سندھ میں آٹے کا بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سمیت صوبہ سندھ کے دیگر علاقوں میں گندم کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے جس کے باعث آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آٹے کی دس کلوگرام کی بوری جو پہلے ایک سو اسی روپے تک فروخت ہورہی تھی اب اس کی قیمت دوسو چالیس روپے تک جا پہنچی ہے۔ فلور ملز مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان کی مِلوں کو بروقت گندم کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو کئی فلور ملیں بند ہوسکتی ہیں۔ اس وقت کراچی میں اسّی سے سو فلور ملیں گندم پیسنے کا کام کررہی ہیں اور ان کو سندھ میں سرکاری ذخیرے سے صرف بیس فیصد گندم فراہم کی جارہی ہے۔ سندھ میں گندم کے ذخیرے میں زیادہ تر درآمد کی گئی گندم ہے جس کا معیار مقامی گندم سے گھٹیا ہے لہذٰا فلور مل مالکان یہ گندم خریدنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے مختلف حلقوں کے مطابق اس سال گندم کی پیداورا کا تخمینہ تئیس ملین ٹن لگایا گیا تھا جبکہ ملک میں گندم کی کھپت ساڑھے اکیس ملین ٹن ہے۔ حکومت نے زائد گندم کی درآمد کی اجازت دے دی تھی جس کے باعث یہ بحران پیدا ہوا۔ گندم کے بحران کے بعد سابق حکومت نے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں سے اب تک ساڑھے چھبیس ہزار ٹن گندم درآمد کی جاچکی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین چودھری انصر جاوید نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ سندھ کے گوداموں سے فلور ملوں کو بہت کم گندم کی فراہمی ہو رہی ہے تاہم صوبائی حکومت نے پنجاب سے گندم خریدنے کی اجازت دے دی ہے لیکن بقرعید کی وجہ سے ٹرانسپورٹ میں مشکلات درپیش ہیں اور گندم کی ترسیل انتہائی سُست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے حکومت کے اعلٰی حکام سے مذاکرات کیئے ہیں اور انہیں درپیش تمام مشکلات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے پنجاب سے کراچی کی فلور ملوں تک گندم کی ترسیل کو یقینی بنائے تاکہ آٹے کے بحران پر قابو پایا جاسکے۔ دوسری جانب، انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی افغانستان برآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے یا پھر سو فیصد برآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے۔ انہوں دعویٰ کیا کہ حکومت پانچ سو ڈالر فی ٹن گندم برآمد کررہی ہے جبکہ ملک میں اس کی قیمت پونے تین سو ڈالر فی ٹن ہے لہذٰا برآمدی قیمت میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ ’حکومت نے گندم کی افغانستان برآمد پر پابندی عائد کرنے کی بجائے پینتیس فیصد ڈیوٹی عائد کی ہے جبکہ یہ کم از کم پچھتر فیصد یا زیادہ سے زیادہ سو فیصد ہونا چاہیے تاکہ ملک میں گندم کی کمی پر قابو پانا ممکن بنایا جاسکے۔‘ گندم کے بحران کے باوجود بازاروں میں آٹا دستیاب ہے لیکن اس میں کمی کے ساتھ گرانی دیکھنے میں آئی ہے۔ صوبائی محکمہ خوراک کے نگراں وزیر اعجاز شاہ شیرازی اور محکمے کے دیگر عہدیداران سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کے باوجود رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔ | اسی بارے میں آٹے کا بحران21 November, 2003 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان پاکستان میں آٹے کا تیرھواں مہینہ25 February, 2004 | پاکستان بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||