان میں کراچی میں ہونے والی بارش کا شکار بننے والے نواسی افراد بھی شامل ہیں۔

بلوچستان کے چیف سیکریٹری کے بی رند نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے 122 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ 250 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہلاکتوں کے حوالے سے تاحال متضاد اطلاعات ہی موصول ہو رہی ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق صرف گزشتہ چار روز میں ہلاک ہو نے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ لیکن سرکاری حکام کے مطابق انھوں نے وہ اعداد و شمار سامنے رکھے ہیں جو تصدیق شدہ ہیں۔

پاکستان میں امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں 200 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ صوبے کے پندرہ اضلاع میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دو ملین کے قریب ہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

چیف سیکرٹری کے بی رند نے بتایا کہ جانی نقصان کے حوالے سے خضدار جبکہ مالی اور دیگر حوالوں سے تربت اور جھل مگسی کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب سے کوئی ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور تقریباً اسی فیصد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔

وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے گزشتہ روز متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا تھا کہ صوبے میں کوئی ایک کھرب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے

پاکستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فوج کے پندرہ ہزار جوان متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ کئی دنوں سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد پینےکے پانی اور بجلی کی سہولت سے محروم ہے جبکہ ان علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے

متاثرہ علاقوں میں سیلاب کی موجودہ صورت حال امدادی سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رزاق بگٹی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیا کی تقسیم اس وقت بڑے چلینج کی شکل اختیار کر گئی ہے کیونکہ ان علاقوں تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود ہو گئے ہیں۔

ریلیف حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کو اس وقت خیموں کی شدید ضرورت ہے۔ریلیف کمشنر علی گل کرد نے بتایا کہ سینکڑوں کی تعداد میں دیہات زیرآب آ گئے ہیں اور کچھ علاقوں میں تو 90 فیصد فصلیں، مال مویشی اور گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اس سے قبل حکومتی ذرائع نے قدرتی آفت کے نتیجے میں بلوچستان میں اب تک ایک سو گیارہ جبکہ سندھ میں سو افراد کے ہلاک ہونےاور بلوچستان کے بارہ اضلاع میں کم از کم گیارہ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔تاہم مقامی لوگوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداو شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

News image
 سینکڑوں کی تعداد میں دیہات زیرآب آ گئے ہیں اور کچھ علاقوں میں تو 90 فیصد فصلیں، مال مویشی اور گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔
ریلیف کمشنر علی گل کرد

ادھر بلوچستان سے آنے والے سیلابی پانی نے سارے حفاظتی بند توڑ کر سندھ کے شہر شہداد کوٹ کا رخ کر دیا ہے۔ محکمۂ آبپاشی کے چیف انجنیئر عطا محمد سومرو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلابی پانی شہدادکوٹ شہر کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہدادکوٹ ڈرین میں ڈیڑھ سو فٹ کا نیا شگاف پڑا ہے جسے بند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ شہداد کوٹ ڈرین میں گزشتہ روز بھی تین مقامات پر شگاف پڑے تھے جنہیں بند کیا گیا تھا۔ شگاف بند کرنے کے لیے ضلع سانگھڑ سے پچاس ماہرین کو طلب کیا گیا ہے۔

سیلابی پانی سے شہدادکوٹ کی تحصیل ہیڈکوارٹر قبو سعید خان زیر آب آگئی ہے جبکہ شہداد کوٹ کے شہری سیلابی پانی کے خوف سے نقل مکانی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

شہداد کوٹ کے تحصیل ناظم سردار جروار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ سندھ کے ضلع دادو میں پانی کی سطح میں آج پہلی بار کمی واقع ہوئی ہے اور منچھر جھیل میں جمع سیلابی پانی کو دریائے سندھ میں تین مقامات سے چھوڑا جا رہا ہے۔

دادو ضلع کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ کے قریب سالارے نامی سیلابی نالے سے دو آٹھ سالہ بچوں کی لاشیں بھی ملی ہیں۔معصوم بچوں قمبر علی اور آزاد کے والدین کا کہنا ہے کہ بچے مال مویشی چروانے کے لیے گئے تھے مگر پانی کی زد میں آگئے۔ سندھ کے وزیراعلی ارباب غلام رحیم دو دنوں سے متاثرہ علاقے میں موجود ہیں مگر متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔

سندھ آبادگار بورڈ کے رہنما اسحاق مغیری نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کو پانی سے نکالنے اور نقل مکانی کرنے میں ان کی کوئی سرکاری محکمہ مدد نہیں کر رہا اور علاقے میں کشتیاں تک نہیں پہنچائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں گوٹھوں سے نقل مکانی کی ہے۔

طوفان اور وارننگ؟
طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی: متاثرین
 متاثرین سیلاب’ایک دم برا حال ہے‘
’بچے بھوک سے مر رہے ہیں، سمندر بند پڑا ہے ‘
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
اسی بارے میں
مزید بارشوں کی پیشگوئی
01 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد