BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 January, 2008, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج

پشاور سمیت صوبہ کے زیادہ تر اضلاع میں شہریوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے
بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے دوران گیس پلانٹ اور بجلی ٹاورز کو پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے ملک کے بعض دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سرحد میں گیس اور بجلی کی پیدا ہونے والی قلت کے بعد شروع ہونے والی طویل ترین لوڈشیڈنگ کیخلاف صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیےگئے ہیں۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ کے زیادہ تر اضلاع میں بجلی کی تقریبا دس دس گھنٹے تک طویل ترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس کی عدم فراہمی کے خلاف گزشتہ دو روز سے مختلف شہروں میں عام شہریوں کی جانب سے ہونے والے احتجاجی مظاہرے جمعرات کو بھی جاری رہے۔

جمعرات کو عام لوگوں نے ضلع مردان اور چارسدہ میں احتجاجی مظاہرے کیے اور کئی گھنٹوں تک سڑکیں بند رکھیں۔چارسدہ کے علاقے تنگئی سے مشتعل افراد کی جانب سے واپڈا کی ایک گاڑی اور دفتر کو نذر آتش کرنے کی اطلاع ملی ہے۔

گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پشاور سمیت صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع میں معمولات زندگی سخت متاثر ہوئی ہے۔جبکہ ہوٹلوں، دفاتر اور کاروباری مراکز کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔سی این جی اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔

صوبے میں شہریوں کی شدید احتجاجی کے بعد جمعرات کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سربراہ سخی مرجان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں کے دوران حبکو پاور جنریشن کے دو ٹاورز کو نقصان پہنچایا گیا جسکے نتیجے میں پورے ملک کو بجلی فراہم کرنے میں بارہ ہزار میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو پہلے ہی سے تین ہزار میگاواٹ بجلی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ ٹاورز کی تباہی اور سردی کی شدت میں اضافہ کی وجہ سے اسکی کمی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سخی مرجان کا کہنا ہے کہ حبکو ٹاورز کے مرمت کا کام جاری ہے اور بجلی کا یہ بحران دو ہفتے تک مزید رہے گا۔

سوئی نادرن گیس کمپنی صوبہ سرحد کے جنرل منیجر اقبال حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں زمزمہ گیس فیلڈ میں خرابی کی وجہ سے صوبہ سرحد کوگیس کی سپلائی میں پچاس فیصد تک کی کمی آئی ہے اور انہوں نے گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پشاور ڈویژن میں واقع ایک سو اکیس کارخانوں کو گیس کی سپلائی معطل کردی ہے۔

انکے بقول کارخانوں کو گیس کی سپلائی کی معطلی کے باوجود گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور زیادہ تر علاقوں سےگیس کے پریشر کے کم ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمزمہ گیس فیلڈ کے مرمت کا کام جاری ہے اور آئندہ دو دنوں کے دوران گیس کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوجائےگا۔

دوسری طرف سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد آصف نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انکے دو سو پچاس کارخانوں کو گیس کی سپلائی کو معطل کیاگیا ہے جسکی وجہ سے پیداوار میں پچاس فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ
01 September, 2007 | پاکستان
بلوچستان میں آٹے کی قلت
03 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد