لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمینداروں اور کسانوں نے ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں کہا ہے کہ ان کی فصلیں اور باغات ایک طرف سیلاب سے تباہ ہو گئے ہیں تو دوسری طرف بجلی کی بندش سے نقصان ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف آئے روز مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ فصلوں اور باغات کی آبپاشی کے موسم میں زمیندار احتجاجی مظاہرے شروع کر دیتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ خاص انہی دنوں میں یا تو بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے اور یا مرمت کی غرض سے بجلی بند کر دی جاتی ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرے میں زمینداروں اور کسانوں کے نمائندوں نے حکومت اور بجلی کے محکمے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر علاقوں میں صرف نو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اس سے پہلے اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈ نگ کی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق گندم کی آبپاشی کے موسم میں بھی بجلی بند کر دی گئی تھی اور پھر مرمت کی غرض سے اس وقت لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی جب فصلوں اور باغات کو پانی دینے کا موسم تھا۔ زمینداروں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمان بازیی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے خشک سالی پھر سیلاب اور بجلی کی بندش سے زراعت اور باغبانی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زمینداروں اور کسانوں نے کہا ہے کہ زمین کی تیاری اور بیج ڈالنے کے بعد جب پانی مہیا نہیں ہوتا تو ایک زمیندار کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی سیلاب اور اب لوڈ شیڈنگ سے زمینداروں کا کوئی دو کھرب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس بارے میں بجلی کے محکمے کے ترجمان نے کہا ہے کہ اب صرف آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور دوسرا یہ کہ اکثر زمینداروں نے بجلی کے بل ادا نہیں کیے جس وجہ سے ان کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں خواتین کا احتجاج18 August, 2007 | پاکستان عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ23 August, 2007 | پاکستان امداد نہ ملنے پر متاثرین عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان بگٹی، بھگوان اور مہاجر27 August, 2007 | پاکستان سوئی: گیس پائپ لائن کو نقصان 30 August, 2007 | پاکستان ’میرا جہیز اور ارمان بھی بہہ گئے‘31 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||