BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 December, 2007, 19:03 GMT 00:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ

روٹی کی قیمت پہلے ہی پانچ روپے ہو چکی ہے
پاکستان بھر میں ان دنوں آٹے کا سخت بحران ہے، جہاں ملک کے کئی شہروں میں آٹا مارکیٹ میں دستیاب نہیں وہاں اس کی قیمت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں فی کلو آٹا بیس سے پچیس روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقات بہت پریشان ہیں۔

پاکستان میں آٹے کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کو ایک اجلاس بلایا۔جس میں صدر کو وزارت خوراک و زراعت کی طرف سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں گندم ضرورت سے زیادہ موجود ہے لیکن آٹے کا بحران مصنوعی ہے۔

حکام کے مطابق صدر کو بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے بازار میں بھی گندم کی قیمت فی چالیس کلو گرام سات سو روپے ہوگئی ہے ۔ لیکن حکومت آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے فلور ملز کو چار سو پیسنٹھ روپے میں فی من گندم فراہم کر رہی ہے۔

اس بارے میں وزارت خوراک کے ایگریکلچرل ڈیولپمینٹ کمشنر اور گندم کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر قادر بخش بلوچ سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آٹے کی قلت کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق ایک تو دنیا بھر میں گندم مہنگی ہونے اور پاکستان میں سستی ہونے کی وجہ سے برآمد اور سمگل ہو رہی تھی اور دوسرا ملک میں نجی مارکیٹ کے نرخوں سے سرکاری نرخ ڈھائی سو روپے کم ہیں۔

وزارت خوراک وزراعت کے سینئر افسر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوگئی ہیں اور چوبیس گھنٹے میں ملک بھر میں آٹے کی دستیابی اور قیمتیں معمول کے مطابق آجائیں گی۔

ڈاکٹر قادر بخش بلوچ نے بتایا کہ پاکستان میں امسال گندم کی پیداوار دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن ہوئی اور تقریباً چار لاکھ ٹن سٹاک پچھلے سال کا تھا۔ یوں اس برس کل دو کروڑ سینتیس لاکھ ٹن کا سٹاک تھا۔

آٹا
آٹا بازاروں تو دستیاب ہے لیکن اس کی قیمت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے

سرحد میں آٹے کی قیمت میں بدستور اضافہ

پشاور میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد میں گزشتہ دو ماہ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ایک بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

سرحد میں ویسے تو سارا سال آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے لیکن آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آٹا ڈیلروں کے مطابق پنچاب اور سندھ میں جاری آٹا بحران اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

پشاور اور صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع میں میں آٹا بازاروں اور مارکیٹوں میں تو دستیاب ہے لیکن اس کی قیمت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

پشاور میں آٹا ڈیلروں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے سے لیکر اب تک بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں سو روپے اور چالیس کلوگرام تھیلے کی قیمتوں میں چارسو روپے تک اضافہ ہوا ہے اور یہ گرانی بدستور جاری ہے۔

رام پورہ گیٹ میں ایک آٹا ڈیلر حاجی ریاض نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سرحد میں آٹا بحران کوئی نئی بات نہیں کیونکہ قیمتوں میں کمی بیشی تو سارا سال جاری رہتی ہے۔

ان کے مطابق ستمبر کے بعد جب گندم کا سٹاک مارکیٹوں اور گھروں میں ختم ہوتا ہے تو آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور ہر سال کے آخر تک یہ اضافہ بتدریج جاری رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت فلورملز مالکان کو گندم کے کوٹے میں اضافہ نہیں کرتی یہ اتار چڑھاؤ تو جاری رہے گا۔

پشاور میں یوٹیلٹی سٹورز پر سرکاری ریٹ پر آٹے کی فروخت کی وجہ سے وہاں صبح سے لیکر شام تک لوگ قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ تاہم آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے یوٹیلٹی سٹورز پر بھی آٹے کی قلت پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

صوبہ سرحد میں اس وقت پرائیوٹ سیکٹر میں تین سو سے زائد فلور ملز قائم ہیں جن میں آدھے سے زیادہ گندم نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ سرحد میں فلورملز مالکان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے روزانہ کے حساب سے ہر فلور ملز کو ستر بوری گندم فراہم کی جاتی ہے جو ان کے مطابق بہت کم ہے۔

پاکستان فلورملز مالکان صوبہ سرحد کے صدر محمد نعیم بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جو ملز چل رہے ہیں وہ اوپن مارکیٹ سے گندم خرید کر کام چلا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں جاری آٹے کے حالیہ بحران میں وزیراعظم کے حکم کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں فلورملوں کا گندم کوٹہ بڑھا دیا گیا ہے لیکن سرحد میں حکومت نے تاحال اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
سندھ میں آٹے کا بحران
09 December, 2007 | پاکستان
آٹے کا بحران
21 November, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد