پاکستان میں بجلی کا شدید بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جاری بجلی کے حالیہ بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) نے صوبہ پنجاب کے چار سٹیل یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں لیپکو، گیسکو، فیسکو اور آئی ایس کو شامل ہیں۔ لاہور میں اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پاور سسٹم آپریشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پیپکو کے عہدیداروں کے علاوہ تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں، ارسا، سوئی سدرن، سوئی نادرن اور ریلوے کے حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں دو اہم فیصلے کیے گئے جن میں چار سٹیل پلانٹوں کو پندرہ دنوں کے لیے بند کرنا اور تمام پاور پلانٹوں کو تیل کی فوری سپلائی فراہم کرنا شامل تھا۔ سٹیل پلانٹوں کی بندش سے ’پیپکو‘ کو یومیہ چار سو میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی جبکہ تیل کی فراہمی کے لیے پندرہ خصوصی ٹرینیں کراچی سے روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل انرجی منجمنٹ اینڈ کنزیومر طاہر بشارت پراچہ نے بی بی سی کے عباس نقوی کو بتایا کہ واپڈا کے پاس تیل موجود ہے تاہم بجلی پیدا کرنے والے پندرہ میں سے بیشتر نجی بجلی گھروں کے پاس صرف دس فیصد تیل موجود ہے جو کہ کم از کم ساٹھ فیصد ہونا چاہیے۔ طاہر بشارت پراچہ کا کہنا ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آٹھ جنوری سے پچیس جنوری تک ملک بھر کے کاروباری مراکز کو شام ساڑھے چھ بجے سے رات ساڑھے آٹھ بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حالیہ برس پاکستان کے تین بڑے پانی کے ذخائر منگلا، تربیلہ اور چشمہ ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی کم ہوگئی جس کی وجہ اس برس ان ڈیموں میں قریباً بتیس فیصد پانی کم آیا۔ طاہر بشارت پراچہ کا کہنا تھا کہ پاور ہاؤسز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پلانٹ صرف اور صرف تیل سے چلائے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کو دس ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے تاہم اس وقت سینٹل گرڈ اسٹیشن سے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کو دو ہزار میگاواٹ کم بجلی سپلائی کی جا رہی ہے۔
بجلی اور گیس کی کمی سے پورے ملک کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ پشاور میں بی بی سی اردو کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ حکومت نے گیس کی کمی پر قابو پانے کے لیے صوبے بھر کے ڈیڑھ سو سے زائد کارخانوں کی گیس عارضی طور پر منقطع کر دی ہے جبکہ صوبہ سرحد کے شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 15 سے 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جس کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق اندرونِ بلوچستان بالخصوص جنوبی اور شمالی بلوچستان میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے جس کے خلاف نوشکی کے عوام نے سنیچر سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سکھر سے نثار کھوکھر کا کہنا ہے کہ اندرونِ سندھ میں بجلی اورگیس کی زیادہ کمی لاڑکانہ اور سکھر کے علاقوں میں ہے جہاں بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد زیادہ ہنگامے ہوئے تھے ان علاقوں میں ابھی کاروبارِ زندگی مکمل بحال ہی نہیں ہوئی تھی کہ اس بحران سے کاروبار دوبارہ متاثر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ذوالفقار علی کے مطابق کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقے بجلی اور گیس کی کمی کا شکار ہیں جہاں بیشتر لوگ اب بھی عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ ان علاقوں میں 15 سے 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے تعمیرِ نو کے کام بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمۂ برقیات کے چیف انجینئر مشتاق گورسی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کے باعث کشمیر کے اس علاقے کے شہروں میں چوبیس گھنٹے میں بارہ سے پندرہ گھنٹے برقی رو بند رہتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ دورانیہ پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی بجلی کی کل ضرورت چار سو میگاواٹ ہے جس میں مقامی طور پر چھتیس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور باقی لگ بھگ پونے چار سو میگاواٹ پاکستان الیکڑک پاور کمپنی یعنی پیپکو پوری کرتی ہے۔ | اسی بارے میں سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج03 January, 2008 | پاکستان لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ01 September, 2007 | پاکستان کراچی: بجلی کا بحران شدید تر21 June, 2007 | پاکستان کراچی میں بجلی کا شدید بحران 14 June, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ: سڑکیں بند، مظاہرے13 June, 2007 | پاکستان ’آٹھ بجے کے بعد بازار بندہونگے‘04 May, 2007 | پاکستان کراچی: لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج20 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||