بلوچستان میں آٹے کی قلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر آٹے کا بحران شروع ہوگیا ہے جہاں سرکاری آٹے کی خریداری کے لیے بڑی بڑی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور منڈی میں بیس کلو تھیلے کی قیمت پانچ سو روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات پر یوٹیلٹی سٹورز اور سڑکوں پر کھڑے ٹرکوں کے پیچھے لوگوں کی قطاریں معمول بنتی جا رہی ہیں جہاں سے محدود پیمانے پر لوگوں کو سرکاری قیمت پر آٹا مل جاتا ہے۔ مہینے کے شروع کے دنوں میں جب لوگوں کو تنخواہیں مل جاتی ہیں تو کریانہ مرچنٹس کے پاس لوگوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی کا کیا رونا روئیں گے اب تو حالت یہ ہے کہ صرف آٹا مل جائے تو روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کر لیں گے۔ منڈی میں آٹا پچیس سے چھبیس روپے کلو سے تجاوز کر چکا ہے اور بیس کلو کا تھیلہ اب پانچ سو اور ساڑھے پانچ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پیچھے سے کم گندم آرہی ہے۔ محکمہ خوراک کے حکام کے مطابق اس وقت کوئٹہ شہر میں ایک سو تیس فیئر پرائس شاپ اور تیس خصوصی مقامات پر سرکاری نرخوں پر آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔ آٹے کے ایک خریدار نے قطار میں کھڑے ہوئے کہا یہاں آٹا تو سرکاری نرخ پر مل جاتا ہے لیکن وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ اگرچہ نگراں وزیر اعلٰی محمد صالح بھوتانی نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے لیکن شہر میں اس قسم کی کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی۔ | اسی بارے میں پاکستان میں آٹے کا تیرھواں مہینہ25 February, 2004 | پاکستان بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان سندھ میں آٹے کا بحران 09 December, 2007 | پاکستان پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ 13 December, 2007 | پاکستان گندم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ 17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||